زہر آلود چھتری کے ذریعے قتل کا معمہ جس کے تانے بانے روسی خفیہ ادارے سے ملے

سات ستمبر 1978 کو 49 سالہ جارجی مارکوف سینٹرل لندن کے واٹرلو برج پر واقع ایک بس سٹاپ پر کھڑے تھے جب یہ واقعہ پیش آیا اور بظاہر ایک شخص کے ہاتھ میں موجود چھتری کی نوک اُن کی ران میں چبھی تھی۔ یہ واقعہ پیش آنے کے چار روز بعد جارجی مارکوف ہسپتال میں دم توڑ گئے۔
People attend a commemoration service marking 35 years of the dead of Georgi Markov, a bulgarian disident killed in London in 1978, in a church in Sofia on September 11, 2013. Bulgaria is set to close a 35-year probe into the spectacular
AFP via Getty Images
بظاہر ایک شخص کے ہاتھ میں موجود چھتری کی نوک جارجی مارکوف کی ران میں چبھی تھی، مگر آگے چل کر پتا چلا کہ یہ قتل کی ایک منفرد اور غیرمعمولی واردات تھی

’اُنھیں ایسا محسوس ہوا تھا کہ جیسے اُن کی ران میں کوئی چیز چُبھی ہو۔ انھوں نے مُڑ کر دیکھا تو اُن کے پیچھے ایک شخص کھڑا تھا، جس نے اُن سے معذرت کی اور عین اُسی وقت اُس شخص کے ہاتھ میں موجود چھتری نیچے گر گئی۔‘

بلغاریہ سے تعلق رکھنے والے ناقد، صحافی اور مصنف جارجی مارکوف کی بیوہ اینابیل مارکوف نے اپنے شوہر کی موت کی کہانی سُنانے کا آغاز کچھ یوں کیا تھا۔

سات ستمبر 1978 کو 49 سالہ جارجی مارکوف سینٹرل لندن کے واٹرلو برج پر واقع ایک بس سٹاپ پر کھڑے تھے جب یہ واقعہ پیش آیا اور بظاہر ایک شخص کے ہاتھ میں موجود چھتری کی نوک اُن کی ران میں چبھی تھی۔

یہ واقعہ پیش آنے کے چار روز بعد جارجی مارکوف ہسپتال میں دم توڑ گئے۔

ابتدائی طور پر ڈاکٹروں نے اُن کی موت کی وجہ خون میں زہریلے انفیکشن (بلڈ پوائزننگ) کو قرار دیا، تاہم تفتیش کاروں کو جلد ہی اندازہ ہو گیا کہ یہ سیاسی بنیادوں پر کیا گیا قتل تھا، جس میں ایک نہایت پیچیدہ اور (اُس زمانے کے مطابق) جدید طریقۂ کار استعمال کیا گیا تھا۔

جارجی مارکوف کی بیوہ اور اُن کے بڑے بھائی نے سنہ 1979 میں بی بی سی کے پروگرام پینوراما میں بتایا تھا کہ مارکوف کی موت سے کئی ماہ قبل ایک نامعلوم شخص نے انھیں خبردار کیا تھا کہ مارکوف کو زہر دے کر قتل کیے جانے کا منصوبہ ہے۔

جارجی مارکوف کی موت کے بعد کے دنوں میں برطانیہ کے انسدادِ دہشت گردی کے ادارے کو ایک ایسا سراغ ملا جس نے تفتیش کاروں کو یقین دلا دیا کہ وہ (مارکوف) ایک منفرد اور غیرمعمولی قتل کی سازش کا شکار ہوئے تھے۔

بی بی سی کے پروگرام پینوراما کے رپورٹر مائیکل کاکریل کے مطابق ’سکاٹ لینڈ یارڈ کی فارنزک لیبارٹری میں چیف سائنٹیفک افسر نے ایک ایسی نہایت چھوٹی دھاتی شے کا معائنہ کیا جو مارکوف کی متاثرہ ران سے برآمد ہوئی تھی۔‘

