وہ کہانی جس نے انسان کے دل سے وہیل کا ڈر ختم کر دیا: ’دولت کی تلاش میں وہیل کے شکار کی اصل وجہ انتقام تھا‘

کہانی اسماعیل نامی ایک ملاح کی زبانی بیان کی جاتی ہے، جو دولت اور مہم جوئی کی تلاش میں احاب کے وہیل کے شکار کے سفر میں شامل ہوتا ہے۔ تاہم جہاز پر سوار ہونے کے بعد احاب اس سفر کی اصل وجہ بیان کرتا ہے جو ہے ’انتقام‘۔
وہیل
Getty Images

175 سال پرانی ایک کہانی جسے امریکی مصنف ہرمن میلول کی کلاسیکی تصنیف کہا جاتا ہے۔ ’انسان بمقابلہ وہیل‘ کی اس داستان کو اس ضمن کی بہترین تصنیف سمجھا جاتا ہے۔ لیکن یہ کہانی یہ سوال اٹھاتی ہے کہ آخر انسان ان عظیم سمندری مخلوق سے اتنا خوف زدہ کیوں رہے؟

وقت اور جگہ کے مختلف ادوار میں ہم نے جانوروں کو دوست، ساتھی، آفت، دیوتا، بت اور شیطان کے طور پر دیکھا ہے، اور ان کے بارے میں ہمارا نقطۂ نظر مسلسل بدلتا رہتا ہے۔

اپنی نئی کتاب ’دی بک آف بیسٹس: ریکلیمِنگ اینیمل وِزڈم‘ میں، میں جانوروں کے ساتھ ہمارے تعلقات کی جذباتی داستان کا سراغ لگایا اور اس بات پر غور کیا کہ کہانیوں نے ان کے ساتھ ہمارے برتاؤ کو کس طرح متاثر کیا ہے۔

بہت سے پہلوؤں سے دیکھا جائے تو ہمارا مشترکہ مستقبل مایوس کن دکھائی دیتا ہے، کیونکہ 1970 سے 2000 کے درمیان جنگلی حیات کی آبادیوں میں 73 فیصد کمی آئی۔ تاہم انسانوں اور ایک خاص مخلوق، یعنی وہیل، کے درمیان تعلق امید کی ایک کرن فراہم کرتا ہے۔

قدیم اور قرونِ وسطیٰ کے زمانوں میں وہیلوں کو سمندری عفریتوں اور شیطان کے ساتھ جوڑ کر دیکھا جاتا تھا، لیکن آج یہ وہ جانور ہیں جنہیں ہم میں سے بہت سے لوگ دیکھنے اور بچانے کی خواہش رکھتے ہیں۔

وہیل کے بارے میں اس نئے مثبت تصور کی تشکیل میں ایک اہم موڑ 175 سال قبل آیا، جب ہرمن میلول کا ناول ’موبی ڈک‘ شائع ہوا۔

یہ انسان بمقابلہ وہیل کی ایک عظیم امریکی رزمیہ داستان ہے، جس میں المناک ہیرو کیپٹن احاب کی وائٹ سپرم وہیل کے ساتھ جنون کی حد تک وابستگی بالآخر اس کی موت کا سبب بنتی ہے۔

کہانی اسماعیل نامی ایک ملاح کی زبانی بیان کی جاتی ہے، جو دولت اور مہم جوئی کی تلاش میں احاب کے وہیل کے شکار کے سفر میں شامل ہوتا ہے۔ تاہم جہاز پر سوار ہونے کے بعد احاب اس سفر کی اصل وجہ بیان کرتا ہے جو ہے ’انتقام‘۔

وہ موبی ڈک کا پیچھا کرکے اسے مار ڈالنا چاہتا ہے، کیونکہ ایک سابقہ سفر کے دوران اس وہیل نے اس کی ٹانگ کاٹ ڈالی تھی۔

