بین الاقوامی ثالثی عدالت نے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی سے متعلق بھارت کا موقف رد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کوئی بھی ریاست محض سیاسی حالات یا اپنی مرضی کی بنیاد پر بین الاقوامی معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل یا "Abeyance" میں نہیں رکھ سکتی۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ بھارت سندھ طاس معاہدے سے صرف اپنی پسند کے فوائد حاصل نہیں کر سکتا، بلکہ اسے دوسرے فریق کے حقوق اور معاہدے میں طے شدہ ڈیزائن کی حدود، شفافیت اور تنازعات کے حل کے طریقہ کار کی مکمل پابندی کرنا ہوگی۔
عدالتی فیصلے کے تحت بھارت کے رتلے ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ پر عبوری پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔ ترجمان کے مطابق یہ فیصلہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کے خدشات کو سنجیدگی سے لیا گیا ہے اور حتمی فیصلے تک اس کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا گیا ہے۔
پاکستان کے موقف کے مطابق وہ بھارت کے معاہدے کے عین مطابق پن بجلی منصوبوں کی مخالفت نہیں کرتا اور نہ ہی کسی کی ترقی میں حائل ہونا چاہتا ہے، بلکہ اس کا نکتہ نظر صرف یہ ہے کہ تمام منصوبے طے شدہ تکنیکی و قانونی حدود اور شفافیت کے دائرے میں رہ کر مکمل کیے جائیں۔