’ایمرجنسی کے دروازے کیوں بند تھے؟‘: اسلام آباد کے پمز ہسپتال میں آتشزدگی اور امدادی کارروائی سے جڑے اہم سوالات

اسلام آباد کے پمز ہسپتال کی نومولود بچوں کی نرسری میں آتشزدگی سے 14 بچوں کی ہلاکت نے سرکاری ہسپتالوں میں حفاظتی انتظامات اور فائر سیفٹی کے نظام پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ فائر انسیڈنٹ رپورٹ کے مطابق پمز میں آگ سے تحفظ کے انتظامات ناکافی تھے۔
Police look on from shattered windows at the scene following a fire outside the Mother and Child Health (MCH) ward at the Pakistan Institute of Medical Sciences (PIMS) Hospital in Islamabad on August 26, 2026. A fire in a maternity ward at a public hospital in the Pakistani capital Islamabad on August 26 morning killed 14 children, a local authority said.
Getty Images

پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں واقع پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کی نومولود بچوں کی نرسری میں آتشزدگی سے 14 بچوں کی ہلاکت نے سرکاری ہسپتالوں میں حفاظتی انتظامات اور فائر سیفٹی کے نظام پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

واقعے کے بعد حکومت نے تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی تشکیل دی ہے اور وفاقی سیکرٹری صحت اسلم غوری کو معطل کر دیا ہے۔

ابتدائی معلومات کے مطابق یہ آگ پمز ہسپتال کے زچہ و بچہ وارڈ کی نرسری میں لگی اور آکسیجن کی فراہمی کے نظام کی موجودگی کے باعث تیزی سے پھیل گئی۔ واقعے کے وقت وارڈ میں 15 نومولود بچے موجود تھے جن میں سے صرف ایک کو زندہ بچایا جا سکا۔

تاہم آگ لگنے کی وجہ، ہسپتال انتظامیہ کے ردعمل، حفاظتی انتظامات اور امدادی کارروائیوں سے متعلق اب بھی کئی سوالات جنم لے رہے ہیں۔

ہسپتال کے باہر میڈیا سے گفتگو کے دوران وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ تحقیقات میں تمام شواہد، سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر متعلقہ معلومات کا جائزہ لیا جائے گا۔

ان کے بقول ’ان سوالات کے بھی جواب تلاش کیے جائیں گے کہ ایمرجنسی کے دروازے کیوں بند تھے، حادثے کے وقت کتنے ڈاکٹر موجود تھے اور کتنے ڈاکٹروں اور نرسوں نے ہنگامی صورت حال میں فوری ردعمل دیا۔‘

ہم نے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ پمز کی نرسری میں آگ کیسے بھڑکی،حفاظتی انتظامات کتنے مؤثر تھے اور اس سانحے سے مستقبل کے لیے کیا سبق حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

Mothers weep at the Mother and Child Health (MCH) ward of the Pakistan Institute of Medical Sciences (PIMS) Hospital in Islamabad, on August 26, 2026. Officials said a fire in a maternity ward at a public hospital killed 14 children.
Getty Images

1. کیا ہسپتال میں آگ سے تحفظ کے لیے مناسب انتظامات تھے؟

پمز کی نرسری میں آتشزدگی کے بارے میں کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کی فائر انسیڈنٹ رپورٹ میں لکھا ہے کہ ہسپتال میں آگ سے تحفظ اور انسانی جانیں بچانے کے انتظامات ناکافی تھے اور یہ درکار معیار کے مطابق نہیں تھے۔

رپورٹ میں درج مشاہدات کے مطابق ہنگامی اخراج کے راستوں (فائر ایگزٹ)کو باہر سے تالے لگا کر مستقل طور بند کیا گیا تھا۔ مزید یہ کہ ہسپتال کے سکیورٹی عملے نے فائر بریگیڈ کے ابتدائی ردعمل میں رکاوٹ پیدا کی۔