انھوں نے کہا کہ ’خوردبین کے نیچے یہ واضح ہو گیا کہ یہ دھاتی شے انتہائی پیچیدہ انداز میں تیار کیا گیا ایک ننھا سا پیلیٹ (چھرا) تھا، جس کا حجم سوئی کی ٹپ (سرے) سے بڑا نہیں تھا۔ اس میں چار نہایت باریک سوراخ موجود تھے اور فارنزک ماہرین کو یقین تھا کہ ان سوراخوں میں انتہائی معمولی مقدار میں ایک نہایت مہلک زہر موجود تھا، جو مارکوف کی موت کا سبب بن سکتا تھا۔‘

مارکوف کی موت کے بعد پورٹن ڈاؤن (برطانیہ کے انتہائی خفیہ کیمیائی اور حیاتیاتی جنگی تحقیقاتی مرکز) کے سائنسدان اس نتیجے پر پہنچے کہ مارکوف کی ہلاکت کی وجہ انتہائی مہلک زہریلا مادہ ’رائسِن‘ تھا۔

پینوراما کے مطابق، اس سے قبل برطانیہ میں قتل کے لیے اس زہر کے استعمال کا کوئی معروف واقعہ سامنے نہیں آیا تھا۔

بعد ازاں معلوم ہوا کہ مارکوف پر حملے سے 10 روز قبل ایک اور بلغاریہ نژاد جلاوطن شخص بھی ممکنہ طور پر اسی طرز کے حملے کا نشانہ بنا تھا۔

بلغارین شہری ولادیمیر کوستوف نے بعدازاں بتایا تھا کہ وہ اپنی اہلیہ کے ساتھ پیرس میٹرو سے باہر نکل رہے تھے جب انھیں اپنی کمر میں اچانک تیز درد محسوس ہوا۔ اس کے بعد وہ تین روز تک شدید بخار میں مبتلا رہے، مگر بعد میں وہ صحتیاب ہو گئے۔

مارکوف کی موت کی خبر سننے کے بعد ولادیمیر کوستوف نے اپنی کمر کا ایکس رے کروایا، جس میں ایک نہایت چھوٹی دھاتی شے کی موجودگی کا انکشاف ہوا۔ پیرس کے ایک کلینک میں ایک سرجن نے فرانسیسی پولیس کے ایک افسر کی نگرانی میں اُن کا آپریشن کیا۔

بلغارین شہری ولادیمیر کوستوف نے بی بی سی کو بتایا کہ ’سرجن کو غیرمعمولی احتیاط برتنا پڑی۔ انھوں نے دھاتی پیلیٹ (چھرے) کو چھوئے بغیر نکال لیا۔‘

بعد ازاں یہ چھوٹا سا چھرا سکاٹ لینڈ یارڈ کے ایک تفتیشی افسر کے حوالے کر دیا گیا، جو اسے تجزیے کے لیے برطانیہ لے گئے۔

سکاٹ لینڈ یارڈ کے ماہرین نے طاقتور سکیننگ الیکٹران خوردبین کی مدد سے ولادیمیر کوستوف کی کمر سے نکالے گئے چھرے کا تجزیہ کیا۔ تحقیقات سے معلوم ہوا کہ یہ چھرا مارکوف کی ران سے ملنے والے چھرے سے مکمل طور پر مشابہ تھا۔

An umbrella similar to the one the KGB used to kill dissident Georgi Markov is seen in an exhibit at the new International Spy Museum during a media preview ahead of its opening in Washington, DC, May 7, 2019. - A lipstick pistol, a button-hole camera, a lethal umbrella and an authentic waterboarding table: the espionage worlds' heroic, ingenious and sordid sides are all on show in Washington's all-new, much-expanded International Spy Museum. (Photo by SAUL LOEB / AFP) (Photo credit should read SAUL LOEB/AFP via Getty Images)
Getty Images
بین الاقوامی سپائی میوزیم میں موجود اُس چھتری کی نقل جو جارجی مارکوف کو قتل کرنے کے لیے استعمال کی گئی

