معروف ٹک ٹاکر مسٹر پٹلو کی مہندی کی تقریب کے دوران مچنے والی بھگدڑ کے نتیجے میں جان کی بازی ہارنے والے عقیل کے والد بشیر احمد نے میڈیا کے سامنے اپنے شدید غم و غصے اور دکھ کا اظہار کرتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
بشیر احمد کا کہنا تھا کہ ان کا بیٹا عقیل، جو محنت مزدوری کر کے اپنے اہل خانہ کی کفالت کرتا تھا، واقعے والے دن ڈسکہ سے اپنی موٹر سائیکل پر دوستوں کے ساتھ تقریب دیکھنے چلا گیا تھا۔ تقریب کے مرکزی گیٹ پر شدید رش کے باعث باہر سے آنے والے ہجوم کے دھکے سے عقیل وہاں لگے لوہے کے پائپوں پر گرگیا۔ والد کے بقول، وہاں موجود باڈی گارڈز کے تشدد اور بھگدڑ کے باعث عقیل کے سر، کان اور آنکھوں پر شدید چوٹیں آئیں جس کے نتیجے میں اس کی موقع پر ہی موت واقع ہو گئی۔
متاثرہ والد کے مطابق واقعے کے وقت عقیل کے پاس اس کے شناختی کارڈ کی فوٹو کاپی تھی، جس کے ذریعے شام کو اہل خانہ کو واقعے کی اطلاع ملی۔ بعد ازاں رات کے وقت سیالکوٹ کے اسپتال سے کارروائی مکمل کرنے کے بعد لاش گھر منتقل کی گئی اور اسے سپردِ خاک کر دیا گیا۔ عقیل کی موٹر سائیکل کا اب تک کوئی پتہ نہیں چل سکا ہے۔
عقیل کی موت سے اس کا گھرانہ شدید بحران کا شکار ہوگیا ہے۔ محض ایک ماہ قبل عقیل کی زوجہ کا بھی انتقال ہوچکا تھا، اور اب اس کی ناگہانی موت کے بعد اس کے تین چھوٹے بچے جن میں پانچ اور چار سال کی دو بیٹیاں اور دو سال کا ایک بیٹا شامل ہیں، بے سہارا ہوگئے ہیں۔
عقیل کے والد نے شدید رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ٹک ٹاکر کی جانب سے غیر مناسب انتظامات اور شہرت کے لیے دکھائی گئی نمائش نے ان کا ہستا بستا گھر اجاڑ دیا ہے۔
انہوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز اور وزیراعظم شہباز شریف سے اپیل کی ہے کہ واقعے کے ذمہ داروں اور ناقص انتظامات کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے اور یتیم بچوں کی سرپرستی اور انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