اسرائیل کو تسلیم کرنے کی شرط نہ یورینیم افزودگی پر پابندی: امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان جوہری معاہدے کا متن ٹرمپ کے بیانات سے متصادم

معاہدے کے اصل متن میں کہیں بھی سعودی عرب کے لیے معاہدۂ ابراہیم میں شمولیت یا اسرائیل کو تسلیم کرنے کی شرط موجود نہیں، 20 فیصد تک یورینیم افزودگی کا راستہ اگرچہ مشروط اور مرحلہ وار صورت میں ہے، لیکن باضابطہ طور پر کھلا رکھا گیا ہے۔
United States Saudi Arabia
Getty Images
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ اصرار رہا ہے کہ سعودی عرب سمیت خطے کے دیگر ممالک کو بھی ابراہیمی معاہدے میں شامل ہو جانا چاہیے

بی بی سی فارسی کو امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان جولائی میں طے پانے والے جوہری معاہدے کا متن ملا ہے، جس میں جوہری پروگرام کے بدلے اسرائیل کو تسلیم کرنے کی شرط کا ذکر نہیں ہے۔

معاہدے کے متن میں ریاض کے لیے تقریباً 20 فیصد تک یورینیم افزودگی کا راستہ مشروط اور مرحلہ وار انداز میں کھلا رکھا گیا ہے۔

بی بی سی کی تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ کم از کم اس دستاویز کے اصل متن میں ابراہیمی معاہدوں کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا اور ریاض پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کی کوئی پابندی نہیں ہے۔ لہذا یہ متن صدر ٹرمپ کے بیانات سے مماثلت نہیں رکھتا۔

معاہدے کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر امریکی صدر نے کہا تھا کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان سویلین مقاصد کے جوہری معاہدے کی منظوری سعودی عرب کی جانب سے ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہو گی۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’امریکہ کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کی منظوری دی جائے گی۔‘

انھوں نے اپنے بیان میں واضح کیا تھا کہ اس معاہدے کے تحت ’کسی بھی مواد کی افزودگی نہیں ہو گی‘ اور یہ صرف ’غیر فوجی استعمال سے متعلق ہے۔‘

انھوں نے اس سلسلے میں ’ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک‘ میں سویلین جوہری پروگرامز کی مثال دی اور کہا تھا کہ امریکہ ’سویلین جوہری تنصیبات کی مخالفت نہیں کرتا۔‘

Saudi Arabia United States
EPA

معاہدے کے متن میں مزید کیا ہے؟

جب صدر ٹرمپ نے جوہری معاہدے کو اسرائیل کو تسلیم کرنے سے مشروط کیا تو سعودی عرب نے صدر ٹرمپ کے بیانات کی تردید کی تھی۔

لیکن چونکہ وائٹ ہاؤس نے معاہدے کا متن جاری کرنے سے گریز کیا تھا، اس لیے اس کی تصدیق ممکن نہیں تھی۔

اب، امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان جوہری معاہدے پر دستخط کے چھ ہفتے اور امریکی کانگریس کو بھیجے جانے کے بعد اس کا مکمل اور دستخط شدہ متن بی بی سی کو موصول ہوا ہے۔

یہ متن تصدیق کرتا ہے کہ معاہدے کی نوعیت کے بارے میں امریکی صدر کے دعوے اس دستاویز کے اصل متن سے مطابقت نہیں رکھتے۔

معاہدے کے اصل متن میں کہیں بھی سعودی عرب کے لیے معاہدۂ ابراہیمی میں شمولیت یا اسرائیل کو تسلیم کرنے کی شرط موجود نہیں، 20 فیصد تک یورینیم افزودگی کا راستہ اگرچہ مشروط اور مرحلہ وار صورت میں ہے، لیکن باضابطہ طور پر کھلا رکھا گیا ہے۔

معاہدے کے متن میں سعودی عرب کو بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے اضافی پروٹوکول میں شامل ہونے کا پابند بھی نہیں بنایا گیا۔

معاہدے کی شق 7 کے مطابق اس کے تحت منتقل یا تیار کیا جانے والا یورینیم فریقین کی تحریری رضا مندی کے بعد افزودہ کیا جا سکے گا۔ اس کے لیے فریقین مل کر افزودگی کے امکانات کا جائزہ لیں گے۔

Saudi Arabia United States
EPA

اسی شق کی دفعہ پانچ کے مطابق یورینیم کی افزودگی کے لیے امریکی آلات اور ٹیکنالوجی استعمال کرنے کی صورت میں یورینیم کی افزودگی کی حد پانچ فیصد ہو گی۔ لیکن فریقین کی رضامندی کے بعد سعودی عرب یورینیم افزودگی کی شرح 20 فیصد تک بڑھا سکتا ہے۔

ایران میں پانچ فیصد سے زائد افزودگی کے مخالفین ہمیشہ یہ کہتے رہے ہیں کہ 20 فیصد افزودگی تک پہنچنے کے بعد جوہری بم کی ٹیکنالوجی تک رسائی کا تقریباً 90 فیصد راستہ طے ہو جاتا ہے اور بعد کے مراحل ممکنہ طور پر تیزی سے مکمل کیے جا سکتے ہیں۔

