کراچی میں صومالیہ کے ہاتھوں یرغمال پاکستانیوں کے اہلخانہ اپنے پیاروں کی واپسی کے لیے سڑک پر نکل آئے تاہم احتجاج کے دوران پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے 11 مظاہرین کو حراست میں لے لیا۔
مغوی پاکستانیوں کے خاندان اتوار کی شب شارع فیصل پر وزارتِ خارجہ کے کراچی دفتر کے باہر جمع ہوئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ کسی سیاسی مقصد کے لیے نہیں بلکہ اپنے پیاروں کی بحفاظت واپسی کے لیے پرامن احتجاج کر رہے ہیں۔
مظاہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ صومالیہ میں قزاقوں کے ہاتھوں یرغمال بنائے گئے پاکستانیوں کی بازیابی کے لیے فوری سفارتی اقدامات کیے جائیں۔ اہلخانہ کا کہنا تھا کہ وہ طویل عرصے سے اپنے پیاروں کی واپسی کے منتظر ہیں اور حکومت سے عملی پیش رفت چاہتے ہیں۔
احتجاج کے دوران پولیس نے مظاہرین کو وہاں سے ہٹنے کی ہدایت کی۔ اہلخانہ کے مطابق پولیس نے انہیں گرفتار کرنے کی دھمکیاں دیں اور بعد میں دھرنے کے مقام پر کارروائی کرتے ہوئے متعدد افراد کو حراست میں لے لیا۔ مظاہرین نے پولیس ایکشن پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کا احتجاج پرامن تھا اور ان کا مقصد صرف حکومت تک اپنی آواز پہنچانا تھا۔
پولیس کارروائی کے دوران مظاہرین کا کچھ سامان بھی قبضے میں لے لیا گیا۔ حراست میں لیے جانے والے افراد میں 6 مرد اور 5 خواتین شامل تھے۔
پولیس ایکشن کے بعد مغویوں کے اہلخانہ ٹیپو سلطان تھانے پہنچ گئے جہاں انہوں نے زیرِ حراست افراد کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ خاندانوں کا کہنا تھا کہ وہ پہلے ہی اپنے پیاروں کی سلامتی کے حوالے سے پریشان ہیں اور ایسے میں احتجاج کرنے والوں کو گرفتار کرنا ان کے لیے مزید تشویش کا باعث ہے۔
بعد ازاں پولیس نے تمام 11 زیرِ حراست مظاہرین کو رہا کردیا جبکہ کارروائی کے دوران لیا گیا سامان بھی واپس کردیا گیا۔
تاہم اہلخانہ کا بنیادی مطالبہ بدستور برقرار ہے: حکومت صومالیہ میں یرغمال پاکستانیوں کی بحفاظت واپسی کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کرے۔
ان خاندانوں کے لیے یہ احتجاج محض ایک دھرنا نہیں بلکہ اپنے ان پیاروں کے لیے آواز اٹھانے کی کوشش ہے جن کی واپسی کا وہ بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں۔