’ایشیا کی بہترین ٹیم 55 رنز پر آل آؤٹ‘: پاکستانی ویمنز ٹیم کو انڈیا کے ہاتھوں شکست اور وہاب ریاض کا دعویٰ

پاکستان کی جانب سے منیبہ علی اور شوال ذوالفقار نے 3۔4 اوورز میں 27 رنز بنا کر اننگز کا پراعتماد آغاز کیا، لیکن اس کے بعد وقفے وقفے سے وکٹیں گرنے لگیں اور پوری ٹیم 1۔18 اوورز میں 55 رنز پر پویلین لوٹ گئی۔
Pakistan Cricket
Getty Images

’میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ کہ یہ جو خواتین کھلاڑی ہیں ان میں مہارت ہے اور میں ابھی بھی اعتماد سے کہہ سکتا ہوں کہ یہ اس ایونٹ کی سب سے بہترین ٹیم ہے اور ٹورنامنٹ جیتنے کے لیے فیورٹ ہے۔‘

یہ الفاظ ہیں پاکستان ویمنز ٹیم کے ہیڈ کوچ وہاب ریاض کے، جو انڈیا کے ہاتھوں ٹیم کی یکطرفہ شکست کے باوجود اس ٹیم کی حوصلہ افزائی کر رہے تھے۔ لیکن سابق کھلاڑی اس پر وہاب ریاض کو آڑے ہاتھوں لے رہے ہیں۔

وہاب ریاض کے اس اعتماد کی وجہ کیا ہے، یہ آگے چل کر بتائیں گے، لیکن پہلے یہ جان لیتے ہیں کہ ویمنز ایشیا کپ میں انڈیا اور پاکستان کے درمیان میچ میں کیا ہوا۔

سنیچر کی شب دبئی سٹیڈیم میں ویمنز ایشیا کپ کے میچ میں پاکستان نے ٹاس جیت کر پہلے خود بیٹنگ کا فیصلہ کیا جو بہتر ثابت نہ ہو سکا۔

پاکستان کی جانب سے منیبا علی اور شوال ذوالفقار نے 3۔4 اوورز میں 27 رنز بنا کر اننگز کا پراعتماد آغاز کیا، لیکن اس کے بعد وقفے وقفے سے وکٹیں گرنے لگیں اور پوری ٹیم 1۔18 اوورز میں 55 رنز پر پویلین لوٹ گئی۔

پاکستان کے آٹھ کھلاڑی ڈبل فگر میں بھی داخل نہ ہو سکے۔ انڈیا کی جانب سے پریما راوت، شری گھرانی نے تین، تین جبکہ دپتی شرما نے دو وکٹیں حاصل کیں۔

جواب میں انڈیا کی ٹیم نے ہدف صرف نویں اوور میں پورا کر کے میچ جیت لیا جبکہ اس کی صرف تین وکٹیں گری تھیں۔

Pakistan Cricket bao
Getty Images

نو ہینڈ شیک

میچ سے قبل ٹاس کے دوران انڈیا اور پاکستان کی کپتانوں نے مصافحہ نہیں کیا جبکہ میچ ختم ہونے پر دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں کے درمیان بھی مصافحہ نہیں ہوا۔

یہ روایت ایک سال قبل انڈیا اور پاکستان کے درمیان مینز ایشیا کپ میں شروع ہوئی تھی، جو دونوں ممالک کے تعلقات میں تناؤ کے باعث ایک برس گزر جانے کے باوجود برقرار ہے۔

ایک برس قبل 14 ستمبر کو پاکستان اور انڈیا کی ٹیموں کے درمیان ایشیا کپ کے میچ میں ٹاس کے دوران انڈین کپتان سوریا کمار یادیو نے پاکستانی کپتان سلمان علی آغا سے ہاتھ نہیں ملایا تھا، جس کے بعد 21 ستمبر اور پھر 28 ستمبر کو فائنل میچ میں بھی دونوں ٹیموں کے درمیان ہینڈ شیک نہیں ہوا تھا۔

