بعض لوگوں نے یہ بھی پوچھا ہے کہ بڑھتے ہوئے امریکی قرضوں کے تناظر میں، جن میں جزوی اضافہ ایران کی جنگ کے نتیجے میں ہوا، آیا ٹرمپ کی پیشکش مالی طور پر قابلِ عمل ہے یا نہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیشکش کی ہے کہ اگر ریپبلکن نومبر کے وسط مدتی انتخابات میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو ہر بالغ امریکی کو پانچ ہزار ڈالر (3700 پاؤنڈ) دیے جائیں گے، لیکن یہ واضح نہیں کہ ایسے منصوبے کے لیے فنڈنگ کہاں سے آئے گی اور آیا یہ قانونی بھی ہے یا نہیں۔
بدھ کی شب ایک کنونشن میں ان کے بیان پر حامیوں نے پرجوش انداز میں داد دی، جبکہ ڈیموکریٹس نے اسے ’کھوکھلا وعدہ‘ قرار دیا۔
ٹرمپ نے ریپبلکن کانفرنس میں یہ بھی بتایا کہ یہ رقم امریکہ ہی میں خرچ کرنا ہو گی، تاہم یہ واضح نہیں کہ اس کی نگرانی کیسے کی جائے گی۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اشارہ دیا کہ اس کی ادائیگی محصولات سے حاصل ہونے والی آمدنی سے کی جا سکتی ہے اور یہ کہ ایسے چیک امیر امریکیوں کو نہیں دیے جائیں گے۔
کیا ٹرمپ کی پیشکش قانونی ہے؟
امریکی وفاقی قانون کے تحت ایسی ادائیگیاں غیر قانونی ہیں جن کا مقصد کسی شخص کے ووٹ ڈالنے کے طریقے پر اثر انداز ہونا ہو۔
تاہم بعض ماہرین نے کہا ہے کہ ٹرمپ کی جانب سے بدھ کو ٹیکساس میں کی گئی یہ پیشکش ٹیکسوں میں کمی کے وعدے کے طور پر دیکھی جا سکتی ہے، جو قانونی ہے۔
یونیورسٹی آف ساؤتھمپٹن میں قانون کی لیکچرر ڈاکٹر جون مہونی نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں یہ پیشکش قانونی ہو گی، اگرچہ ان کے مطابق سیاست دان ’عام طور پر اسے اتنے واضح انداز میں نہیں کرتے۔‘
انھوں نے کہا: ’ایک جانب تو یہ کچھ رشوت جیسا لگتا ہے، ریپبلکنز کو ووٹ دیں اور آپ کو رقم ملے گی، جو یقیناً غیر قانونی ہو گا۔ لیکن دوسری جانب یہ سب لوگوں کو ملے گی، اس سے قطع نظر کہ انھوں نے کس کو ووٹ دیا، اس لیے اس معنی میں یہ رشوت نہیں ہے۔‘
’میرے خیال میں یہ قانونی ہو گا۔ یہ اسی طرح کا انتخابی وعدہ ہے جیسے یہ کہنا کہ ’اگر ہماری جماعت جیت گئی تو ہم ٹیکس کم کر دیں گے۔ ہر جماعت ایسے وعدے کرتی ہے۔۔۔ اور ظاہر ہے کہ یہ مکمل طور پر قانونی ہے۔‘
تاہم چیتھم ہاؤس میں امریکہ اور شمالی امریکہ پروگرام کی ڈائریکٹر لورل ریپ نے بی بی سی کو بتایا کہ ٹرمپ کی پیشکش بظاہر ’ایک بہت مختلف، بہت زیادہ لین دین پر مبنی معاہدہ‘ معلوم ہوتی ہے، جو انتخابی مدت میں امیدواروں کی جانب سے کیے جانے والے معمول کے وعدوں سے مختلف ہے۔
اس پر کتنی لاگت آئے گی؟
قانونی حیثیت کے سوال کے علاوہ بعض لوگوں نے یہ بھی پوچھا ہے کہ بڑھتے ہوئے امریکی قرضوں کے تناظر میں، جن میں جزوی اضافہ ایران کی جنگ کے نتیجے میں ہوا، آیا ٹرمپ کی پیشکش مالی طور پر قابلِ عمل ہے یا نہیں۔
امریکہ میں تقریباً 27 کروڑ بالغ افراد ہیں، جس کا مطلب ہے کہ 5000 ڈالر کی ادائیگی پر امریکی حکومت کو تقریباً 1.3 ٹریلین ڈالر خرچ کرنا ہوں گے۔
ٹرمپ نے یہ نہیں بتایا کہ ایسے چیکوں کے لیے فنڈنگ کیسے حاصل کی جائے گی۔
امریکہ میں اخراجات کی منظوری کانگریس دیتی ہے، لیکن صدر نے یہ نہیں کہا کہ آیا وہ کسی ادائیگی کے لیے قانون ساز منظوری طلب کریں گے یا نہیں۔
