سندھ کے صوبائی وزیرِ اطلاعات شرجیل انعام میمن نے ایم کیو ایم رہنماؤں کے حالیہ بیانات اور سیاسی حکمتِ عملی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم کے پاس اب کوئی سیاسی بیانیہ باقی نہیں رہا، اور وہ اپنے وٹ بینک کو بچانے اور سیاسی طور پر زندہ رہنے کے لیے دانستہ طور پر لسانی تعصب کو ہوا دے رہی ہے۔
شرجیل میمن نے واضح کیا کہ اس قسم کی تمام تر اشتعال انگیزیوں کے باوجود سندھ حکومت انتہائی صبر اور تحمل کا مظاہرہ کر رہی ہے تاکہ صوبے کے امن و امان کو کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔
نئے صوبوں کی تشکیل کے مطالبے پر بات کرتے ہوئے صوبائی وزیر نے کہا کہ کسی بھی ایک سیاسی جماعت یا گروہ کے پاس یہ اختیار نہیں کہ وہ اپنی مرضی سے نئے صوبے بنائے یا صوبوں کی تقسیم کا فیصلہ کرے۔ انہوں نے زور دیا کہ نئے صوبوں کے قیام یا انتظامی تبدیلیوں کا ایک واضح آئینی طریقہ کار ملک کے آئین میں موجود ہے، جس کے تحت فائنل فیصلہ پارلیمنٹ اور عوامی نمائندوں کے پاس ہی ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کوئی بھی فرد، رہنما یا جماعت آئین و قانون سے بالاتر نہیں ہوسکتی اور نہ ہی آئینی حدود سے تجاوز کرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔ انہوں نے دہرایا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور حکومتِ سندھ اپنے اصولی موقف پر مکمل طور پر قائم ہیں اور اس سلسلے میں کسی قسم کا ابہام نہیں ہے۔
علاوہ ازیں، شرجیل انعام میمن نے تمام سیاسی جماعتوں کو مشورہ دیا کہ وہ بانی پی ٹی آئی کی صحت اور طبی امور کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے سے گریز کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ جمہوریت میں سیاسی اختلافات اور نظریاتی جنگ ایک قدرتی عمل ہیں، مگر انسائیت اور کسی بھی انسان کی صحت جیسے حساس معاملے کو سیاسی تنازع کا روپ نہیں دینا چاہیے۔
انہوں نے تمام سیاسی قوتوں کو قانونی اور آئینی دائرے کے اندر رہ کر سیاست کرنے اور انسانی و طبی معاملات کو سیاست سے پاک رکھنے کی ہدایت کی۔