سعودی عرب میں حوثی حملوں کے بعد پاکستان نے ایران تک ایک واضح پیغام پہنچایا ہے کہ وہ یمنی حوثیوں پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے سعودی سرزمین پر حملے رکوانے کے لیے کردار ادا کرے۔ معاملہ صرف ایک حملے یا محدود کشیدگی تک نہیں بلکہ خطے میں بڑھتے ہوئے سیکیورٹی خدشات سے جوڑا جا رہا ہے۔
رائٹرز نے علاقائی سفارتی اور پاکستانی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ اسلام آباد نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران تہران پر زور دیا کہ وہ اپنے اتحادی حوثیوں کو قابو میں رکھے، بصورت دیگر یہ تنازع ایک بڑے علاقائی بحران کی شکل اختیار کرسکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ریاض میں سعودی حکام نے پاکستانی اور ترک فوجی نمائندوں سے بھی رابطہ کیا تاکہ موجودہ صورتحال میں ممکنہ ردِعمل پر مشاورت کی جاسکے۔ تینوں ممالک کے درمیان اس بات پر اتفاق کی اطلاعات ہیں کہ ان کی افواج یمن میں داخل نہیں ہوں گی اور اگر کوئی فوجی کارروائی ہوئی تو اس کا مقصد سعودی حدود کا دفاع ہوگا۔
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون کے تناظر میں اس پیغام کو خاص اہمیت دی جا رہی ہے۔ رائٹرز کے مطابق پاکستان سعودی سرزمین کے دفاع کے لیے فوجی، تکنیکی، زمینی یا فضائی معاونت فراہم کرسکتا ہے، تاہم کسی دوسرے ملک کی سرزمین پر جنگی کارروائی میں براہِ راست حصہ لینے کا فیصلہ سامنے نہیں آیا۔
ادھر حوثیوں نے منگل کے روز سعودی عرب کے خمیس مشیط میں ایک ایئر بیس اور قریبی علاقوں میں تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 73 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ موجودہ صورتحال نے ایک بار پھر یہ خدشہ پیدا کردیا ہے کہ یمن سے جڑا تنازع خطے کے دوسرے ممالک تک بھی پھیل سکتا ہے۔
تاہم پاکستانی ذرائع کے مطابق سعودی عرب کے دفاع یا کسی ممکنہ جوابی کارروائی میں براہِ راست شمولیت کے حوالے سے ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