یہ انٹرویو انگلینڈ کے سابق کپتان مائیکل ایتھرٹن نے کیا تھا جس میں اُنھوں نے سابق وزیرِ اعظم کے ساتھ جیل میں روا رکھے جانے والے سلوک، اُن کے طبی معائنے اور اہلخانہ کے تحفظات سے متعلق سوالات کیے تھے۔
سکائی سپورٹس نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان لارڈز ٹیسٹ کے پہلے روز وقفے کے دوران سابق وزیرِ اعظم عمران خان کے بیٹوں کا انٹرویو نشر کرنے پر پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے شکایت کی ہے۔
بی بی سی نیوز اُردو نےپی سی بی کی شکایت اور انٹرویو نشر کرنے کی صورت میں کھانے کے وقفے کے بعد پاکستان کی جانب سے ٹیم میدان میں نہ بھیجنے کی مبینہ دھمکی اور بین الاقوامی براڈ کاسٹنگ قوانین سے متعلق سکائی سپورٹس کو سوالنامہ بھیجا۔
اس کے جواب میں سکائی سپورٹس کی ڈائریکٹر کمیونیکشن نکی فلیچر نے کہا کہ وہ پی سی بی کی شکایت سے آگاہ ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ وہ انٹرویو پر کوئی تبصرہ نہیں کریں گی تاہم اس کے پس منظر میں پی سی بی کی جانب سے جمعرات کو موصول ہونے والی شکایت سے آگاہ ہیں، تاہم پی سی بی کے اقدامات کے حوالے سے اُنھی سے رجوع کیا جانا چاہیے۔
خیال رہے کہ سکائی سپورٹس نے لارڈز ٹیسٹ کے پہلے روز کھانے کے وقفے کے دوران سابق وزیرِ اعظم عمران خان کے بیٹوں قاسم اور سلیمان خان کا انٹرویو نشر کیا تھا۔
یہ انٹرویو انگلینڈ کے سابق کپتان مائیکل ایتھرٹن نے کیا تھا جس میں اُنھوں نے سابق وزیرِ اعظم کے ساتھ جیل میں روا رکھے جانے والے سلوک، اُن کے طبی معائنے اور اہلخانہ کے تحفظات سے متعلق سوالات کیے تھے۔
بی بی سی نیوز اُردو نے اس معاملے پر پی بی سی کا موقف جاننے کے لیے اس کے ترجمان عامر میر سے رابطے کی کوشش کی اور انھیں پیغامات بھی بھیجے لیکن تاحال اُن کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
لیکن جمعرات سے یہ معاملہ سوشل میڈیا پر زیرِ بحث ہے اور بہت سے صارفین سابق انگلش کپتان مائیکل ایتھرٹن کی تعریف اور پی سی بی پر تنقید کر رہے ہیں۔
مائیکل ایتھرٹن پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف کے نام خط لکھنے والے 21 سابق کپتانوں میں بھی شامل تھے جنھوں نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں عمران خان کا علاج غیر جانب دار طبی ماہرین سے کروانے کا مطالبہ کیا تھا۔
عمران خان کے بیٹوں نے انٹرویو میں کیا کہا تھا؟
کرکٹ ویب سائٹ کرک انفو کے مطابق یہ انٹرویو لارڈز ٹیسٹ سے ایک روز قبل بدھ کو لارڈز کے رائٹرز روم میں ریکارڈ کیا گیا تھا۔
یہ انٹرویو جمعرات کو لارڈز ٹیسٹ کے پہلے روز کھانے کے وقفے کے دوران نشر کیا گیا۔
18 منٹ طویل اس انٹرویو میں مائیکل ایتھرٹن نے عمران خان کے صاحبزادوں سے عمران خان کی صحت سے متعلق دریافت کیا تھا جس پر اُن کے بیٹوں کا دعویٰ تھا کہ اُن کے والد سخت جان ہیں۔ لیکن اُنھیں تنہائی میں ایک چھوٹے سیل میں رکھا گیا ہے۔