اسسٹنٹ ڈائریکٹر فائر آپریشنز تشفین زمان آفریدی کی مرتب کردہ رپورٹ میں آگ لگنے کی ابتدائی اور ممکنہ وجہ برقی شارٹ سرکٹ یا پلگ پر زائد بوجھ قرار دی گئی ہے۔

ادھر وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے صحافیوں سے گفتگو کے دوران کہا کہ چند برس قبل نومولود بچوں کے اغوا کے واقعات پیش آنے کے بعد ایک دروازہ بند کر دیا گیا تھا۔

ان کے مطابق دوسرا دروازہ کھلا رکھا جاتا ہے اور اس پر 24 گھنٹے ایک سکیورٹی گارڈ تعینات رہتا ہے جو آنے جانے والے افراد کی جانچ پڑتال کے بعد خود دروازہ کھولتا یا بند کرتا ہے۔

جبکہ پمز ہسپتال کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر رانا عمران سکندر نے ان اطلاعات کی تردید کی کہ وارڈ کا دروازہ بند تھا۔ عمران سکندر نے بی بی سی کو بتایا کہ دروازے پر تالا نہیں لگا ہوا تھا اور وہاں عملہ بھی تھا۔

ان کے مطابق یہ انتظام بچوں کو وارڈ سے اغوا کیے جانے سے بچانے کے لیے کیا گیا تھا، کیونکہ ’ماضی میں سرکاری ہسپتالوں میں بچوں کی چوری کے واقعات پیش آ چکے ہیں۔‘

وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ آگ بجھانے کے لیے 26 فائر ایکسٹنگوئشر استعمال کیے گئے۔ انھوں نے کہا کہ ہسپتال میں سپرنکلر سسٹم موجود نہیں تھا (جس سے پانی کا چھڑکاؤ کر کے آگ بجھائی جا سکے) اور آگ بجھانے کے لیے سلینڈر استعمال کیے جاتے ہیں۔

اسلام آباد کی فائر سیفٹی اتھارٹی کی جانب سے گذشتہ برسوں کے دوران جاری کیے گئے نوٹسز کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان کے علم کے مطابق جب بھی نوٹس موصول ہوئے، ان پر عملدرآمد کی پوری کوشش کی گئی۔

Pakistani nurses take care of newborn babies at the Neonatal intensive care unit of Pakistan Institute of Medical Sciences (PIMS) in Islamabad on February 20, 2018. In the neonatal intensive care department of an Islamabad hospital, scrawny infants struggle for survival -- victims of a vacuum in resources and education in the country with the highest newborn mortality rate in the world.
Getty Images
فائل فوٹو

2. بچوں کی نرسری میں آگ تیزی سے کیوں پھیلی؟

وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کے مطابق ابتدائی معلومات سے معلوم ہوتا ہے کہ صبح 6 بج کر 38 منٹ پر ایک چنگاری اٹھی، جو نرسوں کے بقول ممکنہ طور پر ایئرکنڈیشنر (اے سی) کے اندر سے نکلی۔ انھوں نے کہا کہ شعلہ زمین پر گرا اور ’واقعے کی ویڈیو بھی دستیاب ہے۔‘

مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ چھ بج کر 39 منٹ پر لوگ وارڈ سے نکلنا شروع ہوئے۔ ’اُس وقت وہاں دو ڈاکٹرز اور دو انچارج نرسیں موجود تھیں۔ فوٹیج کے مطابق چند افراد مدد طلب کرنے کے لیے دوڑے، تاہم ایک منٹ بعد پورا کمرہ آگ کی لپیٹ میں آ چکا تھا۔‘

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ بظاہر وارڈ میں موجود 15 بچوں میں سے 14 آکسیجن پر تھے اور ممکنہ طور پر آکسیجن نے آگ کو بھڑکانے میں کردار ادا کیا۔

