پاکستان کو مستقبل میں ایک اور بڑے سیلاب یا قدرتی آفت کا سامنا ہوسکتا ہے اور ماہرین کے مطابق اس خطرے کی ایک بڑی وجہ شمالی علاقوں میں گلیشیئرز کا تیزی سے پگھلنا ہے۔
ماہرینِ ماحولیات کا کہنا ہے کہ عالمی درجہ حرارت میں مسلسل اضافے کے باعث گلگت بلتستان، چترال اور خیبر پختونخوا کے پہاڑی علاقوں میں موجود گلیشیئرز تیزی سے متاثر ہو رہے ہیں۔ ان سے اچانک خارج ہونے والا پانی کئی علاقوں میں سیلاب کی صورت اختیار کرسکتا ہے جس سے آبادیوں اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔
پاکستان کے شمالی علاقوں میں 7 ہزار سے زائد گلیشیئرز موجود ہیں جبکہ ملک کے دریاؤں میں آنے والے پانی کا بڑا حصہ انہی برفانی ذخائر سے حاصل ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق گلیشیئرز کا معمول کے بجائے غیر معمولی رفتار سے پگھلنا مستقبل میں پانی کی دستیابی کے ساتھ ساتھ سیلاب کے خطرے کو بھی بڑھا سکتا ہے۔
پاکستان 2010 اور 2022 میں تباہ کن سیلابوں کا سامنا کرچکا ہے جنہوں نے بڑے پیمانے پر انسانی زندگی، معیشت اور انفرا اسٹرکچر کو متاثر کیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کے لیے بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے برسوں میں ملک کو اس سے بھی بڑے نقصانات کا سامنا ہوسکتا ہے۔