لوگوں کو اس بات کی زیادہ فکر ہے کہ سوشل میڈیا پر کیا ٹرینڈ کر رہا ہے لیکن ہمارے بچوں کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے اس پر کوئی بات نہیں کرنا چاہتا۔ لوگ رجب بٹ، ٹک ٹاکرز اور سوشل میڈیا کی شخصیات کے معاملات میں زیادہ دلچسپی لیتے ہیں جبکہ بچوں کے خلاف ہونے والے ظلم پر آواز اٹھانے والے بہت کم ہیں۔ میرے لیے یہ سمجھنا مشکل ہے کہ آخر ہمارے معاشرے میں بچوں کی حفاظت سے زیادہ دوسری چیزیں کیوں اہم ہوگئی ہیں۔ میں صرف اپنی بیٹی کے لیے نہیں بلکہ ہر اس بچے کے لیے آواز اٹھا رہی ہوں جو زیادتی کا شکار ہوا ہے۔ اس کے باپ کو کوئی فرق نہیں وہ میڈیا پریشر کی وجہ سے کچھ دن میرے ساتھ رہا اب وہ اپنی شادی کی تیاریوں میں مگن ہے۔
ایزل کی والدہ کی یہ گفتگو ایک ایسے درد کی عکاسی کرتی ہے جس سے گزرنے کے بعد بھی وہ خاموش نہیں ہوئیں۔ کراچی میں اپنی کم عمر 17 ماہ کی بیٹی کو جنسی زیادتی اور قتل کا نشانہ بنائے جانے کے بعد وہ مسلسل انصاف کے لیے آواز اٹھا رہی ہیں۔
والدہ کے مطابق انہیں سب سے زیادہ دکھ اس بات کا ہے کہ معاشرے میں سوشل میڈیا کے ٹرینڈز پر تو فوری بحث شروع ہوجاتی ہے لیکن بچوں کے خلاف ہونے والے جرائم اکثر اسی شدت سے موضوعِ گفتگو نہیں بنتے۔ ان کا کہنا ہے کہ لوگوں کو یہ بھی سوچنا چاہیے کہ ملک میں بچے کس حد تک محفوظ ہیں اور ان کے تحفظ کے لیے معاشرے کو کیا کردار ادا کرنا چاہیے۔
ایزل کی والدہ بچوں پر تشدد کے خلاف ہونے والے احتجاج میں بھی شریک رہی ہیں۔ وہ اپنی بیٹی کے معاملے کو صرف ایک خاندان کا مسئلہ نہیں سمجھتیں بلکہ اسے ملک میں بچوں کے تحفظ کے بڑے سوال سے جوڑتی ہیں۔
اسی سلسلے میں انہوں نے آیت نور کی والدہ سے بھی اظہارِ یکجہتی کیا ۔ ان کا مؤقف ہے کہ بچوں کے خلاف جرائم پر خاموش رہنے کے بجائے ایسے واقعات کے خلاف اجتماعی آواز بلند کرنا ضروری ہے۔
ایزل کی والدہ کی جدوجہد اب صرف اپنی بیٹی کے لیے انصاف تک محدود نہیں رہی۔ وہ ان تمام والدین اور بچوں کے ساتھ کھڑے ہونے کی کوشش کر رہی ہیں جو تشدد اور زیادتی کا سامنا کر چکے ہیں اور معاشرے سے مطالبہ کر رہی ہیں کہ سوشل میڈیا کے وقتی موضوعات سے آگے بڑھ کر بچوں کی حفاظت جیسے حقیقی مسائل پر بھی توجہ دی جائے۔