لیکن میلول خود اس سمندری مخلوق کے لیے احاب جیسی نفرت نہیں رکھتے تھے۔ اس کے برعکس، ان کی کہانی قارئین کو یہ سوچنے کی دعوت دیتی ہے کہ ’عفریت نما‘ جانوروں کے بارے میں انسانی خوف کی جڑیں کہاں ہیں، اور آیا یہ خوف ان جانوروں کے بجائے ہمارے اپنے بارے میں زیادہ کچھ نہیں بتاتا۔

وہیل
Getty Images
ایک سپرم وہیل کے ذریعہ ایسیکس وہیلنگ جہاز کے ڈوبنے کی ایک تصویری مثال - وہ واقعہ جس نے موڈی ڈک کو متاثر کیا (کریڈٹ: گیٹی امیجز)

’موبی ڈک‘ کو متاثر کرنے والی حقیقی کہانی

انیسویں صدی کے وسط میں جب ہرمن میلول نے ’موبی ڈک‘ شائع کی، اس وقت وہیل کا شکار ایک بڑی تجارتی صنعت بن چکا تھا۔

وہیل کے شکاری خطرناک سمندری سفر کرتے تھے تاکہ وہیلوں کو مار کر ان کی چربی حاصل کر سکیں۔

اس چربی سے ’ٹرین آئل‘ بنایا جاتا تھا، جو صنعتی انقلاب کے دوران مشینوں کو چلانے اور تیزی سے بڑھتے ہوئے شہروں میں چربی کے چراغ روشن رکھنے کے لیے استعمال ہوتا تھا۔

امریکی ریاست میساچوسٹس کے مشرقی ساحل پر واقع شہر نان ٹَکٹ، جہاں ’موبی ڈک‘ کی کہانی شروع ہوتی ہے، اس دور میں وہیل کے شکار کا مرکز بن گیا تھا۔ اسی وجہ سے اسے ’وہ شہر جس نے دنیا کو روشن کیا‘ کا لقب بھی دیا گیا۔

وہیل کے شکاری وہیلوں کے بارے میں براہِ راست مشاہدے کے ذریعے معلومات حاصل کرتے تھے، جبکہ سائنس دانوں کے پاس ان جانوروں کے نمونے ہوتے تھے جن کا وہ تفصیلی مطالعہ کرتے تھے۔

حیاتیاتی درجہ بندی کے علم نے وہیلوں اور دوسرے جانوروں کو ان کی جسمانی ساخت اور ارتقائی تاریخ کی بنیاد پر مختلف گروہوں میں تقسیم کیا۔ یوں ایسا محسوس ہونے لگا کہ انسانوں نے سمندر کی گہرائیوں میں چھپی ہوئی پراسرار دنیا کو بھی سمجھ لیا ہے۔

تاہم بعض وہیلیں فطرت کے بارے میں انسانوں کے ان تصورات کو چیلنج کرتی رہیں کہ قدرتی دنیا مکمل طور پر قابلِ پیش گوئی ہے۔

20 نومبر 1820 کو جنوبی بحرالکاہل میں ایک سپرم وہیل نے دی ایسیکس نامی وہیل شکار کرنے والے جہاز کو ٹکر مار کر تباہ کر دیا۔ جہاز میں سوار 20 افراد تین کشتیوں کے ذریعے بچ نکلے، لیکن انھیں تقریباً تین ماہ تک سمندر میں بھٹکنا پڑا۔

اس دوران وہ بھوک اور پیاس کا شکار ہوئے، اور زندہ بچ جانے والوں کی دو تحریری گواہیوں کے مطابق، آخرکار بقا کے لیے آدم خوری تک پر مجبور ہو گئے۔ بچ جانے والوں میں سینئر عملے کے رکن اوون چیز بھی شامل تھے، جن کے اس واقعے پر مبنی بیان نے بعد میں ’موبی ڈک‘ کے لیے تحریک فراہم کی۔

