سندھ ہائی کورٹ کے آئینی بینچ نے میر رضا قتل کیس میں اہل خانہ کی جوڈیشل کمیشن کے خلاف اور جے آئی ٹی کے قیام سے متعلق درخواست پر فریقین کو نوٹس جاری کردیے۔
جسٹس عدنان الکریم میمن کی سربراہی میں دو رکنی آئینی بینچ کے روبرو میر رضا قتل کیس میں اہلخانہ کی جوڈیشل کمیشن کیخلاف اور جے آئی ٹی کے قیام سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی۔ درخواست مقتول میر رضا علی کے والدین میر حسین علی خان، مریم حسین اور مقتول کی بہن علشبہ خان نے جبران ناصر ایڈووکیٹ کے توسط سے دائر کی۔
درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ میر رضا علی قتل کیس میں اب تک ہونے والی تفتیش سے نتیجہ اخذ ہوتا کہ تحقیقاتی خرابیاں ادارے میں موجود ہیں اور اس لیے کیس میں کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی۔ قبل ازیں درخواست گزاروں نے حکومت سندھ سے اپیل کی تھی کہ جے آئی ٹی بنائی جائے جس میں وفاقی اور صوبائی قانون نافذ کرنے والے ادارے اور انٹیلی جنس اداروں کے نمائندے شامل ہوں اور ان سے تحقیقات کرائی جائیں تاہم 22 اگست کو چیف سیکریٹری سندھ نے فیصلہ کیا کہ کیس کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بنانے کا فیصلہ کیا لیکن اس حوالے سے درخواست گزاروں کے ساتھ نہ کوئی مشورہ کیا گیا اور نہ ہی جوڈیشل کمیشن کے لپے ٹی آر اوز ڈسکس کیے گئے۔
انہوں اپنے دلائل میں کہا کہ ادارے کی ناکامیوں کے حوالے سے عدالتی جانچ پڑتال کے خلاف نہیں ہے کیونکہ درخواست گزار یہ چاہتے ہیں کہ ایگزیکٹو اور پولیس نے جو غلطیاں کی ہیں ان کی جانچ پڑتال ہونی چاہئیں اور درخواستگزار یہ چاہتے ہیں کہ جوڈیشل کمیشن کو فوجداری مقدمات کی تحقیقات کے لیے متبادل کے طور پر استعمال کرنے پر اعتراض ہے کیونکہ جو فوری قانونی ضابطہ کی کارروائی ہوتی ہے اس میں پولیس کو ملزمان کا تعین کرنا پڑتا ہے ان کیخلاف ثبوت اکھٹے کرنے ہوتے ہیں اور ان کیخلاف چارج شیٹ جمع کرانی ہوتی ہے جو کہ جوڈیشل کمیشن یہ کام نہیں کرسکتا۔
درخواستگزاروں نے عدالت عالیہ سے استدعا کی ہے کہ سندھ حکومت کا جوڈیشل کمیشن قیام کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے۔ جے آئی ٹی بنائی جائے جس میں سندھ پولیس، رینجرز، ایف آئی اے، آئی بی، آئی ایس آئی اور ایم آئی کے ماہر نمئدوں پر مشتمل ہو اور مذکورہ ٹیم ہر پہلو سے تحقیقات کرے۔ مذکورہ جے آئی ٹی ڈی آئی جی فرخ لنجار سمیت دیگر 6 افسران کے خلاف بھی تحقیقات کریں اور کیس خراب کرنے پر ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔ چیف سیکریٹری سندھ کو ہدایت کی جائے کہ ذمہ داران کیخلاف محکمہ جاتی کارروائی کریں اور انہیں انکوائری مکمل ہونے تک عہدوں سے برطرف کیا جائے اور تفتیشی افسران کو مذکورہ درخواست پر کارروائی مکمل ہونے تک تفتیشی رپورٹ ٹرائل کورٹ میں جمع نہ کرائی جائے۔
درخواست کی سماعت چیمبر میں ہوئی۔ درخواستگزار کے وکیل جبران ناصر نے موقف اختیار کیا کہ پولیس کی تحقیقات ابھی تک کسی نتیجے پر نہیں پہنچی ہے۔ میڈیا سے معلوم ہوا کہ سندھ حکومت کیس کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن تشکیل دے رہی ہے۔ اس مرحلے پر جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کیس پر منفی طور پر اثر انداز ہوگی۔ جوڈیشل کمیشن کی انکوائری عدالت میں چالان کے طور پر پیش نہیں کی جاسکتی۔
