لاہور ہائیکورٹ کا نورین نیازی کی بیٹیوں سے ملاقات کروانے کا حکم

لاہور ہائیکورٹ نے یہ حکم دیا ہے کہ کوٹ لکھپت جیل میں نظر بند سابق وزیر اعظم عمران خان کی بہن نورین نیازی کی منگل کے روز ان کی بیٹیوں سے ملاقات کروائی جائے۔

لاہور ہائیکورٹ نے یہ حکم دیا ہے کہ کوٹ لکھپت جیل میں نظر بند سابق وزیر اعظم عمران خان کی بہن نورین نیازی کی منگل کے روز ان کی بیٹیوں سے ملاقات کروائی جائے۔

عمران خان کی بہنوں کے وکیل رانا مدثر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ’عدالت نے نورین نیازی اور ڈاکٹر عظمیٰ خان کے کیس میں نورین نیازی کی ان کی بیٹیوں سے کل ایک گھنٹے کی ملاقات کا حکم دیا ہے اور ڈی سی لاہور کو چار نومبر کو رپورٹ کے ہمراہ ذاتی حیثیت میں طلب کیا ہے۔‘

یاد رہے کہ عمران خان کی بہن نورین نیازی اس وقت لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں نظر بند ہیں۔ گزشتہ ہفتے طبیعت خراب ہونے کے باعث انھیں جیل سے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی منتقل کیا گیا تھا۔ ان کے وکیل اور خاندان کا دعویٰ تھا کہ نورین نیازی کی طبیعت کے بارے میں جیل اور ہسپتال حکام کی جانب سے انھیں کسی قسم کی معلومات فراہم نہیں کی جا رہی تھیں، جس کے بعد انھوں نے عدالت میں ملاقات کی درخواست دائر کی تھی۔ اس درخواست کی سماعت آج لاہور ہائیکورٹ میں ہوئی۔

لاہور ہائیکورٹ میں آج ہونے والی سماعت کے دوران بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کی نظر بندی میں توسیع اور نورین نیازی کے علاج سے متعلق درخواستوں پر عدالت نے ہوم ڈیپارٹمنٹ سے دوپہر 2 بجے رپورٹ طلب کی تھی۔ جسٹس عبہر گل خان نے شاہ ریز خان اور سکینہ بی بی کی درخواستوں پر سماعت کی۔

سابق وزیر اعظم عمران خان کی کی بہنوں کے وکیل رانا مدثر نے عدالت کو بتایا کہ علیمہ خان، نورین نیازی اور ڈاکٹر عظمیٰ خان کی نظر بندی میں توسیع کر دی گئی ہے۔

دوسری جانب سلمان اکرم راجہ نے عدالت سے درخواست کی کہ علیمہ خان کا ڈرائیور ایک غریب اور غیر سیاسی شخص ہے، تاہم اس کی نظر بندی میں بھی توسیع کر دی گئی ہے۔ انھوں نے استدعا کی کہ ڈرائیور کے معاملے میں رعایت دی جائے کیونکہ اس کا خاندان شدید پریشانی کا شکار ہے۔

جس پر جسٹس عبہر گل خان نے کہا کہ دونوں کیسز میں رپورٹ طلب کی گئی ہے، پہلے اسے دیکھ لیتے ہیں۔ اگر معاملہ زیادہ اہم تھا تو آپ ڈرائیور کی الگ درخواست دائر کر دیتے۔ آپ نے درخواستیں ایک ساتھ دی ہیں، اس لیے رپورٹ بھی اکٹھی منگوائی جائے گی۔

عدالت نے ان کیسز کی سماعت 4 نومبر تک ملتوی کر دی۔ دوسری جانب وکیل رانا مدثر نے عدالت سے بار بار استدعا کی کہ علیمہ خان کا کیس بھی پرسوں کے لیے مقرر کیا جائے، تاہم عدالت نے یہ درخواست منظور نہیں کی اور علیمہ خان کی نظر بندی سے متعلق کیس آئندہ ہفتے تک ملتوی کر دیا۔

عمران خان کی بہنیں علیمہ خان، عظمیٰ خان اور نورین نیازی کو ستمبر میں اس وقت حراست میں لیا گیا تھا جب پی ٹی آئی اسلام آباد کی جانب احتجاجی مارچ کی تیاری کر رہی تھی۔

علیمہ خان کو 20 ستمبر جبکہ عظمیٰ خان اور نورین نیازی کو 21 ستمبر کو پنجاب مینٹیننس آف پبلک آرڈر (ایم پی او) آرڈیننس 1960 کے تحت حراست میں لیا گیا تھا۔ ابتدائی طور پر ان کی نظر بندی 30 دن کے لیے منظور کی گئی تھی، تاہم سات اکتوبر کو کوٹ لکھپت جیل میں ان کی حراست میں مزید 30 دن کی توسیع کر دی گئی تھی۔

دوسری جانب 26 اکتوبر کو لاہور ہائی کورٹ نے عمران خان کی تینوں بہنوں کی رہائی کے لیے دائر درخواست نمٹا دی تھی، جب پنجاب حکومت نے عدالت کو بتایا کہ ان کی نظر بندی میں مزید 30 دن کی توسیع کر دی گئی ہے۔

نورین نیازی کی صحت سے متعلق خدشات

گذشتہ ماہ نورین نیازی کی جیل میں طبیعت خراب ہونے کے بعد انھیں لاہور کے پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی (پی آئی سی) منتقل کیا گیا تھا۔

نورین نیازی کے وکیل رانا مدثر عمر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ ’70 سالہ نورین نیازی کی صحت جیل میں بگڑ گئی تھی، جس کے باعث انھیں علاج کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا۔‘ ان کا دعویٰ تھا کہ ’اہلِ خانہ کو اس منتقلی کے بارے میں آگاہ نہیں کیا گیا۔‘

