جرمنی کے 34 شہروں میں نوجوانوں کی جانب سے بہتر تعلیمی سہولتوں، مہنگائی میں کمی اور لازمی فوجی سروس کے خاتمے کے مطالبات پر احتجاجی مظاہرے کیے گئے، تاہم متعدد شہروں میں احتجاج نے پرتشدد شکل اختیار کرلی۔
جرمن میڈیا کے مطابق مالیاتی مرکز فرینکفرٹ میں نقاب پوش مظاہرین نے کم از کم دو دکانوں میں لوٹ مار کی جبکہ متعدد دیگر دکانوں کو نقصان پہنچایا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مظاہرین کی جانب سے امدادی اہلکاروں پر پیٹرول بم بھی پھینکے گئے، جس کے بعد صورتحال پر قابو پانے کے لیے کارروائی شروع کردی گئی۔
جرمنی میں ’جن زی ریگلٹ‘ (Gen Z regelt) مہم کے تحت برلن، فرینکفرٹ اور میونخ سمیت 34 شہروں میں مظاہرے منعقد ہوئے۔ منتظمین کے مطابق نوجوان لازمی فوجی سروس کے مخالف ہیں اور حکومت سے تعلیم کے شعبے میں سرمایہ کاری بڑھانے اور بڑھتی ہوئی مہنگائی پر قابو پانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہروں کے منتظمین نے ایک لاکھ 82 ہزار افراد کی شرکت کی توقع ظاہر کی تھی، تاہم پولیس کے مطابق فرینکفرٹ، میونخ اور برلن میں مجموعی طور پر تقریباً 18 ہزار افراد احتجاج میں شریک ہوئے۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ حکومت نوجوانوں کے مسائل حل کرنے کے بجائے اخراجات میں کٹوتیاں کرکے عوام پر مزید معاشی بوجھ ڈال رہی ہے۔
دوسری جانب اس احتجاجی تحریک کی قیادت اور پس پردہ کردار کے حوالے سے بھی سوالات اٹھ رہے ہیں کہ آیا یہ نوجوانوں کی اپنی تحریک ہے یا اس کے پیچھے مختلف سیاسی اور سماجی تنظیمیں سرگرم ہیں۔ جرمنی کی قومی طلبہ تنظیم بی ایس کے نے اس مہم سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے 20 نومبر کو الگ احتجاج کرنے کا اعلان کیا ہے۔
واضح رہے کہ جرمنی کو اس وقت معاشی ترقی کی سست رفتاری، پنشن کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور عمر رسیدہ آبادی کے باعث عوامی خدمات کے شعبے میں بھی مختلف چیلنجز کا سامنا ہے۔