راولپنڈی کے ایک سرکاری ہسپتال میں بچوں کے شعبے کی انچارج ڈاکٹر نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ہسپتالوں کی نوزائیدہ بچوں کی نرسریوں میں ’فوٹو تھراپی یونٹس، انکیوبیٹرز، وینٹی لیٹرز، آکسیجن پوائنٹس اور سینٹرل ہیٹنگ و کولنگ سسٹم سمیت تمام ضروری طبی سہولیات موجود ہوتی ہیں۔‘

انھوں نے بتایا کہ نرسری کے اندر آکسیجن سلنڈر نہیں رکھے جاتے بلکہ آکسیجن ’مرکزی پائپ لائن کے ذریعے فراہم کی جاتی ہے‘، جبکہ ہر انکیوبیٹر کے ساتھ علیحدہ آکسیجن پوائنٹ موجود ہوتا ہے۔

ان کے مطابق پمز سمیت بیشتر ہسپتالوں میں ایک انکیوبیٹر میں صرف ایک بچہ رکھا جاتا ہے۔ آکسیجن سلنڈر صرف اس وقت استعمال کیے جاتے ہیں جب کسی بچے کو آکسیجن کے ساتھ ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا ہو (مثلاً ایمبولینس تک لے جانا ہو۔ عموماً ایمبولینس میں آکسیجن سلنڈر پہلے سے موجود ہوتا ہے)، ورنہ نرسری میں سلنڈراستعمال نہیں ہوتے اور معمول کے مطابق مرکزی آکسیجن سپلائی ہی استعمال کی جاتی ہے۔

نرسری میں آگ تیزی سے کیوں پھیلی، اس حوالے سے ہم نے ریسکیو 1122 اسلام آباد کے ڈائریکٹر ایمرجنسی سروسز ڈاکٹر عبدالرحمن سے بات کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سب سے اہم چیز یہ ہے کہ ایسے مقامات پر انتظامات اتنے جامع ہونے چاہییں کہ آگ لگے ہی نہ۔

بی بی سی نیوز اردو سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ایسے مریض یا بچے جنھیں انتہائی نگہداشت کی ضرورت ہو، وہاں ایسے انتظامات ہونے چاہییں کہ آگ کسی صورت لگنے کا امکان ہی نہ رہے۔

اگر اس قسم کے ماحول میں آج کی طرح آگ لگ جائے تو وہ کتنی تیزی سے پھیل سکتی ہے؟ اس کے جواب میں ڈاکٹر عبدالرحمن کا کہنا تھا کہ جب آگ کو آکسیجن ملتی رہے تو پھر وہ بہت تیزی سے ہی پھیلتی ہے۔

’اگر وہاں آگ بجھانے کا نظام موجود نہ ہو یعنی فائر سپرنکلر سسٹم نصب نہ ہو اور وہاں آکسیجن کی لائنیں بھی لگی ہوئی ہوں اور وہ پھٹ جائیں، تو عام طور پر چار سے پانچ منٹ میں آگ پورے کمرے میں پھیل سکتی ہے۔ خاص طور پر اگر وہاں آتش گیر مواد، مثلاً لکڑی اور فرنیچر موجود ہو۔‘

یاد رہے اس نرسری میں آکسیجن کی لائنیں بھی لگی ہوئی تھیں جن کے ذریعے نوزائیدہ بچوں کو آکسیجن فراہم کی جاتی اور ہر انکیوبیٹرز کے لیے الگ آکسیجن لائن تھی۔

ڈاکٹر عبدالرحمن نے بتایا کہ جب آکسیجن کی لائن پھٹ گئی تو آکسیجن فضا میں خارج ہونا شروع ہو گئی اور جب آکسیجن ہوا میں شامل ہو گی اور نیچے آگ لگی ہو گی تو آگ یقیناً بہت تیزی سے پھیلے گی۔

