وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں واقع سرکاری ہسپتال پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے میٹرنل اینڈ چائلڈ ہیلتھ سینٹر میں آتشزدگی کے نتیجے میں 14 نومولود بچوں کی ہلاکت کے بعد ماحول کافی سوگوار ہے۔ بی بی سی نے غمزدہ والدین اور عینی شاہدین سے بات کر کے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ بدھ کی صبح ہونے والی آتشزدگی کے دوران انھوں نے وہاں کیا دیکھا؟
انتباہ: اس تحریر میں موجود چند تفصیلات قارئین کے لیے پریشان کن ہو سکتی ہیں۔
’مجھے میرا بچہ دو، ورنہ میں یہاں سے نہیں اُٹھوں گی۔ میں یہیں بیٹھی رہوں گی۔ میں کہیں نہیں جا رہی، مجھے میرا بچہ دو۔۔۔‘
پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں واقع سرکاری ہسپتال پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں آتشزدگی کے نتیجے میں 14 نومولود بچوں کی ہلاکت کے بعد ماحول کافی سوگوار ہے۔
ہلاک ہونے والے بچوں کے والدین اور لواحقین بڑی تعداد میں پمز کے میٹرنل اینڈ چائلڈ ہیلتھ سینٹر کی عمارت کے باہر موجود ہیں۔
اِس سینٹر کے باہر بہت سی ایسی مائیں بھی موجود ہیں، جنھوں نے اس افسوسناک واقعے میں اپنے نومولود بچوں کو کھویا ہے اور وہ صدمے کی حالت میں ہیں۔
ایسی ہی ایک ماں، جنھوں نے دو روز قبل ہی سی سیکشن کے ذریعے بچے کو جنم دیا تھا، وہ میٹرنل اینڈ چائلڈ ہیلتھ سینٹر کے باہر زمین پر بیٹھی ہیں۔ مقامی میڈیا سے بات کرتے ہوئے اُن کا اصرار ہے کہ وہ اس مقام سے تب تک نہیں اٹھیں گی جب تک انھیں اُن کا بچہ نہیں دے دیا جاتا۔
اِسی طرح زار و قطار روتے ایک والد بس یہی دہائی دے رہے تھے کہ ’مجھے بس میرے بچے کی میت دے دیں۔‘
یہاں موجود بہت سے والدین اور لواحقین ہسپتال میں سہولیات اور عملے کی رویے کی شکایات کرتے بھی نظر آئے جبکہ کئی عینی شاہدین اور والدین نے دعویٰ کیا ہے کہ جس وقت یہ واقعہ پیش آیا اُس وقت نرسری میں ہسپتال کے عملے کا کوئی رُکن موجود نہیں تھا جبکہ نرسری کا داخلی دروازہ لاک تھا۔
پمز ہسپتال کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر رانا عمران سکندر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان دعوؤں کی تردید کی ہے وارڈ کا دروازہ بند تھا اور یہ کہ وہاں عملہ موجود نہیں تھا۔ تاہم وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی سیکرٹری صحت اسلم غوری کو فوری طور پر اُن کے عہدے سے معطل کرتے ہوئے اس واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی تشکیل دینے کا اعلان کیا ہے۔
ہلاک ہونے والے ایک بچے کے والد نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ وہ گذشتہ آٹھ دن سے اس وارڈ میں آ جا رہے تھے اور وہاں جو صورتحال تھی وہ افسوسناک تھی۔
’اس عمارت میں آگ سے تحفظ کے کوئی انتظامات نہیں تھے، نہ ہی مناسب ہنگامی راستے موجود تھے۔ تمام دروازے بند رہتے تھے، صرف ایک دروازہ تھا جس سے ہم اپنے بچوں سے ملنے جا سکتے تھے۔ باقی دروازوں پر تالے لگے رہتے تھے کیونکہ انھیں خوف تھا کہ ہم اپنے بچوں کو بار بار دیکھنے آئیں گے۔‘
فی الحال پمز ہسپتال کے داخلی راستے اور اُس کے اندر پولیس اہلکار بڑی تعداد گشت کر رہے ہیں۔ فائر بریگیڈ کی گاڑیاں تاحال ہسپتال کے اطراف موجود ہیں جبکہ میٹرنل اینڈ چائلڈ ہیلتھ سینٹر کی ٹوٹی ہوئی کھڑکیوں کا شیشہ اور ماسک اب بھی فٹ پاتھ پر بکھرے پڑے ہیں۔