انٹرویو کے دوران عمران خان کے بیٹوں نے دعویٰ کیا تھا کہ اُن کی اپنے والد سے آخری مرتبہ نومبر 2022 میں ملاقات ہوئی تھی جب آخری مرتبہ اُن کی مارچ میں اُن سے ٹیلی فون پر بات ہوئی تھی۔
انٹرویو کے دوران عمران خان کے بیٹوں کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے احکامات کے باوجود اُن کے نجی ہسپتال کے بجائے سرکاری ہسپتال علاج کے لیے لایا گیا اور واپس جیل بھیج دیا گیا۔
سکائی سپورٹس نے انٹرویو کے بعد حکومتِ پاکستان کا اس معاملے پر موقف بھی نشر کیا تھا جس کے مطابق سابق وزیرِ اعظم کو علاج معالجے کی مناسب سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں جبکہ جیل میں بھی اُنھیں سہولیات حاصل ہیں۔

’یہ ایک انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کی گئی اپیل تھی‘
انٹرویو نشر ہونے کے بعد گفتگو کرتے ہوئے مائیکل ایتھرٹن کا کہنا تھا کہ یہ ایک انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کی گئی اپیل تھی۔
اُن کا کہنا تھا کہ عمران خان کی صحت اور خیریت کے بارے میں اُن کے ساتھ کرکٹ کھیلنے والوں کو خدشات ہیں۔ وہ عظیم ترین کھلاڑیوں میں سے ایک ہیں اور اُن کی صحت کے حوالے سے تشویش پائی جاتی ہے۔
مائیکل ایتھرٹن کا کہنا تھا کہ اُن کے بیٹوں نے انٹرویو میں توجہ دلائی ہے کہ عمران خان کی صحت کے حوالے سے فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔
جمعرات کو بی بی سی کو دیے گئے انترویو میں بھِی قاسم اور سلیمان نے پاکستانی حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ ان کے والد کا کسی 'غیرجانبدار ڈاکٹر یا ان کے اپنے ڈاکٹر سے' طبی معائنہ کروایا جائے اور اس کا نتائج کو منظر عام پر لایا جائے۔
عمران خان کے بیٹے سلیمان کا کہنا تھا کہ اگر پاکستانی حکومت کے دعوے کے مطابق ان کے والد عمران خان کی صحت درست ہے تو ’انھیں ہمیں ثبوت دکھانا چاہیے۔‘
انھوں نے ایک سوال کے جواب میں پاکستانی حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ کیا چھپا رہے ہیں؟ ان (عمران خان) کا معائنہ کسی غیر جانبدار یا ان کے اپنے ڈاکٹر سے کروایا جانا چاہیے اور انھیں ہمیں اس کے نتائج بھی دکھانے چاہییں۔‘
خیال رہے 18 اگست کو پاکستان کی سپریم کورٹ نے حکم دیا تھا کہ سابق وزیرِ اعظم کو علاج کے لیے اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے، لیکن حکومت نے اُنھیں پمز لانے کی یہ دلیل پیش کی کہ پی ٹی آئی کارکنوں کی جانب سے شفا ہسپتال کے راستے اور باہر پیدا کی گئی سکیورٹی صورتحال کی وجہ سے اُنھیں شفا ہسپتال نہیں لے جایا جا سکتا تھا۔
حکومت نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ پمز میں طبی معائنے کے بعد وہ صحت مند پائے گئے تھے۔ تاہم پاکستان تحریکِ انصاف نے اسے عدالتی حکم کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے توہینِ عدالت کی درخواست دائر کر دی تھی۔ خیال رہے کہ حکومت نے بھی سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظرثانی درخواست کی تھی۔
