27 اگست کو درج ہونے والی ایف آئی آر میں بچی کے والد کا کہنا ہے کہ اُنھیں دوپہر ساڑھے بارہ بجے اپنی اہلیہ کی کال موصول ہوئی کہ بچی گھر میں موبائل فون دیکھ رہی تھی کہ اسی دوران ملزم اسے اپنے ساتھ باہر لے گیا اور کافی دیر گزرنے کے بعد بھی بچی واپس نہیں آئی۔
انتباہ: اس رپورٹ میں ریپ اور قتل سے متعلق ایسی تفصیلات شامل ہیں جو بعض قارئین کے لیے پریشان کن ہو سکتی ہیں۔
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے وسطی شہر گجرات میں جمعرات کے روز لاپتہ ہونے والی چار سالہ نور فاطمہ کی لاش ملزم کی نشاندہی پر دو روز کی تلاش کے بعد برساتی نالے سے برآمد کر لی گئی ہے۔
پولیس کے مطابق بچی کے مبینہ ریپ اور قتل کے الزام میں اس کے تایا کے بیٹے کو گرفتار کر کے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
بچی کے اغوا کی ایف آئی آر والد کی مدعیت میں جمعرات کو درج کی گئی تھی جبکہ پولیس کے مطابق دو روز بعد بچی کی لاش ملنے کے بعد اس میں ریپ اور قتل کی دفعات بھی شامل کر لی گئی ہیں اور بچی کا پوسٹ مارٹم کروایا جا رہا ہے۔
ایف آئی آر کے مطابق چار سالہ نور فاطمہ کو جمعرات کو اپنے گھر میں موبائل فون دیکھ رہی تھی جب اس کا کزن اسے اپنے ساتھ لے گیا۔
جلال پور جٹاں میں پیش آنے والے واقعے میں مقامی پولیس کا دعویٰ ہے کہ ملزم نے بچی کو مبینہ طور پر ریپ کا نشانہ بنانے کے بعد بیہوشی کی حالت میں اسے بوری میں بند کر کے نالے میں بہا دیا تھا۔ ملزم کی اس نشاندہی کے بعد ریسکیو حکام نے دو روز قبل اس برساتی نالے میں تلاش کا آغاز کیا تھا۔
گجرات پولیس کے ترجمان راحیل عارف نے بی بی سی کو بتایا کہ بچی کی لاش کو دو روز بعد جائے وقوعہ سے پانچ کلو میڑ دور برساتی نالے سے برآمد کیا گیا ہے جسے پوسٹ مارٹم کے بعد لواحقین کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
مقامی پولیس کے مطابق اس مقدمے میں گرفتار ہونے والا 16 سالہ ملزمپولیس کی حراست میں ہے اور پولیس نے اس کا ڈی این اے ٹیسٹحاصل کر لیا ہے۔ پولیس کے مطابق ملزم مدعی کا بھتیجا ہے۔
بچی کے والد ذیشان نے بی بی سی کو بتایا کہ بچی کی لاش زیادہ دیر تک پانی میں رہنے کی وجہ سے پھول گئی ہے اور شناخت کے قابل نہیں ہے۔ لہذا اس کی فوری تدفین کی جا رہی ہے۔
ایف آئی آر میں کیا ہے؟
27 اگست کو درج ہونے والی ایف آئی آر میں بچی کے والد کا کہنا ہے کہ اُنھیں دوپہر ساڑھے بارہ بجے اپنی اہلیہ کی کال موصول ہوئی کہ بچی گھر میں موبائل فون دیکھ رہی تھی کہ اسی دوران ملزم اسے اپنے ساتھ باہر لے گیا اور کافی دیر گزرنے کے بعد بھی بچی واپس نہیں آئی۔
ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ بعدازاں بچی کی تلاش شروع کی گئی تو ایک شخص نے بتایا کہ ملزم (مدعی کا سگا بھتیجا) اسے اپنے ساتھ لےکر جا رہا تھا۔