دوسری جانب اگرچہ یہ معاہدہ سعودی عرب کو معاہدے کے تحت متعین معائنوں کو قبول کرنے کا پابند بناتا ہے، تاہم اس ملک کے لیے اضافی پروٹوکول میں شامل ہونا لازمی نہیں ہو گا۔

اس پروگرام سے متعلق آلات، مواد یا کسی بھی قسم کے پرزوں کی فراہمی، حتیٰ کہ غیر حساس مقاصد کے لیے بھی، امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان دوطرفہ سکیورٹی معاہدے کے نفاذ سے مشروط ہو گی، جو اس حوالے سے امریکی نگرانی کے طریقۂ کار کو نافذ کرے گا۔

کیا صدر ٹرمپ نے سعودی عرب کو رعایتیں دی ہیں؟

جو بات مبصرین اور جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے ماہرین کو تشویش میں مبتلا کرتی ہے، وہ یہی مسئلہ ہے۔

امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان نگرانی کا معاہدہ صرف ’زیرِ احاطہ مقامات‘ تک محدود ہے، یعنی ایسے مقامات جو براہِ راست اسی معاہدے سے متعلق ہیں۔

یعنی وہ مقامات جو امریکی ٹیکنالوجی یا امریکی جوہری مواد کی مدد سے کام کرتے ہیں۔

اضافی پروٹوکول میں شمولیت کسی ملک کے پورے جوہری پروگرام، ممکنہ خفیہ مقامات اور امریکہ کے ساتھ تعاون سے آزاد مقامات کو بھی اپنے دائرے میں لے آتی ہے۔

امریکہ اور متحدہ عرب امارات کے جوہری معاہدے کا اس نئے سعودی معاہدے سے تقابل ہی واضح کرتا ہے کہ صدر ٹرمپ نے سعودی عرب کو قابلِ ذکر رعایتیں دی ہیں۔

متحدہ عرب امارات اس بات پر متفق ہوا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر کبھی بھی کسی قسم کی یورینیم افزودگی یا ری پراسیسنگ سرگرمی، خواہ امریکی ہو یا غیر امریکی انجام نہیں دے گا۔

اضافی پروٹوکول میں شمولیت امریکہ کی جانب سے کسی بھی جوہری برآمدی اجازت نامے کے اجرا کی پیشگی شرط تھی اور امارات کا افزودگی کی جانب کوئی بھی قدم، خواہ کسی اور عہد کی خلاف ورزی نہ بھی ہو، فریقین کے درمیان معاہدے اور تعاون کی مکمل خلاف ورزی تصور ہو گا۔

سعودی عرب نے ان میں سے کوئی بھی شرط قبول نہیں کی ہے۔

وائٹ ہاؤس نے کانگریس کو اپنے خط میں دو ’خفیہ ضمنی خطوط‘ کا ذکر کیا ہے جن کا متن اب تک شائع نہیں کیا گیا۔

اگر ان ضمنی خطوط کے متن میں ان معاملات سے متعلق کوئی اشارے موجود بھی ہوں، تو سعودی عرب کی منظوری اور دستخط کے بغیر وہ عملی طور پر اس تعاون کی نوعیت پر کوئی اثر نہیں ڈال سکتے۔

امریکہ، سعودی عرب معاہدے پر اسرائیل نے کیا کہا تھا؟

اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر نے ٹرمپ کے اس بیان کو دہرایا تھا کہ یہ معاہدہ ’مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے لیے تاریخی قدم ہو گا۔‘

ایکس پر بیان میں نیتن یاہو کے دفتر نے کہا کہ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ نے ’امن کے دائرے کو وسعت دینے کا امکان پیدا کیا ہے۔‘

جبکہ جوہری ماہرین اور اسرائیل، جو مشرق وسطیٰ میں امریکہ کا سب سے اہم اتحادی ہے، کے سابق عہدیداروں نے تشویش کا اظہار کیا ہے کہ یہ منصوبہ سعودی عرب کو جوہری ہتھیار تیار کرنے کے قابل بنا سکتا ہے۔

اسرائیل کے وزیرِ اقتصادیات نیر برکات کا کہنا ہے کہ اگر سعودی عرب جوہری توانائی کو صرف توانائی کی ضروریات کے لیے استعمال کرے تو اسرائیل کو اس پر اعتراض نہیں۔

انھوں نے اسرائیلی فوجی ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’اگر وہ اسے پرامن مقاصد کے لیے چاہتے ہیں تو ہم اس کے ساتھ چل سکتے ہیں۔ امریکہ اسرائیل کو خطرے میں نہیں ڈالنا چاہتا۔‘

نیر برکات نے مزید کہا کہ اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایسے معاملات میں خطرات کو سمجھے بغیر آگے نہیں بڑھتے۔

اس کے برعکس اسرائیل کے سابق وزیرِ دفاع اور وزیرِ خارجہ اویگدور لیبرمین کا مؤقف ہے کہ اسرائیل کو اس معاہدے کی مخالفت کرنی چاہیے۔

انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ’سعودی عرب کا سویلین جوہری پروگرام بالآخر جوہری ہتھیاروں کی جانب لے جا سکتا ہے۔ـ


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US