جبران ناصر ایڈووکیٹ نے بتایا کہ عدالت نے جوڈیشل کمیشن کی ٹرمز اینڈ کنڈیشن سے طلب کرلیے ہیں۔ عدالت نے پولیس سے غفلت اور لاپرواہی برتنے والے افسران سے متعلق رپورٹ بھی طلب کرلی ہے۔ عدالت نے فریقین کو 31 اگست کے لیے نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت تک جواب طلب کرلیا۔
درخواست میں چیف سیکریٹری سندھ، سیکریٹری محکمہ داخلہ سندھ، وزارت داخلہ، وزارت دفاع، پولیس سرجن ، آئی جی سندھ اور ایڈیشنل آئی جی کراچی کو فریق بنایا ہے۔ درخواست گزاروں نے قتل کیس کے تفتیشی افسران کی ٹیم میں شامل ڈی آئی جی ایسٹ فرخ علی لنجار، ایس ایس پی سی آئی اے، سمیع اللہ سومرو، ایس ایس ایسٹ زبیر نذیر شیخ، ایس پی ایسٹ عثمان سدوزئی، ایس ایچ او فیروز آباد عدیل افضل، ایس آئی او فیروز آباد شہباز لغاری، ایس ایچ او گلستان جوہر کامران قریشی ، ڈی ایس پی شاہراہ فیصل ارشد آفریدی سمیت دیگر کو فریق بنایا ہے۔
سماعت کے بعد گفت گو میں درخواست گزار کے وکیل جبران ناصر ایڈووکیٹ نے کہا کہ فی الحال ہماری درخواست پر چیف سیکریٹری سندھ سے جواب طلب کیا ہے کہ جوڈیشل کمیشن کے ٹی او آر سے آگاہ کیا جائے کہ آپ نے کمیشن کیوں بنایا ہے۔ اہلخانہ شفاف تحقیقات اور جے آئی ٹی کی تشکیل چاہتے ہیں، اس پر حکومت سے جواب مانگا گیا ہے۔ اس کے علاوہ عدالت نے چیف سیکریٹری سے پوچھا ہے کہ درخواست میں ڈی آئی جی شرقی فروخ لنجار سے دیگر افسران کیخلاف کیا کارروائی کی گئی۔
عدالت نے موجودہ تفتیشی ٹیم کو تفتیش فائنلائز کرنے سے روک دیا گیا ہے جب تک یہ درخواست پینڈنگ ہے۔
اس سے پہلے سندھ ہائیکورٹ میں درخواست دائر کرنے بعد میر رضا کے اہلخانہ اور وکیل جبران ناصر ایڈووکیٹ نے گفتگو میں کہا کہ میڈیا کے ذریعے جوڈیشل کمیشن کے فیصلے کا میڈیا سے پتہ چلا، سندھ حکومت کی جانب سے چیف جسٹس صاحب کو خط ارسال کیا گیا۔ فیملی نے جوڈیشل کمیشن کے قیام پر وزیر داخلہ سندھ سے رابطہ کیا۔ ابھی تک فیصلے کی نقول متاثرہ خاندان کو نہیں ملی۔
جبران ناصر نے کہا کہ ہم نے وزیر اعلی سندھ کو خط میں کیس کی نگرانی کا مطالبہ کیا تھا۔ اگر موجودہ کمیٹی تحقیقات میں ناکام ہوتی ہے تو دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے شامل کیے جانے چاہیے جوڈیشل کمیشن فائنڈنگز دے سکتی ہے وہ رپورٹ چالان کا حصہ نہیں ہوتی شواہد کیوں ضائع ہوئے ہمیں اس کا جواب چاہیے مرضی سے سلیکٹو سی سی ٹی وی جاری کرکے خودکشی کا بیانیہ بنایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ٹی او آر ہمارے سامنے نہیں ہیں قتل کی تحقیقات جوڈیشل کمیشن نہیں کرسکتا، جوڈیشل کمیشن صرف اہم کیسز کی تحقیقات کرسکتا ہے، سندھ حکومت کے فیصلے اور جے آئی ٹی کے لئے درخواست دائر کررہے ہیں۔ مجسٹریٹ کے سامنے تفتیشی افسر نے مزید وقت مانگا ہے۔ تفتیشی افسر کے مطابق ابھی تک کسی کو ملزم نامزد نہیں کیا گیا۔ نئی کمیٹی 15 روز بھی کلیو لیس ہے۔ اب جے آئی ٹی تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔ حکومت نوٹیفکیشن تک شیئر نہیں کررہی۔ ہمیں میڈیا سے کیس کی اپڈیٹ مل رہی ہیں۔ اب تک کیس خراب کرنے والے افسران کے خلاف کیا کارروائی کی گئی۔
جبران ناصر نے کہا کہ تحقیقات میں یا تو قابلیت کی کمی یا چاہتے ہی نہیں ہیں۔ جوڈیشل کمیشن کو بھی یہی افسران اسسٹ کریں گے۔ پولیس کی نااہلی پر جے آئی ٹی کا مطالبہ کیا ہے۔ جے آئی ٹی سے کسی کو خدشات نہیں ہونے چاہیے۔ ہم سے سی سی ٹی وی فوٹیج نہیں شیئر کی گئی۔ 25 دن بعد اب کہہ رہے ہیں کہ کیمرے خراب ہیں۔ سی سی ٹی وی میں نظر آنے والی گاڑیوں کی جانچ نہیں کی گئی۔