ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ قطر اور پاکستان کے ثالث ایرانی شرائط کے حوالے سے مشاورت جاری رکھے ہوئے ہیں، جبکہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی جانب سے بھیجے گئے پیغام کا اعلیٰ سطح پر محتاط جائزہ لیا جا رہا ہے۔
عرب میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ امریکی انتظامیہ کی جانب سے وسیع تر مذاکرات کی کوشش کو مثبت پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاہم ایران اپنی شرائط تسلیم کیے جانے کے بعد ہی براہ راست یا بالواسطہ مذاکرات کا فیصلہ کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ اگر جے ڈی وینس کے پیغام کا مقصد ایندھن کی تقسیم ہے تو یہ امریکا کی سابقہ غلطیوں کے بعد ایک اور غلطی ہوگی۔ موجودہ صورتحال میں امریکا کے ساتھ ملاقات کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے خبردار کیا کہ جنگ کا امکان مکمل طور پر ختم نہیں ہوا اور ایران ہر قسم کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔ ان کے مطابق ایران لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ چاہتا ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز کھولنے کے معاملے پر غور کیا جاسکتا ہے، تاہم اس کے لیے طے شدہ نئے بحری راستوں کو تسلیم کرنا اور دیگر راستوں کی بندش ضروری ہوگی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ قطر نے ایران کی سات روزہ تجویز کو پانچ روز تک محدود کرنے کی تجویز دی تھی، جس کے بعد ایک ایسی تجویز پر اتفاق رائے سامنے آیا ہے جس کے تحت عملدرآمد کی مدت دو روز مقرر کی گئی ہے۔