’کچھ بھی پاکستان کرکٹ کے حق میں نہیں جا رہا‘

سوشل میڈیا پر صارفین جہاں ویمنز ٹیم کی کارکردگی پر تنقید کر رہے تھے، تو وہیں میچ سے قبل چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ کے مشیر سلمان نصیر کی جانب سے ٹیم کی حوصلہ افزائی کے لیے کی جانے والی تقریر پر بھی تنقید کر رہے ہیں۔

سابق ٹیسٹ کرکٹ فیصل اقبال نے ایکس پر لکھا کہ ’کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کے لیے سابق کرکٹرز یا لیجنڈز گراؤنڈ میں آتے ہیں۔ لیکن یہاں سلمان نصیر کس حیثیت میں یہ سب کر رہے تھے؟‘

اعداد و شمار کے ماہر مظہر ارشد نے ایکس پر لکھا کہ ’ان دنوں پاکستان کے حق میں کچھ بھی نہیں ہو رہا۔ دبئی میں کھیلے جا رہے ویمنز ایشیا کپ میں انڈیا کے خلاف پوری ٹیم 55 رنز پر آؤٹ ہو گئی۔ یہ ٹی 20 انٹرنیشنل میچوں میں انڈیا کے خلاف پاکستان کا اب تک کا کم ترین سکور ہے۔‘

رانا عمر آصف نامی صارف نے لکھا کہ ’انڈیا کے خلاف صرف 55 رنز پر آل آؤٹ ہونے کے باوجود وہاب ریاض کا پاکستان ویمنز ٹیم کو ٹورنامنٹ کی بہترین ٹیم قرار دینا واقعی سمجھ سے بالاتر ہے۔ انڈیا نے یہ ہدف صرف 8.4 اوورز میں حاصل کر لیا اور سات وکٹوں سے کامیابی حاصل کی۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ ’اعتماد اچھی چیز ہے، لیکن حقیقت سے آنکھیں چرانا درست نہیں۔ پاکستان کرکٹ کو احتساب اور دیانتدارانہ جائزے کی ضرورت ہے، نہ کہ کھوکھلے بیانات کی۔‘

سپورٹس جرنلسٹ شاہد ہاشمی نے ایکس پر لکھا کہ ’27 رنز پر کوئی وکٹ نہیں گری تھی، لیکن 35 پر چھ وکٹیں گر گئیں۔ یہ ناقابلِ یقین صورتحال ہے۔‘

اُن کے بقول پاکستان ویمنز ٹیم پر بھی اب توجہ دی جا رہی ہے، لیکن بہتری کے کوئی آثار نظر نہیں آتے۔

اویس منگل والا نے لکھا کہ ’پاکستان کی خواتین اور مردوں کی ٹیمیں مسلسل ناکامی سے دوچار ہو رہی ہیں، اس کا ذمے دار کون ہے؟‘

Pakistan Cricket
Getty Images

پاکستان ویمنز ٹیم نے ایشیا کپ میں اپنے پہلے میچ تھائی لینڈ کو 36 رنز سے شکست دی تھی۔ لیکن دوسرے میچ میں اسے روایتی حریف انڈیا کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

پاکستان کی ٹیم اپنا اگلا میچ سات ستمبر کو ہانگ کانگ کے خلاف کھیلے گی۔ آٹھ ٹیموں کے ایشیا کپ میں پاکستان پوائنٹس ٹیبل پر اس وقت دوسرے نمبر پر ہے۔

ایشیا کپ میں پاکستان اور انڈیا کے علاوہ بنگلہ دیش، سری لنکا، تھائی لینڈ، انڈونیشیا، ہانگ کانگ اور متحدہ عرب امارات کی ٹیمیں بھی حصہ لے رہی ہیں۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US