میر رضا کیس: جوڈیشل کمیشن میں دوستوں کے بیانات ریکارڈ، پولیس سے ریکارڈ طلب

image

کراچی میں میر رضا کیس کی تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن کی سماعت ہوئی جس میں مقتول کے دوستوں محمد ہیثم اور رزاق کے بیانات ریکارڈ کیے گئے۔

جسٹس عمر سیال پر مشتمل کمیشن کے سامنے محمد ہیثم نے بتایا کہ وہ سافٹ ویئر ہاؤس میں کام کرتے ہیں اور میر رضا سے 2014 سے اسکول کے زمانے کی دوستی تھی۔ ان کے مطابق میر رضا سے آخری ملاقات 27 جولائی کی رات تقریباً 3 بجے ہوئی جبکہ 28 جولائی کی رات ایک بجے ویڈیو کال پر بھی بات ہوئی تھی۔

ہیثم نے بتایا کہ میر رضا کی گمشدگی کا علم انہیں اس کی منگیتر کی کال سے ہوا۔ اس کے بعد انہوں نے رزاق سے رابطہ کیا اور پھر میر رضا کی والدہ سے فون پر کہا کہ وہ کمرہ چیک کرکے بتائیں کہ رضا وہاں موجود ہے یا نہیں۔ والدہ نے کچھ دیر بعد بتایا کہ رضا کمرے میں نہیں جبکہ اس کی گاڑی گھر پر موجود تھی۔

ہیثم نے کمیشن کو بتایا کہ انہوں نے رضا کے کمرے یا گاڑی کی تلاشی نہیں لی تاہم انہیں معلوم نہیں کہ تلاشی کے دوران ان کا نام کیوں لیا گیا۔

دوسری جانب میر رضا کے دوست رزاق نے بیان میں بتایا کہ 28 جولائی کو انہوں نے رضا کے ساتھ کھانا کھایا تھا۔ رزاق کے مطابق اس موقع پر رضا نے عجیب بات کہی کہ ہوسکتا ہے یہ آج میرا آخری کھانا ہو تاہم اسے معلوم نہیں کہ رضا نے ایسا کیوں کہا۔

رزاق نے بتایا کہ رضا کے لاپتا ہونے کے بعد انہوں نے احمد سے مشاورت کی اور رضا کی والدہ کے ساتھ گھر اور گاڑی کی تلاشی لی۔ ان کے مطابق مقصد صرف ایسا کوئی ثبوت تلاش کرنا تھا جس سے رضا کا سراغ مل سکے۔

کمیشن کے سوال پر رزاق نے بتایا کہ رضا کے کمرے سے ایک ریسٹورنٹ کی رسید ملی جس سے معلوم ہوا کہ احمد راجہ نامی شخص سے میر رضا قتل سے ایک روز قبل ملاقات کے لیے گیا تھا۔

رزاق نے مزید بتایا کہ مجتبیٰ نامی شخص میر رضا سے کرنسی ٹریڈنگ کے حوالے سے مشورے کرتا تھا۔ ان کے مطابق میر رضا اپنے منافع اور نقصان سمیت کاروباری معاملات دوستوں سے شیئر کرتا تھا تاہم قتل سے ایک روز قبل تک اس نے کسی مالی پریشانی کا ذکر نہیں کیا تھا۔ رزاق نے یہ بھی کہا کہ ان کے علم میں احمد اور میر رضا کے درمیان کوئی تلخی یا اختلاف نہیں تھا۔

سماعت کے دوران جسٹس عمر سیال نے پولیس کی جانب سے مکمل ریکارڈ پیش نہ کرنے پر برہمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ کمیشن نے پولیس سے تمام بیانات طلب کیے تھے لیکن مکمل ریکارڈ فراہم نہیں کیا گیا۔

جسٹس عمر سیال نے ریمارکس دیے کہ بظاہر کمیشن کو گمراہ کرنے کے لیے ریکارڈ فراہم نہیں کیا گیا اگر ایسا ہے تو مقتول کے والدین کے خدشات درست معلوم ہوتے ہیں۔

کمیشن نے تفتیشی ٹیم کے سربراہ ڈی آئی جی عامر فاروقی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ریکارڈ فراہم نہ کرنے کی وضاحت طلب کرلی۔ کمیشن نے ڈاکٹر سمیہ اور ڈاکٹر نسیم کو بھی کل طلب کرلیا جبکہ کیس کی فارنزک رپورٹ بھی جلد جمع کرانے کی ہدایت کی۔

فوکل پرسن نے کمیشن کو یقین دہانی کرائی کہ ممکنہ انسانی غلطی کے باعث کوئی رپورٹ رہ گئی ہوگی تاہم کمیشن کو مطلوب تمام معلومات اور رپورٹس فراہم کی جائیں گی۔ ان کے مطابق ضمنی چالان بھی مجسٹریٹ کے پاس جمع کرا دیا گیا ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US