اور قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ صدارتی ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے اتنی بڑی رقم کی منظوری دینا ممکن نظر نہیں آتا۔
واشنگٹن ڈی سی میں قائم ٹیکس فاؤنڈیشن کی سینئر ماہر اقتصادیات ایریکا یارک نے بی بی سی کو بتایا کہ اگر کانگریس کسی ایسی تجویز کی منظوری دے تو انھیں ’انتہائی حیرت‘ ہو گی۔
انھوں نے کہا: ’یہ 1.3 ٹریلین ڈالر استعمال کرنے کے بدترین طریقوں میں سے ایک ہوگا۔‘
یارک نے مزید کہا: ’ہم پہلے ہی ایک ایسے راستے پر ہیں جو طویل مدت میں برقرار نہیں رہ سکتا، اور خسارے میں مزید اضافہ ہونے کی پیش گوئی کی جا رہی ہے۔‘
کیا محصولات سے حاصل ہونے والی آمدنی سے اس کی فنڈنگ ہو سکتی ہے؟
ٹرمپ کی تقریر کے بعد فاکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے نائب صدر وینس نے اشارہ دیا کہ یہ ادائیگیاں صدر کی جانب سے محصولات کے ذریعے جمع کی گئی رقم سے کی جا سکتی ہیں۔
تاہم اب تک حاصل ہونے والی یہ آمدنی ٹرمپ کی جانب سے پیش کیے گئے 5,000 ڈالر والے چیکوں کے لیے درکار رقم سے کہیں کم ہے۔
بائی پارٹیزن پالیسی سینٹر کے مطابق 2025 کے آغاز سے امریکہ نے محصولات اور ایکسائز ٹیکس کی مد میں تقریباً 475 ارب ڈالر جمع کیے ہیں۔
لیکن رواں برس کے آغاز میں سپریم کورٹ کی جانب سے متعدد محصولات کو کالعدم قرار دینے کے بعد 100 ارب ڈالر سے زائد واپس کیے جا چکے ہیں۔
جب بی بی سی نے پوچھا کہ یہ ادائیگیاں کیسے ممکن بنائی جا سکتی ہیں تو وائٹ ہاؤس نے ایک بیان میں کہا: ’بدشگونی پھیلانے والوں اور ناقدین نے مسلسل صدر ٹرمپ پر شک کیا ہے۔‘
ترجمان ڈیوس انگل نے مزید کہا: ’امریکی عوام کی مسلسل حمایت کے ساتھ صدر ٹرمپ حقیقی نتائج فراہم کرتے رہیں گے۔‘
ٹرمپ نے یہ پیشکش کیوں کی ہے؟
ایک سابق ریپبلکن حکمتِ عملی ساز اور رائے عامہ کے جائزہ کار نے کہا کہ ٹرمپ کی تازہ پیشکش کو اس انتخابی ماحول کے تناظر میں دیکھنا چاہیے جہاں اب انتخابات میں دو ماہ سے بھی کم وقت باقی رہ گیا ہے۔
رابرٹ موران نے بی بی سی کو بتایا: ’یہ ایک غیر معمولی وعدہ ہے، اور مجھے یقین نہیں کہ یہ رقم کہاں سے آئے گی، لیکن یہ انتخابی موسم ہے۔‘
چیتھم ہاؤس کی ریپ نے کہا کہ ٹرمپ مختصر مدت کی سوچ کے تحت کانگریس پر اپنی گرفت برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ وہ اپنی صدارتی مدت کے آخری دو برس میں داخل ہو رہے ہیں۔
انھوں نے مزید کہا: ’اب وہ رقم کا سہارا لے رہے ہیں کیونکہ ریپبلکنز کے لیے رائے عامہ کے جائزوں کے نتائج اچھے نہیں ہیں اور ان کے اپنے لیے بھی نہیں۔‘
کیا اس سے ملتی جلتی کوئی مثال ماضی میں بھی موجود ہے؟
ٹرمپ اس سے قبل بھی محصولات سے حاصل ہونے والی آمدنی کے ذریعے 2,000 ڈالر کے چیک دینے کی تجویز پیش کر چکے ہیں، لیکن وہ ادائیگیاں کبھی عمل میں نہیں آئیں۔
سابق صدر جو بائیڈن پر ووٹ خریدنے کا الزام لگایا گیا تھا جب انھوں نے وعدہ کیا تھا کہ اگر ڈیموکریٹس جنوری 2021 میں جارجیا کی سینیٹ انتخابات جیت گئے تو امریکیوں کو کووِڈ امدادی پیکج کے تحت 2,000 ڈالر کے چیک دیے جائیں گے۔
اسی نوعیت کا ایک تنازع 2024 کے صدارتی انتخابات سے قبل بھی سامنے آیا تھا، جب ٹرمپ کے حامی ارب پتی ایلون مسک نے سات اہم ریاستوں میں رجسٹرڈ ووٹروں کو ایک مخصوص درخواست پر دستخط کرنے کے بدلے نقد مراعات دینے کی پیشکش کی تھی۔