پاکستان تحریک انصاف نے بھی نورین نیازی کی صحت کے حوالے سے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھیں ’انتہائی تشویشناک حالت‘ میں پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی منتقل کیا گیا۔

بیان میں کہا گیا کہ ’سب سے تشویشناک بات یہ ہے کہ اتنی سنگین صورتحال کے باوجود خاندان کے کسی فرد کو ہسپتال منتقلی سے آگاہ نہیں کیا گیا۔‘ پی ٹی آئی نے حکومت پر الزام لگایا کہ عمران خان کے اہلِ خانہ کو سیاسی بنیادوں پر ہراساں کیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب پنجاب حکومت یا جیل حکام نے ابھی تک اس معاملہ پر کوئی تفصیلات نہیں بتائی ہیں کہ نورین نیازی کو کب اور کیوں ہسپتال منتقل کیا گیا اور کیا ابھی بھی وہ ہسپتال میں ہی داخل ہیں۔

بی بی سی نے پنجاب حکومت کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری سے رابطہ کیا تاہم ان کی جانب سے تاحال کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

عمران خان کے بھتیجے شیر شاہ خان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر دعویٰ کیا ہے کہ خاندان کو نورین نیازی کی ہسپتال منتقلی کے بارے میں آگاہ نہیں کیا گیا۔ انھوں نے لکھا کہ گذشتہ چند گھنٹوں سے سوشل میڈیا پر آنے والی اطلاعات کے بعد خاندان پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی پہنچا، جہاں نورین نیازی زیرِ علاج ہیں۔

شیر شاہ خان کے مطابق وہ اور دیگر اہلِ خانہ ہسپتال میں نورین نیازی کی وارڈ کے باہر موجود رہے، تاہم انھیں اندر جانے یا ان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔ ان کا دعویٰ تھا کہ ’وارڈ کا دروازہ بند ہے اور پولیس اہلکار خاندان کے افراد کو نورین نیازی تک رسائی سے روک رہے ہیں۔‘

ان کی جانب سے چند تصاویر بھی سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی جن میں پولیس اہلکاروں کو ہسپتال کے اندر دیکھا جا سکتا ہے جو بظاہر ’آئی سی یو وارڈ‘ ہے اور ’ڈیپارٹمنٹ آف کارڈیو ویسکلر سرجری‘ لکھا ہوا دیکھا جا سکتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’خاندان کو نورین نیازی کی صحت کے بارے میں شدید تشویش لاحق ہے، خاص طور پر اس لیے کہ وہ ایک ماہ سے زائد عرصے سے حراست میں ہیں اور اس دوران اہلِ خانہ سے دور رہی ہیں۔‘

شیر شاہ خان نے سوال اٹھایا کہ ’نورین نیازی کی طبی حالت کیا ہے، اہلِ خانہ کو ان کی ہسپتال منتقلی کے بارے میں کیوں مطلع نہیں کیا گیا اور خاندان کو ان سے ملاقات سے روکنے کا فیصلہ کس کے حکم پر کیا جا رہا ہے۔‘

انھوں نے مطالبہ کیا کہ ’خاندان کو فوری طور پر نورین نیازی تک رسائی دی جائے، ان کی صحت کے بارے میں مکمل طبی معلومات فراہم کی جائیں اور یہ یقین دہانی کرائی جائے کہ انھیں تمام ضروری طبی سہولیات مہیا کی جا رہی ہیں۔‘

واضح رہے کہ ان دعوؤں پر حکام یا ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا۔

پاکستان تحریک انصاف نے سوشل میڈیا اکاؤنٹ ایکس پر ایک بیان میں عمران خان کی بہن نورین نیازی کی صحت سے متعلق خدشات پر ردِعمل دیتے ہوئے ان کی جیل سے ہسپتال منتقلی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

اس بیان میں کہا گیا ہے کہ 70 سالہ نورین نیازی کو جیل میں مبینہ طور پر صحت بگڑنے کے بعد پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی منتقل کیا گیا، تاہم ان کے اہلِ خانہ کو اس بارے میں آگاہ نہیں کیا گیا۔ بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ ’نورین نیازی کو سیاسی بنیادوں پر حراست میں رکھا گیا ہے اور ان کی صحت کی سنگین صورتحال سے متعلق خاندان کو لاعلم رکھنا بنیادی انسانی حقوق، انسانی وقار اور زیرِ حراست افراد سے متعلق بین الاقوامی اصولوں کے خلاف ہے۔‘

بیان میں سوال اٹھایا گیا کہ ’ایک بیمار اور عمر رسیدہ خاتون کو ہسپتال منتقل کرنے کے بعد ان کے اہلِ خانہ کو ان سے دور رکھنا کس قانون اور کس انتظامی طریقۂ کار کے تحت کیا جا رہا ہے۔‘

پی ٹی آئی نے نورین نیازی کی صحت کے حوالے سے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ان کی طبی حالت سے متعلق تفصیلات اہلِ خانہ کو فراہم کی جائیں اور انھیں اپنی عزیزہ سے ملاقات کی اجازت دی جائے۔

بیان میں مطالبہ کیا گیا کہ ان کی صحت کے بارے میں فوری طور پر شفاف معلومات فراہم کی جائیں، اہلِ خانہ اور معالجین تک رسائی یقینی بنائی جائے اور انہیں غیر مشروط طور پر رہا کیا جائے۔ بیان میں نورین نیازی کی جلد اور مکمل صحت یابی کے لیے نیک خواہشات اور دعاؤں کا بھی اظہار کیا گیا۔

واضح رہے کہ ان الزامات اور مطالبات پر حکام کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US