ایف آئی آر میں والد نے شک ظاہر کیا تھا کہ ان کے اپنے ہی بھتیجے نے چار سالہ نور فاطمہ کو اغوا کیا، لہذا اس کے خلاف کارروائی کی جائے۔
’بھائی یا بھتیجوں سے کوئی رنجش نہیں تھی‘
نور فاطمہ کے والد ذیشاننے بی بی سیکو بتایا کہ بیٹی کے اغوا کے مقدمے کے اندراج کے بعد مقامی تھانے سے اس مقدمے کے تفتیشی افسر کا فون آیا تھا، جنھوں نے بتایا کہ پولیس نےملزم کو گرفتار کر لیا ہے۔
ذیشان حیدر جو کہ پیشے کے اعتبار سے درزی ہیں، کا کہنا ہے کہ ملزم اس کے سگے بھائی کا بیٹا ہے اور ان کا ایک دوسرے کے گھر آنا جانا ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ ان کی اپنے بھائی یا بھتیجوں کے ساتھ کوئی رنجش نہیں تھی۔
بچی کے والد کے مطابقپولیس ابھی صرف گرفتار ملزم کے بیان کو بنیاد بنا کر ہی تفتیش کو آگے بڑھا رہی ہے۔
گجرات پولیس کے ترجمان کا دعویٰ ہے کہ ملزم کی نشاندہی پر پولیس کی ٹیمیں رات سے بچی کی لاش کو تلاش کر رہی تھیں۔
گجرات پولیس کے ترجمان راحیل عارف کا مزید کہنا تھا کہ بچی کے پوسٹ مارٹم کے بعد مزید حقائق سامنے آئیں گے۔
اُن کا کہنا تھا کہ ملزم کو جمعے کے روز حراست میں لے لیا گیا تھا اور اس سے پوچھ گچھ جاری تھا۔ تاہم اب اسے اتوار کو عدالت میں پیش کر کے ریمانڈ حاصل کیا جائے گا۔

پاکستان میں بچیوں کے ریپ اور قتل کے واقعات میں اضافہ
پاکستان میں حالیہ عرصے میں بچوں کے ریپ اور قتل کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
چند روز قبل خیبر پختونخوا کے ضلع ہری پور کے رہائشی محمد شفیق کی اکلوتی پانچ سالہ بیٹی آیت نور کی لاش اس کے لاپتہ ہونے کے 15 روز بعد ایک کنویں سے برآمد ہوئی تھی۔
ہری پور پولیس نے بتایا تھا کہ اس واقعے میں ملوث چار ملزمان کو گرفتار کیا گیا جن میں ایک کی عمر 18 سال سے کم ہے۔
اس سے قبل جون میں پنجاب کے شہر سرگودھا سے تعلق رکھنے والی آٹھ سالہ منتہا زہرہ کو مبینہ طور پر ریپ کے بعد قتل کر دیا گیا تھا۔
بعدازاں پنجاب پولیس اور کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کے حکام نے بتایا تھا کہ سرگودھا شہر میں آٹھ سالہ بچی کے مبینہ ریپ اور قتل کے مرکزی ملزم کی پولیس مقابلے میں ہلاکت ہو گئی۔
پولیس نے آٹھ سالہ منتہا زہرا کے مبینہ ریپ اور قتل کے الزام میں مرکزی ملزم سمیت پانچ افراد کو گرفتار کرنے کے بعد مزید تفتیش کی غرض سے سی سی ڈی کے حوالے کیا تھا۔
گذشتہ برس اپریل میں راولپنڈی کی تحصیل مندرہ میں سات سالہ بچی کے ساتھ مبینہ طور پر ریپ کر کے اسے قتل کرنے والا ملزم اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہو گیا تھا۔
مقامی پولیس کے مطابق ملزم مبینہ ریپ کے بعد قتل کی گئی بچی کا سگا ماموں تھا۔