وفاقی حکومت نے جعلی لائسنس کے الزامات پر 50 پائلٹس کے لائسنس منسوخ جبکہ 33 پائلٹس کے لائسنس معطل کردیے۔
وزارت دفاع کے تحریری جواب کے مطابق پائلٹس کے جعلی لائسنسوں کے معاملے پر برطانیہ، یورپی یونین اور امریکا کی جانب سے پی آئی اے کی بین الاقوامی پروازوں پر پابندی کے باعث اگست 2020 سے دسمبر 2024 تک قومی ایئرلائن کو 200 ارب روپے کے محصولات کا نقصان ہوا۔
جواب میں بتایا گیا کہ پی آئی اے برطانیہ کی منافع بخش مارکیٹ سے محروم رہی، جس کا فائدہ امارات، قطر ایئرویز، اتحاد، برٹش ایئرویز اور ورجن اٹلانٹک کو ہوا۔
وفاقی کابینہ نے معاملے پر وزیر دفاع کی سربراہی میں کابینہ کمیٹی بھی تشکیل دے دی ہے۔