یقینی طور پر یہ حقیقی سانحہ، اور اس سے متاثر ہو کر لکھی گئی عظیم افسانوی کہانی، لوگوں کے ذہنوں میں وہیل کے حملے کے انتہائی نایاب امکان کو پہلے سے کہیں زیادہ نمایاں کر گئی۔

حقیقت یہ ہے کہ وہیل کے کسی جہاز کو ٹکر مارنے کے امکانات تقریباً نہ ہونے کے برابر ہیں، کیونکہ تاریخ میں ایسے صرف چند ہی واقعات ریکارڈ ہوئے ہیں۔

وہیلیں عام طور پر تصادم سے بچنے کی کوشش کرتی ہیں، اور آج ’ایسیکس‘ کے ڈوبنے جیسے واقعات کو اتفاقی ٹکر یا اپنے دفاع میں کیا گیا ردِعمل سمجھا جاتا ہے۔ لیکن جیسا کہ میلول دکھانا چاہتے تھے، انسان کے خوف ہمیشہ عقل اور حقیقت پر مبنی نہیں ہوتے۔

وہیل
Getty Images
گریگوری پیک 1956 کی ہالی ووڈ فلم موبی ڈک کے موافقت میں کیپٹن احاب کے طور پر (کریڈٹ: گیٹی امیجز)

میلول کی نظر میں ’قدیم عفریت‘ اور اس کے انسانی دشمن

اسماعیل کی بیان کردہ کہانی میں کیپٹن احاب کی ضد اور غیر منطقی سوچ کی کوئی حد نہیں۔ وہ اس وہیل سے بدلہ لینا چاہتا ہے جس نے اسے شدید نقصان پہنچایا تھا۔

وہ اپنے عملے سے کہتا ہے کہ انھیں موبی ڈک کا پوری دنیا میں تعاقب کرنا ہوگا، ’یہاں تک کہ وہ سیاہ خون اگلنے لگے اور اس کا فِن پانی سے باہر آ جائے۔‘

اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ احاب اور دوسرے شکاری جتنی چاہیں وہیلیں مار سکتے ہیں، لیکن اگر کوئی وہیل اپنا دفاع کرے تو ان کا غصہ حد سے بڑھ جاتا ہے۔

حقیقت میں شاید انسان کا وہیل سے خوف اس کی اپنی کمزوری کے دبے ہوئے احساسات سے زیادہ جڑا ہوا تھا۔

اوون چیز نے اس وہیل کے بارے میں لکھا جس نے ایسیکس جہاز کو ٹکر ماری تھی: ’میں نے مڑ کر دیکھا تو وہ آ رہی تھی۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ اپنی معمول کی رفتار سے دوگنی تیزی سے بڑھ رہی ہو، اور اس لمحے مجھے یوں محسوس ہوا جیسے اس کے اندر دس گنا زیادہ غصہ اور انتقام بھرا ہوا ہو۔‘

اسماعیل، احاب کے برعکس، اس بات کے بارے میں اتنا یقین نہیں رکھتے کہ وہیل کس چیز کی علامت ہے۔ وہ خوف اور احترام کے درمیان جھولتے رہتے ہیں ہے۔ تاہم وہ کھلے طور پر وہیل کا موازنہ بائبل کے مشہور سمندری عفریت ’لیویاتھان‘ سے کرتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں ’عظیم لیویاتھان دنیا کی وہ مخلوق ہے جسے خدا نے اپنی خوشی کے لیے پیدا کیا۔‘

قرونِ وسطیٰ کے آخری دور تک عیسائی مفکرین، جیسے تیرہویں صدی کے فلسفی اور راہب تھامس ایکویناس، لیویاتھان کو واضح طور پر وہیل قرار دینے لگے تھے۔

میلول نے ایک طرف ہمیں اس قدیم عفریت کا تصور دکھایا، لیکن دوسری طرف اس روایت پر سوال بھی اٹھایا۔ ان کے مطابق وہیل لوگوں کے ان جذبات اور خیالات کی علامت بن گئی تھی جو نامعلوم چیزوں کے بارے میں ان کے ذہنوں میں موجود تھے۔