پینوراما کے رپورٹر مائیکل کاکریل کے مطابق ’دونوں چھروں کا وزن بالکل یکساں تھا۔ اُن میں موجود سوراخ ایک ہی مقامات پر تھے، اور دونوں ایک نایاب پلاٹینم، ایریڈیم مرکب دھات سے تیار کیے گئے تھے۔‘

برطانوی ادارے ’پورٹن ڈاؤن‘ کے ماہرین نے ولادیمر کوستوف کے جسمانی ٹشوز میں رائسِن کے خلاف بننے والی اینٹی باڈیز دریافت کیں اور اس نتیجے پر پہنچے کہ وہ اس لیے زندہ بچ گئے تھے کیونکہ دھاتی چھرے میں موجود زہر کی مقدار جان لیوا حد تک نہیں تھی۔

حملے میں استعمال کی گئی نہایت پیچیدہ تکنیک اور مختلف ممالک میں ہونے والے بظاہر مربوط حملوں کے شواہد نے سکاٹ لینڈ یارڈ کو یہ یقین دلایا کہ جارجی مارکوف کے قتل میں کسی غیرملکی ریاستی خفیہ ادارے کا کردار تھا۔

جارجی مارکوف، جو اپنے آبائی ملک بلغاریہ میں ایک معروف ناول نگار اور ڈرامہ نگار سمجھے جاتے تھے اور حکومتی اشرافیہ کے حلقوں میں بھی رسائی رکھتے تھے، سنہ 1969 میں اُس وقت کے کمیونسٹ بلغاریہ سے منحرف ہو گئے تھے۔

برطانیہ میں سکونت اختیار کرنے کے بعد وہ بلغاریہ کی حکومت کے کُھلے ناقد بن گئے اور بی بی سی ورلڈ سروس کے علاوہ امریکی سرکاری مالی معاونت سے چلنے والے نشریاتی ادارے ریڈیو فری یورپ کے لیے بھی کام کرنے لگے۔

جارجی مارکوف کی اہلیہ اینابیل مارکوف نے بتایا کہ اُن کے شوہر کو قتل کرنے کی سازش کے بارے میں پہلے ہی انتباہات موصول ہوئے تھے۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ مئی 1978 میں ایک شخص نے جارجی مارکوف سے رابطہ کیا تھا اور انھیں ممکنہ خطرے سے آگاہ کیا تھا۔

اینابیل مارکوف نے بتایا کہ ’وہ ساری شام بلغاری زبان میں گفتگو کرتے رہے۔ وقفے وقفے سے جارجی میری طرف مڑتے اور انگریزی میں کہتے ’یہ شخص جو کچھ بتا رہا ہے، وہ حیران کُن ہے۔‘

اینابیل کے مطابق، اس گمنام شخص نے جارجی مارکوف کو بتایا تھا کہ بلغاریہ کی اعلیٰ ترین سیاسی قیادت نے انھیں (مارکوف) قتل کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، کیونکہ وہ ریڈیو فری یورپ کے لیے حکومت مخالف اور بے باک تبصرے اور نشریاتی مواد تیار کر رہے تھے۔

مارکوف کے بھائی نکولا مارکوف نے بھی اس دعوے کی تائید کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ انھیں ستمبر 1977 میں ایک فون کال موصول ہوئی تھی۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ایک شخص نے مجھے فون کر کے کہا کہ جارجی کو قتل کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے، انھیں بغیر کوئی ثبوت چھوڑے راستے سے ہٹا دیا جائے گا۔‘