بی بی سی نے ایسے خاندانوں کو دیکھا جنھوں نے اپنے نومولود بچوں کو کھویا ہے اور وہ وارڈ کے باہر رو رہے تھے۔ ایک شخص نے ہمیں بتایا کہ اس کا تین روز قبل پیدا ہونے والا بچہ بھی اس واقعے میں ہلاک ہوا ہے۔
جب آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا تو حفصہ ولید اپنی نند کے ہمراہ نرسری کے قریب موجود وارڈ میں موجود تھیں جہاں اُن خواتین کو رکھا گیا تھا جن کے حال ہی میں سی سیکشن ہوئے تھے۔ اُن کی نند نے دو روز قبل بچے کو جنم دیا تھا۔
اُن کے مطابق صبح تقریباً چھ بجے انھوں نے کسی کے چیخنے کی آواز سُنی اور ابتدا میں انھیں لگا کہ شاید ہسپتال میں کسی کی وفات ہو گئی ہے، لیکن پھر جلد ہی انھوں نے دھواں دیکھا۔
یہ صورتحال دیکھ کر انھوں نے اپنی نومولود بچی کو اٹھایا اور وارڈ سے بھاگ نکلیں۔
پمز ہسپتال کی انتظامیہ کے مطابق چلڈرن وارڈ میں 15 نومولود داخل تھے جن میں سے صرف ایک کو ہی بچایا جا سکا ہے۔
’اندر بہت دُھواں تھا، کچھ نظر نہیں آ رہا تھا‘:عینی شاہدین نے کیا دیکھا؟

ہسپتال میں موجود ایک عینی شاہد عالم زیب خان نے بی بی سی اُردو کو بتایا کہ وہ اس سینٹر کے باہر موجود لان میں دری پر سو رہے تھے۔
’جب شور مچا تو میں اُٹھ کر (سینٹر کے) اندر گیا، وہاں بہت دُھواں تھا اور کچھ نظر نہیں آ رہا تھا۔ افراتفری کے عالم میں ہر کوئی جان بچانا چاہ رہا تھا، عورتیں ایک دوسرے کو دھکیلتے ہوئے باہر نکلنے کی کوشش کر رہی تھیں۔ میں نے اپنی فیملی کی خواتین کو نکالا، باہر بٹھایا اور دوبارہ اندر گیا۔ وہاں بس دُھواں ہی دُھواں تھا۔ میں نے دو جلے ہوئے بچوں کو دیکھا جنھیں اُن کے والد اٹھائے ہوئے باہر آ رہے تھے۔‘
عالم زیب کے مطابق یہ واقعہ چھ، ساڑھے چھ بجے کے لگ بھگ پیش آیا۔ اُن کے مطابق بچوں اور ماؤں کے ساتھ آئے لواحقین سینٹر کی عمارت کے باہر لان میں بڑی تعداد میں موجود تھے۔ انھوں نے کہا کہ پمز کی انتظامیہ کے لوگ تو واقعے کے فوراً بعد یہاں پہنچ گئے تھے مگر پولیس آدھ گھنٹے بعد وہاں پہنچی جبکہ ایمبولینس اور آگ بجھانے والی گاڑیاں 15، 20 منٹ میں آ گئی تھیں۔
ایک خاتون کے مطابق اُن کی بیٹی کے ہاں بیٹے (نواسے) کی ولادت دو روز قبل ہوئی تھی۔
انھوں نے بتایا کہ ’اُن کا نومولود نواسہ پرسوں سے نرسری میں داخل تھا۔ کل رات چار بجے میں اور میری بیٹی اپنے بچے کو نرسری میں دیکھ کر آئے اور پھر واپس وارڈ میں آ گئے۔ تھوڑی دیر بعد ایک عورت کی چیخوں کی آواز آئی، وارڈ سے نکل کر دیکھا تو معلوم ہوا کہ نرسری کے اندر آگ لگی ہوئی ہے۔ نرسری کا داخلی دروازہ لاک تھا، ہم نے بہت کوشش کی نرسری کے داخلی دروازے کو توڑیں، مگر یہ ممکن نہیں ہو سکا۔‘
انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’نرسنگ سٹیشن میں کوئی نرس نہیں تھی اور وہاں عملہ کا ایک بھی بندہ موجود نہیں تھا۔‘
ہلاک ہونے والی بچے کی نانی نے کہا کہ ’میرا بس ایک سوال ہے کہ عملہ اُس وقت کہاں موجود تھا؟‘
ایک اور عینی شاہد نے بی بی سی اُردو کو بتایا کہ وہ متاثرہ سینٹر کے قریب ہی موجود تھے جب صبح چھ، ساڑھے چھ بجے کے لگ بھگ شور کی آواز سُن کر وہ متاثرہ عمارت کی طرف بھاگے۔
اُن کے مطابق اُن کا ایک رشتہ دار پمز میں داخل ہے اور اسی لیے وہ ہسپتال میں موجود تھے۔ انھوں نے کہا کہ آگ لگنے کے بعد انھوں نے دیگر افراد کے ساتھ مل کر لوگوں کو عمارت سے باہر نکالنے کی کوشش کی اور اسی دوران ایک خاتون ایک بچے کو اٹھائے سینٹر سے باہر نکلی اور پھر کچھ دیر بعد ریسکیو اہلکار وہاں پہنچ گئے۔