احاب کے لیے سفید وہیل بے ترتیبی، بے حسی اور ظلم کی علامت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’تمام نظر آنے والی چیزیں محض گتے کے نقاب ہیں۔‘

احاب کے خیال میں وہیل کا جسم صرف ایک پردہ ہے، جس کے پیچھے کوئی بہت بڑی اور خطرناک طاقت چھپی ہوئی ہے۔ وہ موبی ڈک کے نقاب کے پیچھے موجود اس ’پراسرار شے‘ کو تباہ کرنا چاہتا ہے۔ اس کے نزدیک یہ کوئی شیطانی طاقت ہے جو فطرت میں موجود ہے، چاہے اسے شیطان کہا جائے، خدا یا پھر قسمت۔

اسماعیل سمجھتا ہے کہ احاب نے وہیل پر ’انسانی نسل کے آغاز سے لے کر آج تک جمع ہونے والے تمام غصے اور نفرت کا بوجھ ڈال دیا ہے۔‘

ہزاروں سال سے انسانوں نے درندوں کو مارنے کو بہادری کی علامت سمجھا ہے، اور ایسی کہانیاں ذہنوں سے آسانی سے نہیں نکلتییں، چاہے اصل بہادری ان جانوروں کے ساتھ مل کر جینے میں ہی کیوں نہ ہو۔

اچھائی اور برائی جیسی سادہ تقسیمیں، چاہے جانوروں پر لاگو کی جائیں یا انسانوں پر، غیر یقینی صورتحال سے بچنے کا آسان راستہ معلوم ہوتی ہیں۔ لیکن میلول اور ’موبی ڈک‘ اس سوچ کو قبول نہیں کرتے۔

یہاں تک کہ وہ لوگ بھی جن کا پیشہ وہیلوں کو صرف ایک تجارتی شے کے طور پر دیکھنا تھا، انھیں ایک ہی نظر سے نہیں دیکھتے تھے۔ کچھ شکاری وہیلوں کو عفریت سمجھتے تھے، جبکہ کچھ براہِ راست مشاہدے کے بعد ان کے لیے ہمدردی یا تجسس محسوس کرنے لگے تھے۔

1846 میں شائع ہونے والی اپنی کتاب ایچنگز آف اے وہیلنگ کروز میں وہیل کے شکاری جے راس براؤن نے لکھا: ’سمندر کے اس عظیم لیویاتھان کے قتل سے زیادہ خوفناک منظر کا میں تصور نہیں کر سکتا۔‘

وہیل
Getty Images
کینری جزائر سے دور بحر اوقیانوس میں ایک سپرم وہیل - آج وہ پیارے جانور ہیں (کریڈٹ: گیٹی امیجز)

جدید دور میں وہیل کی بدلتی ہوئی تصویر

وہیل کے شکار کے عروج کے دور کے دو نسلوں بعد، آج لوگوں کے نزدیک وہیل کی اہمیت اور تصویر بہت بدل چکی ہے۔

’موبی ڈک‘ پڑھتے وقت آج کے بہت سے قارئین شکاری کے بجائے وہیل کے ساتھ ہمدردی محسوس کرتے ہیں۔

گذشتہ صدی میں معاشی حالات بدلنے کے ساتھ تجارتی بنیادوں پر وہیل کا شکار بہت کم ہو گیا ہے، اگرچہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ بین الاقوامی پابندیوں کے باوجود ناروے، آئس لینڈ اور جاپان اب بھی منافع کے لیے وہیل کا شکار کرتے ہیں۔

میلول کے زمانے میں انسان اور وہیل کے تعلق میں خوف اور معاشی فائدہ دونوں شامل تھے، لیکن اب ان کی جگہ زیادہ تر تعریف، احترام اور وہیلوں کے تحفظ کی خواہش نے لے لی ہے۔