نکولا کے بقول ’ابتدا میں مجھے اس بات پر یقین نہیں آیا۔ یہ بات مضحکہ خیز اور ناممکن سی لگ رہی تھی۔ لیکن اس شخص نے کچھ ایسی مخصوص تفصیلات بتائیں جن پر شک کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔ اس نے کہا کہ جارجی کو پہلا موقع ملتے ہی ضرور زہر دیا جائے گا۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ کسی قسم کا زہر یا کوئی بیکٹیریا (اگرچہ اسے ٹھیک طور پر معلوم نہیں تھا کہ کیا) پہلے ہی مغربی یورپ پہنچایا جا چکا ہے۔‘

Georgi Markov
Getty Images
جارجی مارکوف بلغاریہ کی حکومت کے بے لاگ ناقد تھے

’حکومت کا بڑا ناقد‘

بلغاریہ سے جلاوطنی اختیار کرنے اور برطانیہ منتقل ہونے کے بعد بھی جارجی مارکوف اپنے آبائی ملک میں ریڈیو فری یورپ کے ذریعے نشر ہونے والے اپنے تبصروں کی بدولت معروف شخصیت رہے۔

وہ ہر ہفتے بلغاریہ میں سامعین کے لیے ایسے پروگرام پیش کرتے تھے جن میں بلغاریہ کے اشرافیہ اور طاقت کے ایوانوں میں زندگی کی حقیقی تصویر بیان کی جاتی تھی۔

ان کے ایک پروگرام کا عنوان 'لائف بیہانڈ دی کرٹنز‘ (یعنی پردے کے پیچھے کی زندگی) تھا۔ اس پروگروام کا عنوان بلغاریہ میں سرکاری حکام کی سیاہ مرسڈیز گاڑیوں کی کھڑکیوں پر لگے چھوٹے پردوں کی طرف اشارہ تھا۔

مارکوف نے اپنے پروگراموں میں ملک میں مطلق اختیارات کے ناجائز استعمال کی ایک چونکا دینے والی تصویر پیش کی، جس میں اقربا پروری، مالی بے ضابطگیوں اور بدعنوانی کے واقعات شامل تھے۔

اگرچہ بلغاریہ کی حکومت سرکاری طور پر یہ دعویٰ کرتی رہی کہ جارجی مارکوف کے پروگراموں کا کوئی خاص اثر نہیں تھا، تاہم بی بی سی کی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ بلغاریہ کے صدر توڈور ژیوکوف مارکوف کے ان پروگراموں سے خاص طور پر ناراض تھے جن کا عنوان ’توڈور ژیوکوف سے میری ملاقاتیں‘ تھا۔

اس پروگرام میں مارکوف نے صدر کے ساتھ اپنی ملاقاتوں اور حکومتی معاملات کے بارے میں کئی انکشافات کیے تھے۔

ریڈیو فری یورپ کی بلغاری نشریات سے وابستہ صحافی کیرل پانوف نے کہا کہ ’ہم نے سُنا تھا کہ صدر ژیوکوف مارکوف کے ان پروگراموں پر سخت برہم تھے جن میں ان کے ساتھ ملاقاتوں کا ذکر کیا گیا تھا۔ مارکوف ایسے موضوعات پر گفتگو کرتے تھے جو بلغاریہ میں گویا ممنوع سمجھے جاتے تھے، ایسی باتیں جن پر حکومت بات کرنا پسند نہیں کرتی تھی اور جن سے عوام کو لاعلم رکھنا چاہتی تھی۔‘

ژیوکوف 1956 سے بلغاریہ کے حکمران تھے اور ان کے سوویت یونین کے ساتھ انتہائی قریبی تعلقات تھے۔ وہ دونوں ممالک کے تعلق کو ایک ہی جسم کے دو پھیپھڑوں سے تشبیہ دیتے تھے جو ایک جیسے خون کی گردش سے توانائی حاصل کرتے ہیں۔

