امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کراچی میں تاجر کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ظلم اب برداشت سے باہر ہوگیا ہے اور اس پر خاموش نہیں رہا جا سکتا۔
وزراء ٹیکسوں کے معاملے پر آئی ایم ایف کے ہاتھوں مجبوری کا اظہار کرتے ہیں، حالانکہ آئی ایم ایف کی دلدل سے نکلنے کا متبادل حل موجود ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر سرکاری حکام 1300 سی سی گاڑیاں استعمال کریں تو اربوں روپے کی بچت ممکن ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ وزیروں اور افسران کے لیے مفت بجلی اور پیٹرول کا خاتمہ کیوں نہیں کیا جاتا، جبکہ حکومت پیٹرولیم کا خرچ کم کرنے کی کوئی کوشش نہیں کر رہی۔
حافظ نعیم الرحمان نے مزید کہا کہ آئی پی پیز کو جماعت اسلامی نے بے نقاب کیا اور کامیاب دھرنوں کے ذریعے فی یونٹ 16 روپے تک کمی کروائی۔ انہوں نے عزم کا اظہار کیا کہ آئی پی پیز کا پیچھا نہیں چھوڑا جائے گا اور بجلی کے بل آدھے کروائے جائیں گے۔