آج انسان اس خیال کو بھی پسند کرتے ہیں کہ وہیلیں انسانی ظلم کے خلاف مزاحمت کر رہی ہیں، اگرچہ اس بات کے درست ہونے کے شواہد موجود نہیں۔

حالیہ برسوں میں سپین اور پرتگال کے ساحلوں کے قریب اورکا، جنہیں قاتل وہیل بھی کہا جاتا ہے، کی جانب سے کشتیوں کو ٹکر مارنے کے واقعات سامنے آئے ہیں۔ سوشل میڈیا پر ان واقعات کو ’اورکا بغاوت‘ کا نام دیا گیا، حالانکہ سائنس دانوں کا خیال ہے کہ یہ رویہ جان بوجھ کر دشمنی پر مبنی نہیں ہے۔

انسانوں کی نظر میں وہیل کی تصویر بدلنے کا ایک اہم موڑ 1967 میں آیا، جب امریکی ماہرِ حیاتیات راجر پین نے پہلی بار وہیلوں کے گیت ریکارڈ کیے۔ ان آوازوں نے لوگوں کو بہت متاثر کیا۔

اس کے بعد ہونے والی تحقیق نے دکھایا کہ وہیلیں پیچیدہ انداز میں ایک دوسرے سے رابطہ کر سکتی ہیں، ایسی صلاحیت جو پہلے صرف انسانوں کے بارے میں سمجھی جاتی تھی۔ اس سے یہ سوال بھی پیدا ہوا کہ کیا وہیلیں مہربانی کا جواب مہربانی سے دے سکتی ہیں؟

اپنی کتاب میں مصنف ویتنامی مچھیروں کی ان کہانیوں کا ذکر کرتے ہیں جن کے مطابق وہیلوں نے انھیں بچایا، اور یہی واقعات ان کے مقامی عقائد کا حصہ بن گئے۔

مصنف نے وہیلوں کی سائنس دان نین ہاؤزر سے بھی بات کی، جن کا کہنا ہے کہ ایک ہمپ بیک وہیل نے ان کی جان بچائی تھی۔

سمندری ماحولیات کے ماہر رابرٹ پٹ مین کی تحقیق سے بھی معلوم ہوا ہے کہ ہمپ بیک وہیلیں بعض اوقات دوسری سمندری مخلوقات، جیسے سیل، کو اورکا کے حملوں سے بچاتی ہیں۔

اگرچہ ابھی بہت کچھ نامعلوم ہے، لیکن یہ واقعات اور تحقیقات اس خیال کو مضبوط کرتے ہیں کہ وہیلوں کی بھی ایک اندرونی دنیا ہے جو شاید ہماری دنیا جتنی پیچیدہ ہو۔

چیس کوفن، جو نان ٹَکٹ سے تعلق رکھتے ہیں، اوون چیز کی براہِ راست نسل سے ہیں اور ان کا خاندان اپنی وہیل شکاری تاریخ پر فخر کرتا ہے۔ لیکن وہیلوں کے بارے میں ان کا نقطۂ نظر بدل چکا ہے۔

وہ کہتے ہیںکہ ’میرا خاندان اب ہر سال ’سیو دی ویلز‘ کو عطیہ دیتا ہے۔ میں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ سبزی خور رہ کر گزارا ہے۔‘

میلول نے دکھایا کہ ہم اکثر اپنے خوف اور احساسِ جرم کو دوسروں پر ڈال کر اپنے ذہن میں عفریت تخلیق کر لیتے ہیں۔

اگر ہم اپنی ان سوچوں اور اندازوں سے آگے بڑھ سکیں، تو شاید ہم ان جانوروں کی حقیقی گہرائی اور حقیقت کو بہتر طور پر سمجھ سکیں۔

’دی بک آف بیسٹس: ریکلیمِنگ اینیمل وِزڈم‘ چیٹو اینڈ ونڈس کی جانب سے شائع کی گئی ہے۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US