People transport the body of a victim after a fire at the Pakistan Institute of Medical Science (PIMS), in Islamabad, Pakistan, 26 August 2026. According to hospital officials, the fire that broke out in the hospital's maternity ward killed at least 14 newborns.
EPA

3. آگ سے بچاؤ کے لیے ہسپتالوں میں کون سے حفاظتی نظام ضروری ہیں؟

وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے بتایا ہے کہ آگ بجھانے کے لیے 26 فائر ایکسٹنگوئشر سلنڈر استعمال کیے گئے۔ انھوں نے کہا کہ ہسپتال میں سپرنکلر سسٹم موجود نہیں تھا (جس سے پانی کا چھڑکاؤ کر کے آگ بجھائی جا سکے) اور آگ بجھانے کے لیے سلینڈر استعمال کیے جاتے تھے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر عبدالرحمن کا کہنا تھا کہ ایسی آگ بروقت طور پر صرف فائر ایکسٹنگوئشر سلنڈروں سے نہیں بجھائی جا سکتی۔

وہ کہتے ہیں کہ ایسی عمارتوں میں آگ کی نشاندہی (فائر ڈیٹیکشن) کا نظام اور آگ بجھانے (فائر سپریشن) کا نظام، جس میں سپرنکلر سسٹم شامل ہوتا ہے، بہت زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔

اس کے ساتھ ڈاکٹر عبدالرحمن کا کہنا تھا کہ ایسی عمارت میں جتنے بھی بایومیڈیکل آلات ہیں، وہ سب جدید اور فعال ہونے چاہییں۔ ’ہر حوالے سے ان کی باقاعدہ مینٹیننس ہونی چاہیے، حتیٰ کہ سال میں دو مرتبہ ہونے والی مینٹیننس بھی، اور اس کی رپورٹ بھی تیار ہوئی ہونی چاہیے۔‘

Fire Sprinkler System
Getty Images

وہ کہتے ہیں کہ جدید نظام میں ’خودکار لائنیں بچھی ہوتی ہیں۔ ان میں پانی خود بخود جاری ہو جاتا ہے۔ اس کے لیے آپ کو الگ سے کچھ کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس میں ایک بلب لگا ہوتا ہے۔ جب کمرے کا درجہ حرارت بڑھتا ہے تو وہ بلب پھٹ جاتا ہے اور پانی کی لائن خود بخود چل پڑتی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ہسپتالوں میں سپرنکلر سسٹم کے علاوہ ’اگر کسی وجہ سے وہاں آگ بھڑک اٹھے، یا آگ لائنوں تک پہنچ جائے، تو پھر مناسب حفاظتی اقدامات اور فائر سیفٹی کے انتظامات لازماً موجود ہونے چاہییں۔‘

اسی طرح وہ فائر ڈیٹیکشن سسٹم کی ضرورت پر بھی زور دیتے ہیں۔ یعنی سموک الارم، فائر الارم سسٹم، سموک ڈیٹیکٹرز اور ان کا کنٹرول پینل۔

ان کے مطابق جب چھتوں پر نصب یہ آلات ’دھواں محسوس کرتے ہیں تو فوراً بجنا شروع کر دیتے ہیں، جس سے لوگوں کو پتا چل جاتا ہے کہ آگ لگ گئی ہے۔ اس کے بعد آپ فوری طور پر اس علاقے سے نکل سکتے ہیں۔‘

پمز ہسپتال کے بچوں کی نرسری میں آگ سے بچنے اور لگنے کی صورت میں بجھانے کے انتظامات جاننے کے لیے بی بی سی نیوز اردو نے ہسپتال انتظامیہ سے بارہا رابطے کی کوشش کی ہے تاہم تاحال اس خبر کی اشاعت تک اس سوال کا جواب موصول نہیں ہوا۔