ماہرین کا خیال تھا کہ جارجی مارکوف کے قتل میں سوویت یونین کا کردار ضرور رہا ہو گا۔

سنہ 1971 میں بلغاریہ کی خفیہ پولیس سے منحرف ہونے والے سابق کرنل سٹیفان سویردلوف نے سنہ 1979 میں بی بی سی کو بتایا تھا کہ ’دارژاوْنا سگورنوست (بلغاریہ کی خفیہ سروس) کے ہر شعبے کی نگرانی کے جی بی کا ایک روسی مشیر کرتا تھا، جسے بعض اوقات 'انکل' کہا جاتا تھا اور جو براہِ راست ماسکو کو رپورٹ دیتا تھا۔ یہ تصور کرنا بھی مشکل ہے کہ ایسا آپریشن روسیوں کی معلومات کے بغیر انجام دیا گیا ہو۔‘

اسی طرح کے جی بی کے ایک سابق اسیسینیشن یونٹ کے سربراہ نکولائی خوخلوف کے مطابق حملے کا طریقۂ کار بھی سوویت مداخلت کی نشاندہی کرتا تھا۔

انھوں نے کہا کہ ’یہ تکنیک غیرمعمولی حد تک پیچیدہ تھی۔ اس سے مجھے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ اس کارروائی کی منصوبہ بندی کرنے والے افسران کسی انتہائی اعلیٰ شخصیت کو متاثر کرنا چاہتے تھے۔‘

مارکوف پر مہلک حملہ بلغاریہ کے صدر توڈور ژیوکوف کی سالگرہ کے دن کیا گیا تھا۔

سوویت یونین کے خاتمے کے بعد یہ انکشاف ہوا کہ کے جی بی نے ایک ایسی چھتری تیار کی تھی جس کے ذریعے شکار کے جسم میں رائسِن سے بھرا دھاتی پیلیٹ (چھرا) داخل کیا جا سکتا تھا۔

بعد ازاں منحرف ہونے والے کے جی بی کے دو سابق اہلکاروں نے بھی دعویٰ کیا کہ ان کی تنظیم نے اس قتل میں معاونت فراہم کی تھی، اگرچہ حملہ ایک اطالوی مجرم نے کیا تھا جس کا خفیہ نام ’پکاڈلی‘ بتایا گیا۔

مارکوف کے قتل کے الزام میں آج تک کسی شخص پر فردِ جرم عائد نہیں کی جا سکی۔ سنہ 2013 میں بلغاریہ نے مشتبہ افراد کی عدم موجودگی کے باعث یہ مقدمہ بند کر دیا تھا، تاہم برطانیہ میں یہ کیس اب بھی ایک کُھلی تفتیش کے طور پر موجود ہے۔

کے جی بی کے سابق افسر نکولائی خوخلوف نے سنہ 1979 میں بی بی سی کو بتایا تھا کہ مارکوف کا قتل سوویت قیادت کے لیے ایک سے زیادہ حوالوں سے فائدہ مند ہو سکتا تھا۔

اُن کے مطابق اس کارروائی کا مقصد صرف ایک مخالف آواز کو خاموش کرنا نہیں تھا، بلکہ بیرونِ ملک مقیم حکومت مخالف افراد اور منحرفین پر گہرا نفسیاتی اثر ڈالنا بھی تھا۔

خوخلوف نے کہا کہ ’اس سے یہ خوف پیدا ہوتا ہے کہ وہ غیرملک میں ہونے کے باوجود محفوظ نہیں ہیں، اور نہ ہی مغربی ممالک کے سکیورٹی نظام انھیں اُن کی جان کا تحفظ فراہم کر سکتے ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’یہ کارروائی گویا کسی شخص کے پیچھے جا کر اس کے کان میں یہ سرگوشی کرنے کے مترادف ہے: ’ہم جب چاہیں تم تک پہنچ سکتے ہیں۔ ہم تمہیں قتل کر سکتے ہیں۔‘


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US