وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے اسلام آباد میں غیر قانونی کال سینٹرز کے خلاف کارروائیوں کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کے پلازے میں چھپے مزید 50 غیر ملکی شہریوں کو گرفتار کرلیا۔
ایف آئی اے حکام کے مطابق گرفتار کیے گئے تمام غیر ملکیوں کو قانونی کارروائی کے بعد جیل منتقل کردیا گیا ہے، جبکہ اس سے قبل 250 غیر ملکی شہریوں کو اڈیالہ اور اٹک جیل منتقل کیا جاچکا ہے۔
حکام کے مطابق غیر ملکی شہریوں کو ملک بدر کرنے کے عمل کے پہلے مرحلے میں 50 ویتنامی باشندوں کو ڈی پورٹ بھی کیا جاچکا ہے۔
دوسری جانب نیشنل سائبر کرائم اینڈ انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے بھی 13 سے 21 اگست کے دوران اسلام آباد میں تین مختلف کارروائیوں کے دوران درجنوں غیر ملکیوں کو حراست میں لیا۔ زیرِ حراست افراد کے خلاف بیرون ملک شہریوں سے آن لائن فراڈ، بلیک میلنگ اور جنسی مواد کے ذریعے مالی فوائد حاصل کرنے کے الزامات کی تحقیقات کی جارہی ہیں۔
ذرائع کے مطابق ایف آئی اے، این سی سی آئی اے اور اسلام آباد پولیس کی مشترکہ تحقیقات کا دائرہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے)، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اور سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) تک بڑھا دیا گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ غیر قانونی طور پر کال سینٹرز چلانے کے الزام میں گرفتار 671 غیر ملکی شہریوں کو فارن بلیک لسٹ میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جبکہ وزارت خارجہ کے ذریعے متعلقہ ممالک کو ان افراد کی مبینہ غیر قانونی سرگرمیوں سے آگاہ کرنے کا عمل بھی جاری ہے۔