Jaweria (C), who said she lost her child in the fire, reacts following a blaze at the Mother and Child Health (MCH) ward of the Pakistan Institute of Medical Sciences (PIMS) Hospital in Islamabad on August 26, 2026. A fire in a maternity ward at a public hospital in the Pakistani capital Islamabad on August 26 morning killed 14 children, a local authority said.
Getty Images

4. ہنگامی انخلا کے راستے کیوں بند تھے؟

وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کے مطابق چند برس قبل نومولود بچوں کے اغوا اور چوری کے واقعات پیش آنے کے بعد ایک دروازہ بند کر دیا گیا تھا، جبکہ دوسرا دروازہ کھلا رکھا جاتا ہے اور اس پر 24 گھنٹے ایک سکیورٹی گارڈ تعینات رہتا ہے جو آنے اور جانے والے افراد کی جانچ پڑتال کے بعد خود دروازہ کھولتا اور بند کرتا ہے۔

ادھر پمز ہسپتال کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر رانا عمران سکندر نے ان اطلاعات کی تردید کی کہ وارڈ کا دروازہ بند تھا۔ عمران سکندر نے بی بی سی کو بتایا کہ دروازے پر تالا نہیں لگا ہوا تھا بلکہ وہاں عملہ موجود تھا۔

ان کے مطابق یہ انتظام بچوں کو وارڈ سے چوری ہونے سے بچانے کے لیے کیا گیا تھا، کیونکہ ماضی میں سرکاری ہسپتالوں میں بچوں کے اغوا کے واقعات پیش آ چکے ہیں۔

راولپنڈی کے ایک سرکاری ہسپتال میں بچوں کے شعبے کی انچارج ڈاکٹر کے مطابق نرسری میں داخلے اور اخراج کا مرکزی راستہ ایک ہی ہوتا ہے اور سکیورٹی گارڈ بھی اسی مقام پر تعینات ہوتا ہے جبکہ ایمرجنسی ایگزٹ دروازے بھی موجود ہوتے ہیں، جو عام حالات میں بند رہتے ہیں اور صرف ہنگامی صورتحال میں استعمال کیے جاتے ہیں۔

ان کے مطابق نرسری کے اندر الگ سے سکیورٹی گارڈ موجود نہیں ہوتا۔ اندر نرسیں، طالبات نرسیں، ڈاکٹرز، ہاؤس آفیسرز اور پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹرز موجود ہوتے ہیں۔

ڈاکٹر نے بتایا کہ عملے کو آگ یا دیگر ہنگامی حالات سے نمٹنے، فائر ایکسٹنگوئشرز، فائر بالز اور ایمرجنسی راستوں کے استعمال کی باقاعدہ تربیت دی جاتی ہے۔ نرسری میں سکیورٹی کے سخت انتظامات ہوتے ہیں، جن میں کوڈ لاک سسٹم، سی سی ٹی وی نگرانی، محدود رسائی اور وزیٹرز کے لیے سخت قواعد شامل ہیں تاکہ بچوں کی حفاظت اور غیر متعلقہ افراد کے داخلے کو روکا جا سکے۔

ڈاکٹر کے مطابق نرسری کی سکیورٹی کے لیے اندر اور داخلی راستوں پر سی سی ٹی وی کیمرے نصب ہوتے ہیں جن کی مسلسل نگرانی کی جاتی ہے۔ بچوں کے اغوا کے واقعات کے بعد حفاظتی اقدامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں، جس کے تحت والدین اور اٹینڈنٹس کو بیگ یا موبائل فون ساتھ لے جانے کی اجازت نہیں ہوتی اور نرسری میں داخلے کے لیے سخت نگرانی اور قواعد نافذ کیے جاتے ہیں۔

A green and white safety sign indicating the direction of an evacuation towards the emergency exit in case of fire or disaster
Getty Images
علامتی تصویر

5. کیا امدادی ٹیمیں تاخیر سے پہنچیں؟

اسلام آباد کے پمز ہسپتال میں آتشزدگی کے عینی شاہدین کا دعویٰ ہے کہ امدادی کارکنوں نے ردعمل میں تاخیر کی۔