آسٹریلوی کپتان پیٹ کمنز کی تشویش
جن سابق کپتانوں نے وزیرِ اعظم پاکستان کے نام خط لکھا تھا، ان میں سابق انڈین کپتان سنیل گواسکر، کپل دیو اور دلیپ وینگسرکر شامل تھے۔
خط لکھنے والوں میں سابق انگلش کپتان مائیک اتھرٹن، گریگ چیپل، این چیپل، ارجونا رانا ٹونگا، لی جرمون، ایلن بارڈر، ناصر حسین، ایلسٹر کک، اینڈریو سٹراس، سٹیو وا، ڈیوڈ گاور، جان رائٹ اور سر کلائیو لائیڈ بھی شامل ہیں۔
لیکن اب آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کے موجود کپتان پیٹ کمنز بھی عمران خان کے لیے آواز بلند کرنے والوں میں شامل ہو گئے ہیں۔
جمعے کو ایکس پر جاری کیے گئے اپنے بیان میں پیٹ کمنز کا کہنا تھا کہ ’میں یہاں گریک چیپل اور دیگر سابقہ بین الاقوامی کپتانوں کی حمایت میں اپنی آواز شامل کرتا ہوں۔ مجھے امید ہے کہ عدالت کے حکم پر ہونے والے طبی معائنے کے عمل کو مکمل ہونے دیا جائے گا اور اہل خانہ کی ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔ مجھے امید ہے کہ عمران خان کے ساتھ وہی وقار اور عزت کا سلوک کیا جائے گا جس کے وہ حقدار ہیں۔‘
سکائی سپورٹس پر تنقید اور تعریف
سوشل میڈیا پر بعض صارفین جہاں سکائی سپورٹس کی تعریف کر رہے ہیں تو وہیں بعض صارفین انٹرنیشنل کرکٹ میچ کے دوران ایک سیاسی معاملے پر انٹریو نشر کرنے پر تنقید بھی کر رہے ہیں۔
سکائی سپورٹس کی حمایت کرنے والوں میں انڈین سپورٹس تجزیہ کار اور صحافی پیش پیش ہیں۔
انڈین صحافی راجدیپ سردیسائی نے ایکس پر لکھا کہ وہ مائیکل ایتھرٹن اور سکائی سپورٹس تعریف کے مستحق ہیں، جنھوں نے سیاسی دباؤ کے باوجود یہ انٹرویو کیا اور عمران خان کا ساتھ دیا۔
مسلم لیگ ن کے سابق رہنما اور سابق گورنر محمد زبیر نے ایکس پر لکھا کہ آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کے کپتان پیٹ کمنز موجودہ دور کے ان کرکٹرز میں سرفہرست ہیں جنھوں نے عمران خان کے معاملے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ یہ ایک اہم پیش رفت ہے اور اس سے ہماری حکومت پر دباؤ مزید بڑھے گا۔ حکومت کے لیے بہتر یہی ہے کہ وہ بات سنے اور بین الاقوامی سطح پر شرمندگی اور رسوائی کا باعث بننے کا سلسلہ بند کرے۔
دوسری جانب بعض صارفین سکائی سپورٹس پر یہ انترویو نشر کرنے پر تنقید بھی کر رہے ہیں۔
لندن میں مقیم پاکستانی صحافی اظہر جاوید نے ایکس پر لکھا کہ کرکٹ کے ’ایک بڑے بین الاقوامی ایونٹ کے دوران پاکستان اور اس کے ریاستی اداروں کے بارے میں سنگین اور متنازع الزامات نشر کیے گئے۔ میرا خدشہ یہ ہے کہ آیا اس پروگرام میں مناسب پس منظر فراہم کیا گیا اور متعلقہ پاکستانی حکام کو جواب دینے کا منصفانہ موقع دیا گیا۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ اُنھوں نے برطانیہ میں ٹی وی چینلز کے ریگولیٹری ادارے آف کام کو اس حوالے سے شکایت کی ہے۔