ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ شہریوں پر ٹیکس، لیوی اور مختلف مارجنز کا بوجھ بھی نمایاں ہے۔
دستاویزات کے مطابق صارفین ایک لیٹر پیٹرول کی اصل لاگت کے مقابلے میں 133 روپے سے زائد اضافی رقم ادا کر رہے ہیں، جبکہ ڈیزل کے معاملے میں یہ فرق 122 روپے سے زیادہ ہے۔
دستیاب اعداد و شمار کے مطابق پیٹرول کی فی لیٹر لاگت 234 روپے 73 پیسے بنتی ہے، تاہم شہری اسے 367 روپے 75 پیسے میں خرید رہے ہیں۔ یوں اصل لاگت اور مقررہ قیمت کے درمیان 133 روپے 2 پیسے کا فرق موجود ہے۔ اس رقم میں لیوی، ٹیکس اور مختلف مارجنز شامل ہیں، جن کی مجموعی وصولی تقریباً 131 روپے 60 پیسے فی لیٹر بتائی گئی ہے۔
ہائی اسپیڈ ڈیزل کی صورتحال بھی کچھ مختلف نہیں۔ اس کی قیمت میں لیوی، ٹیکس اور مارجنز کی مد میں فی لیٹر 122 روپے 55 پیسے شامل ہیں، جس کے باعث صارفین کو اصل لاگت کے مقابلے میں خاصی زیادہ رقم ادا کرنا پڑ رہی ہے۔
دوسری جانب پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق گزشتہ صرف تین روز میں پیٹرول کی قیمت میں 21 روپے 88 پیسے فی لیٹر اضافہ ہوا ہے۔ 7 ستمبر کو جو پیٹرول 345 روپے 87 پیسے فی لیٹر دستیاب تھا، اس کی قیمت اب بڑھ کر 367 روپے 75 پیسے ہو چکی ہے۔
ڈیزل کی قیمت میں بھی اسی عرصے کے دوران 14 روپے 62 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا۔ 7 ستمبر تک 378 روپے 5 پیسے میں ملنے والا ڈیزل اب 392 روپے 67 پیسے فی لیٹر فروخت ہو رہا ہے۔
مسلسل بڑھتی قیمتوں کے درمیان سامنے آنے والے یہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ پٹرولیم مصنوعات کی موجودہ قیمت میں صرف عالمی یا بنیادی لاگت ہی شامل نہیں، بلکہ ٹیکسز، لیوی اور دیگر مارجنز بھی صارفین کے بل میں نمایاں حصہ رکھتے ہیں۔