سندھ کے ضلع نواب شاہ کی تحصیل قاضی احمد میں مبینہ سود خوری اور مالی پریشانیوں سے تنگ خاتون نے اپنے چار بچوں کو فروخت کرنے کا اعلان کرکے حکام سے مدد کی اپیل کردی۔ شمشاد بی بی نامی خاتون کا کہنا ہے کہ قرض کی ادائیگی کے لیے مسلسل دباؤ ڈالا جا رہا ہے، جبکہ ان کے شوہر بھی لاپتا ہیں جس کے باعث پورا خاندان شدید مشکلات کا شکار ہے۔
مقامی پریس کلب میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے شمشاد بی بی نے الزام عائد کیا کہ انور شاہ لکھیاری نامی شخص ان سے 20 لاکھ روپے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ خاتون کے مطابق ان کے مالی حالات اس قدر خراب ہو چکے ہیں کہ اتنی بڑی رقم کا انتظام کرنا ممکن نہیں رہا، جبکہ مسلسل تقاضوں نے ان کا ذہنی سکون بھی چھین لیا ہے۔
شمشاد بی بی نے بتایا کہ حالات سے مجبور ہوکر انہوں نے اپنے چار بچوں کو فروخت کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ان کے بقول یہ فیصلہ شدید مالی اور نفسیاتی دباؤ کے باعث سامنے آیا ہے، کیونکہ وہ اپنے خاندان کو درپیش مشکلات سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں دیکھ پا رہیں۔
خاتون نے ایک اور سنگین الزام لگاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان کے شوہر اللہ رکھیو کھوکھر کو مبینہ طور پر پولیس کی مدد سے لاپتا کروایا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شوہر کی عدم موجودگی نے گھریلو مسائل میں مزید اضافہ کردیا ہے اور وہ بچوں کے مستقبل کے حوالے سے سخت پریشان ہیں۔
شمشاد بی بی نے وزیر داخلہ سندھ، آئی جی سندھ اور ڈی آئی جی شہید بینظیر آباد سے فوری نوٹس لینے کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان کے شوہر کو تلاش کرکے بحفاظت گھر واپس لایا جائے، رقم کے مطالبے اور مبینہ سود خوری کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور ذمہ دار ثابت ہونے والے افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
متاثرہ خاتون نے حکام سے اپنے خاندان کے تحفظ اور انصاف کی فراہمی کی بھی اپیل کی ہے۔ تاہم انور شاہ لکھیاری اور پولیس پر لگائے گئے الزامات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی، جبکہ متعلقہ فریقین کا مؤقف سامنے آنا باقی ہے۔