16 سالہ لڑکا جو دن رات پانی میں رہتا ہے: ’باہر آتے ہی میرا جسم جلنے لگتا ہے‘

16 سالہ اقبال کی ایک غیر معمولی طبی حالت نے سوشل میڈیا پر وسیع توجہ حاصل کر لی ہے۔ اقبال کا کہنا ہے کہ جیسے ہی وہ پانی سے باہر آتا ہے، اس کے پورے جسم میں شدید جلن شروع ہو جاتی ہے، جس کے باعث وہ دن اور رات کا بیشتر وقت تالاب کے پانی میں گزارنے پر مجبور ہے۔
تالاب میں نہاتے ہوئے اقبال کی تصویر
ani
تالاب میں نہاتے ہوئے اقبال کی تصویر

انڈیا کی ریاست مغربی بنگال کے ضلع مرشد آباد سے تعلق رکھنے والے 16 سالہ اقبال کی ایک غیر معمولی طبی حالت نے سوشل میڈیا پر وسیع توجہ حاصل کر لی ہے۔ اقبال کا کہنا ہے کہ جیسے ہی وہ پانی سے باہر آتا ہے، اس کے پورے جسم میں شدید جلن شروع ہو جاتی ہے، جس کے باعث وہ دن اور رات کا بیشتر وقت تالاب کے پانی میں گزارنے پر مجبور ہے۔

حال ہی میں سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں اقبال کو گھنٹوں پانی میں موجود دیکھا جا سکتا ہے۔ بعض مناظر میں وہ تالاب میں رہتے ہوئے کھانا بھی کھاتا دکھائی دیتا ہے۔

خبر رساں ادارے اے این آئی کے مطابق اقبال، جو مغربی بنگال کے علاقے بیلڈانگا کے رہائشی ہیں، نے بتایا کہ ’جیسے ہی میں پانی سے باہر آتا ہوں، میرا پورا جسم جلنے لگتا ہے۔‘

اس غیر معمولی واقعے نے کاروباری شخصیت اننت امبانی کی بھی توجہ حاصل کی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اننت امبانی نے اقبال کے علاج کی ذمہ داری اٹھاتے ہوئے ایک طبی ٹیم ان کے پاس روانہ کی، جس نے ان کا ابتدائی معائنہ کیا۔

بعد ازاں اقبال کو مزید تشخیص اور خصوصی طبی معائنے کے لیے ہوائی جہاز کے ذریعے ممبئی منتقل کیا گیا، جہاں انھیں سر ایچ این ریلائنس فاؤنڈیشن ہسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔

ڈاکٹروں کی جانب سے تاحال ان کی حالت کے بارے میں کوئی حتمی تشخیص سامنے نہیں آئی۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ طویل عرصے تک پانی میں رہنا جلد اور جسمانی صحت سے متعلق متعدد مسائل کا باعث بن سکتا ہے، اس لیے اقبال کی کیفیت کی تفصیلی جانچ ضروری ہے تاکہ اس کی علامات کی اصل وجہ معلوم کی جا سکے۔

دن رات پانی میں

علامتی تصویر
Getty Images
ڈاکٹروں نے خبردار کیا ہے کہ طویل عرصے تک پانی میں رہنے سے مختلف صحتی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں (فائل فوٹو)

ڈاکٹروں نے خبردار کیا ہے کہ طویل عرصے تک پانی میں رہنا صحت کے لیے مختلف مسائل کا باعث بن سکتا ہے۔

مقامی افراد کے مطابق اقبال کی حالت پر علاقے میں تشویش پائی جاتی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ صبح سے رات گئے تک کسی نہ کسی تالاب میں موجود رہتا تھا اور اکثر تیرتا رہتا تھا۔ بعض اوقات وہ دوسرے تالابوں کا رخ کرتا اور کئی گھنٹوں تک وہیں رکا رہتا تھا۔

این ڈی ٹی وی کے مطابق مقامی لوگ اسے کھانا بھی فراہم کرتے تھے اور وہ اکثر پانی میں رہتے ہوئے ہی کھانا کھا لیتے تھے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بچپن ہی سے ان کا وزن اپنے بہن بھائیوں کے مقابلے میں غیر معمولی حد تک بڑھنے لگا تھا اور انھیں مختلف طبی مسائل کا بھی سامنا تھا۔ طویل وقت تک پانی میں رہنے کے باعث وہ اکثر کھانسی اور نزلے میں مبتلا رہتے تھے۔

اقبال کے والدین کا کہنا ہے کہ ماضی میں بھی انھیں علاج کے لیے ہسپتال میں داخل کروایا گیا تھا، تاہم ان کی صحت میں خاطر خواہ بہتری نہیں آ سکی۔

ان کے مطابق اب وہ مزید علاج کے اخراجات برداشت کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے، جس کے باعث انھوں نے حکام اور مخیر حضرات سے مدد کی اپیل کی ہے۔

اگر ہم طویل عرصے تک پانی میں رہیں تو کیا ہو گا؟

علامتی تصویر
Getty Images
ماہرِ امراضِ جلد نے کہا ہے کہ اگر جلد مسلسل نم رہے تو فنگس اور بیکٹیریا سے ہونے والے انفیکشن کا خطرہ بڑھ جاتا ہے (فائل فوٹو)

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ طویل عرصے تک پانی میں رہنے سے صحت کے کئی مسائل جنم لے سکتے ہیں، جن میں جلد کو نقصان پہنچنا اور مختلف اقسام کے انفیکشن شامل ہیں۔

ماہرِ امراضِ جلد کے مطابق اگر جلد مسلسل گیلی رہے تو اس میں فنگس اور بیکٹیریا کی افزائش کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسی صورت میں جلد گلنے یا نرم پڑ جانے کی کیفیت پیدا ہو سکتی ہے، جس کے باعث جلد کمزور ہو جاتی ہے اور نمی کے مسلسل اثر سے متاثر رہتی ہے۔

ماہرین کے مطابق وقت گزرنے کے ساتھ جلد میں دراڑیں پڑ سکتی ہیں یا وہ پھٹ سکتی ہے، جس سے سوزش اور انفیکشن کا خطرہ مزید بڑھ جاتا ہے۔

این ڈی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے ایک ماہرِ امراضِ جلد نے اقبال کو فوری طبی امداد حاصل کرنے اور طویل وقت تک پانی میں رہنے سے گریز کرنے کا مشورہ دیا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس غیر معمولی رویے کی وجوہات جاننا بھی ضروری ہے۔

ادھر خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بچے کے مسلسل پانی میں رہنے کے رجحان کے پیچھے کوئی مخصوص عقیدہ، خوف، ذہنی دباؤ یا نفسیاتی مسئلہ کارفرما ہے تو انھیں ماہرِ نفسیات سے بھی رجوع کرنا چاہیے، تاکہ ان کی کیفیت کا جامع انداز میں جائزہ لیا جا سکے اور مناسب علاج تجویز کیا جا سکے۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US