پیٹرولیم لیوی اور مہنگائی کے خلاف جماعت اسلامی کی ہڑتال کی کال پر کراچی شہر کے تمام اہم تجارتی اور کاروباری مراکز مکمل طور پر بند ہیں۔
صدر، کلفٹن، ریگل، کھارادر، جوڑیا بازار اور بولٹن مارکیٹ سمیت مرکزی کاروباری علاقوں میں 90 فیصد کاروبار معطل ہے۔ علاوہ ازیں لیاقت آباد، کورنگی، لیاقت مارکیٹ ملیر، حیدری اور نارتھ کراچی کے کاروباری مراکز میں بھی سرگرمیاں ٹھپ ہیں۔
سڑکوں پر پبلک ٹرانسپورٹ کی آمد و رفت معمول سے انتہائی کم ہے، جس کی وجہ سے شہریوں کو آمدورفت میں شدید مشکلات اور پریشانی کا سامنا ہے۔
قبل ازیں کراچی میں کورنگی کراسنگ، موسمیات اور صفورا چورنگی سمیت اطراف کے علاقوں میں بھی دکانیں اور پیٹرول پمپس بند کروا دیے گئے۔
دوسری جانب کورنگی کراسنگ کے قریب نامعلوم افراد کی جانب سے جلاؤ گھیراؤ کیا گیا اور سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کردی گئیں، جبکہ دو موٹرسائیکلوں کو بھی نذرِ آتش کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ واقعے کی اطلاع ملنے پر پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی۔
کراچی بار ایسوسی ایشن نے بھی ہڑتال کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے سندھ ہائی کورٹ سے کراچی پریس کلب تک مہنگائی کے خلاف پُرامن ریلی نکالنے کا اعلان کیا ہے۔ بار ایسوسی ایشن نے عدالت سے وکلا اور سائلین کی عدم حاضری پر سخت احکامات جاری نہ کرنے کی بھی درخواست کی ہے۔
امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ ملک گیر شٹر ڈاؤن ہڑتال تاریخ ساز ہوگی جس کے بعد آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پیٹرولیم لیوی، بھتہ ٹیکس، آئی پی پیز اور بڑھتی مہنگائی کے خلاف جماعت اسلامی کی تحریک جاری رہے گی۔ حکومت کو پیٹرولیم لیوی اور بھتہ ٹیکس ختم کرکے آئی پی پیز سے عوام دشمن معاہدے منسوخ کرنا ہوں گے۔
حافظ نعیم الرحمان کے مطابق اسلام آباد لانگ مارچ اور ملک بھر میں دھرنے پھیلانے سمیت مختلف آپشنز موجود ہیں جبکہ چاروں صوبائی دارالحکومتوں سمیت مختلف شہروں میں دھرنے جاری ہیں۔