آتشزدگی کے واقعے اور اس پر ردعمل کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟
پمز ہسپتال کی ترجمان کے مطابق آگ نرسری کے ایئر کنڈشن یونٹ میں لگی اور نرسری میں آکسیجن کے کنکشنز ہونے کے باعث آگ فوراً بھڑک اٹھی۔
پمز کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر عمران سکندر نے لواحقین کے دعوؤں پر بی بی سی کو بتایا کہ نرسری کے دروازہ پر تالا نہیں لگا ہوا تھا بلکہ وہاں عملہ موجود تھا۔
اُن کے مطابق نرسری میں داخلے کا سخت انتظام بچوں کو وارڈ سے چوری ہونے سے بچانے کے لیے کیا گیا تھا، کیونکہ ماضی میں سرکاری ہسپتالوں میں بچوں کے چوری کے واقعات پیش آ چکے ہیں۔
عمران سکندر نے واضح کیا کہ ہسپتال میں آگ بجھانے کے لیے پانی کا انتظام نہیں تھا تاہم وہاں آگ بجھانے والے آلات رکھے گئے تھے۔
ان کے مطابق صبح لگنے والی آگ بجھانے کی کوشش کے دوران 24 سلینڈر (فائر ایسٹنگوشرز) استعمال کیے گئے۔
اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ آگ پمز ہسپتال کے میٹرنل اینڈ چائلڈ ہیلتھ وارڈ کے تیسرے فلور پر لگی جس میں مجموعی طور پر 14 بچے مکمل طور پر جھلس گئے۔
کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق انھیں ہسپتال میں فائر ایمرجنسی کی اطلاع صبح چھ بج کر 45 پر موصول ہوئی، جس کے بعد فائر بریگیڈ اور ریسکیو ٹیمیں سات منٹ میں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ کیپیٹل ایمرجنسی سروس اور سی ڈی اے فائر ڈیپارٹمنٹ نے فوری کارروائی کرتے ہوئے آگ پر قابو پالیا۔
سی ڈی اے کا کہنا ہے کہ آتشزدگی کی وجوہات جاننے، ریسکیو کارروائی کا جائزہ لینے اور ہسپتال میں موجود فائر سیفٹی انتظامات کی مؤثریت کا جائزہ لینے کے لیے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل اسلام آباد کی سربراہی میں ایک تحقیقاتی کمیٹی بھی تشکیل دے دی گئی ہے۔
دوسری جانب مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ جن خاندانوں کے بچے اس واقعہ میں ہلاک ہوئے ہیں وہ جائے وقوعہ کو چھوڑنے کے لیے تیار نہیں۔
پولیس کے مطابق اس واقعے میں ہلاک ہونے والے بچوں کے خاندان والے اپنے نومولود بچوں کی لاشیں حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ نرسری میں آگ کی شدت بہت زیادہ تھی اور ہلاک ہونے والے بچوں کی شناخت ڈی این اے ٹیسٹ کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ پولیس کے بقول اس واقعہ میں ہلاک ہونے والے بچوں کی لاشیں ان کا ڈی این اے ٹیسٹ کروانے کے بعد ہی متاثرہ خاندانوں کے حوالے کی جائیں گی۔
پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اسلام آباد کے پمز ہسپتال کے چلڈرن وارڈ میں آتشزدگی کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے حکام کو فوری تحقیقات کی ہدایات جاری کی ہیں۔ وزیرِ اعظم کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بچوں کے ساتھ ایسی صورتحال ناقابلِ تلافی ہے۔
بیان کے مطابق وزیرِ اعظم نے حکم دیا ہے کہ واقعہ کے محرکات کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے ذمہ داران کا تعین کیا جائے اور سخت سے سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