ایک عینی شاہد خرم محمود نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ انھوں نے آتشزدگی میں اپنی تین دن کی بیٹی کو کھو دیا ہے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ امدادی کارکنوں کو پہنچنے میں کئی گھنٹے لگ گئے: ’ہم مدد کے انتظار میں سڑک پر بیٹھے تھے۔‘

ایک اور عینی شاہد عبدالغفور نے اسی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ آگ ’بہت تیزی سے‘ پھیلی تھی۔

انھوں نے کہا کہ وہ مریضوں کو بچانے میں مدد کی غرض سے ہسپتال کے اندر گئے، لیکن زچگی وارڈ تک نہیں پہنچ سکے: 'اندر گھنا سیاہ دھواں تھا اور مریض پھنسے ہوئے تھے، امدادی ٹیمیں تقریباً دو گھنٹے بعد پہنچیں۔'

تاہم وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے اس تاثر کی تردید کی کہ فائر بریگیڈ اور ریسکیو ٹیمیں تاخیر سے پہنچیں۔ انھوں نے کہا کہ ’کنٹرول روم میں کال موصول ہونے کے چھ منٹ بعد ریسکیو ٹیمیں جائے وقوعہ پر موجود تھیں‘ جبکہ اس کے چند منٹ بعد انتظامیہ کے حکام بھی پہنچ گئے تھے۔

A man carries the body of a newborn child who died following a fire at the Mother and Child Health (MCH) ward of the Pakistan Institute of Medical Sciences (PIMS) Hospital, during a funeral in Rawalpindi on August 26, 2026. A fire erupted in a hospital maternity ward in Islamabad on August 26, killing 14 infants, Pakistan authorities said, blaming a faulty air conditioner for the blaze.
Getty Images

6۔ میتوں کی حوالگی اور شناخت کیسے کی گئی؟

وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ آتشزدگی سے ہلاک ہونے والے تمام 14 بچوں کی میتیں ان کے ورثا کے حوالے کر دی گئی ہیں۔

تاہم اس سے قبل اسلام آباد پولیس کا کہنا تھا کہ نرسری میں آگ کی شدت بہت زیادہ تھی اور ہلاک ہونے والے بچوں کی شناخت ڈی این اے ٹیسٹ کے بغیر ممکن نہیں ہے۔

پولیس کے بقول اس واقعے میں ہلاک ہونے والے بچوں کی لاشیں ان کا ڈی این اے ٹیسٹ کروانے کے بعد ہی متاثرہ خاندانوں کے حوالے کی جائیں گی۔

تو اتنی جلدی بچوں کی شناخت کا عمل کیسے ممکن ہوا اور آیا حکومت نے ڈی این اے ٹیسٹ کے بغیر تمام میتیں لواحقین کے حوالے کیں؟

بی بی سی کے اس سوال کے جواب میں طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ ’بہت سے بچوں کے ہاتھوں پر شناختی بینڈ لگے ہوتے ہیں۔ پھر کئی بچے ویسے ہی پہچان لیے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ کون سا بچہ کس عمر کا ہے، مثلاً کون دو گھنٹے کا ہے، کون تین یا چار دن کا ہے۔ کون بچی ہے اور کون بچہ ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’پوری میڈیکل ٹیم اور دیگر متعلقہ افراد نے مل کر یہ کام انجام دیا اور باقی تمام ضروری اقدامات مکمل کیے۔‘

وزیرِ داخلہ کا مزید کہنا تھا کہ ’ہمارے پاس اسلام آباد میں فرانزک کی تمام سہولیات پہلے سے موجود ہیں اور ہم نے چند ہی منٹوں میں اس حوالے سے بہت سی تفصیلات حاصل کر لی تھیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ بچوں کی حوالگی کا یہ سارا عمل تصدیق کے بعد ہی کیا تھا۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US