پمز اسپتال کے گائنی وارڈ میں آتشزدگی کے نتیجے میں 14 نوزائیدہ بچوں کی ہلاکت کے بعد وزیراعظم شہباز شریف کی قائم کردہ تحقیقاتی کمیٹی نے چلڈرن اسپتال کی نرسری کے عملے سے تحریری بیانات طلب کر کے سی سی ٹی وی ریکارڈ قبضے میں لے لیا ہے۔
کمیٹی نے ڈیوٹی روسٹر کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر سمیت چار افسران کے بیانات قلمبند کر لیے ہیں اور 48 گھنٹوں میں عبوری رپورٹ وزیراعظم کو پیش کی جائے گی۔
ابتدائی رپورٹ کے مطابق انکیوبیٹر کے آکسیجن فلو میٹر میں چھوٹے دھماکے اور چنگاری سے آگ بھڑکی، جبکہ سی ڈی اے کی فائر رپورٹ کے مطابق اسپتال میں آگ سے بچاؤ کے انتظامات ناکافی اور ہنگامی راستے بند تھے۔
واقعے کے بعد وزیراعظم نے وفاقی سیکریٹری صحت اسلم غوری کو معطل کر کے سیکریٹری ہاؤسنگ محمد محمود کو اضافی چارج سونپ دیا ہے، جبکہ وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے خود کو احتساب کے لیے پیش کردیا ہے۔
دوسری جانب جاں بحق بچوں کے غم زدہ والدین نے نرسری میں عملے کی عدم موجودگی، بند دروازوں اور ریسکیو میں تاخیر کی شکایت کرتے ہوئے بچوں کی شناخت کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