جبل الشیخ پر نیتن یاہو کا دورہ، اسرائیلی فوج کے لیے یہ پہاڑ اتنا اہم کیوں ہے؟

اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو نے بدھ کی شام جبل الشیخ میں تعینات اسرائیلی فوجیوں کا دورہ کیا اور کہا کہ اسرائیل ایران میں ’نظام کے خاتمے‘ کے بہت قریب پہنچ چکا ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ اگر ایسا ہوا تو ایران کے حمایت یافتہ علاقائی اتحاد کا پورا ڈھانچہ بھی منہدم ہو جائے گا۔

اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو نے بدھ کی شام جبل الشیخ میں تعینات اسرائیلی فوجیوں کا دورہ کیا اور کہا کہ اسرائیل ایران میں ’نظام کے خاتمے‘ کے بہت قریب پہنچ چکا ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ اگر ایسا ہوا تو ایران کے حمایت یافتہ علاقائی اتحاد کا پورا ڈھانچہ بھی منہدم ہو جائے گا۔

بشار الاسد حکومت کے خاتمے کے بعد اسرائیلی افواج جنوبی شام کے بعض علاقوں میں داخل ہو گئیں اور اس کے بعد سے شامی فوجی تنصیبات کو نشانہ بناتے ہوئے سینکڑوں فضائی حملے کر چکی ہیں۔

اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے بھی شامی صدر احمد الشرع کو براہِ راست مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی فوج نام نہاد سکیورٹی زون میں اپنی موجودگی برقرار رکھے گی اور وہاں سے انخلا نہیں کرے گی۔ ان کے اس بیان کو دمشق کی قیادت کے لیے ایک واضح سیاسی اور سکیورٹی پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب شام کی وزارتِ خارجہ نے نیتن یاہو کے دورۂ جبل الشیخ کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے ’غیر قانونی‘ اور ’اشتعال انگیز‘ اقدام قرار دیا۔ وزارتِ خارجہ کا کہنا تھا کہ یہ دورہ شام کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی ہے اور خطے میں کشیدگی میں مزید اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔

جبل الشیخ میں اسرائیلی فوجی
Reuters
جبل الشیخ میں اسرائیلی فوجی

ہم اس پہاڑ کے بارے میں کیا جانتے ہیں؟

جبل الشیخ، جسے جبل حرمون بھی کہا جاتا ہے، شام اور لبنان کی سرحد پر واقع بلادِ شام کے اہم ترین پہاڑوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہ مشرقی لبنان کے پہاڑی سلسلے کا حصہ ہے اور اس کی جغرافیائی اہمیت کے باعث اسے پورے خطے میں ایک نمایاں مقام حاصل ہے۔

یہ پہاڑی سلسلہ جنوب مغرب میں وادی الحولہ اور بانیاس کے علاقوں سے شمال مشرق میں وادی القرن تک پھیلا ہوا ہے۔ پہاڑ کے مشرق اور جنوب میں دمشق کے مغربی دیہی علاقے، وادی العجم، اقلیم البلان اور مقبوضہ گولان واقع ہیں، جبکہ اس کے شمال اور مغرب میں لبنان کی وادی بقاع کا جنوبی حصہ اور وادی التیم واقع ہیں۔

جبل الشیخ کی چار نمایاں چوٹیاں ہیں۔ ان میں سب سے بلند چوٹی 2814 میٹر بلند ہے، جبکہ دیگر چوٹیاں بالترتیب 2294، 2236 اور 2145 میٹر کی بلندی پر واقع ہیں۔

اس پہاڑ کو ’جبل الشیخ‘ اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس کی برف سے ڈھکی چوٹیاں دور سے سفید بالوں والے بزرگ کے سر کی مانند دکھائی دیتی ہیں۔ عرب مؤرخین نے اسے ’جبل الثلج‘ یعنی برف کا پہاڑ بھی قرار دیا ہے۔ اس کا دوسرا معروف نام ’جبل حرمون‘ ہے، جو ایک قدیم کنعانی نام ہے اور جس کا مفہوم ’مقدس‘ یا ’حرمت والا مقام‘ بتایا جاتا ہے۔

جبل الشیخ نہ صرف شام اور لبنان کے درمیان ایک قدرتی سرحد کی حیثیت رکھتا ہے بلکہ اپنی بلند چوٹیوں کے باعث مقبوضہ گولان، اسرائیل اور اردن کے بعض حصوں سے بھی دیکھا جا سکتا ہے، جس کی وجہ سے اسے جغرافیائی اور تزویراتی لحاظ سے غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔

گولان اور جبل الشیخ کا نقشہ
BBC

’قوم کی آنکھیں‘

اسرائیل میں جبل الشیخ کو ’قوم کی آنکھیں‘ بھی کہا جاتا ہے، کیونکہ 2280 میٹر بلند یہ چوٹی اسرائیل کے ابتدائی انتباہی اور نگرانی کے نظام کے لیے غیر معمولی سٹرٹیجک اہمیت رکھتی ہے۔ بلند مقام ہونے کی وجہ سے یہاں سے وسیع علاقے کی نگرانی ممکن ہے، جس کے باعث اسرائیل نے اسے اپنے دفاعی نظام کا ایک اہم جزو بنا رکھا ہے۔

ماضی میں کیے جانے والے اپنے ایک دورے کے دوران اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا تھا کہ انھوں نے فوج کو پورے موسمِ سرما میں جبل الشیخ کی چوٹی پر موجود رہنے کی تیاری کرنے کی ہدایت دی ہے۔ ان کے مطابق شام میں جاری غیر یقینی صورتحال کے پیشِ نظر اس مقام پر اسرائیلی فوج کا کنٹرول سکیورٹی کے لحاظ سے انتہائی اہم ہے۔

سٹرٹیجک امور کے ماہر علاء الاصفری کے مطابق جبل الشیخ شام کا بلند ترین مقام شمار ہوتا ہے، جس کی وجہ سے یہ پورے خطے کی نگرانی کے لیے ایک کلیدی فوجی چوکی کی حیثیت رکھتا ہے۔

انھوں نے بی بی سی سے گفتگو میں کہا کہ اس چوٹی سے لبنان، شام اور اسرائیل کے وسیع علاقے واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔

الاصفری کے مطابق اسرائیل اس علاقے پر کنٹرول حاصل کرکے ایک ایسا ’محفوظ زون‘ قائم کرنا چاہتا ہے جو قنیطرہ سے لے کر دمشق کے مضافات تک پھیلا ہوا ہو۔ ان کا کہنا ہے کہ اس مقام پر موجودگی اسرائیل کو جدید ریڈار، کیمروں اور دیگر نگرانی کے آلات نصب کرنے کا موقع دے گی، جس سے وہ پورے علاقے پر مسلسل نظر رکھ سکے گا۔

انھوں نے مزید کہا کہ جبل الشیخ کو شام کی جنوبی دفاعی ڈھال بھی سمجھا جاتا ہے۔ ان کے بقول، اسرائیلی قیادت کی جانب سے یہاں طویل المدتی فوجی موجودگی کی بات مستقبل میں اس علاقے پر مستقل کنٹرول یا ممکنہ الحاق کے عزائم کی جانب بھی اشارہ کر سکتی ہے۔

الاصفری کے مطابق اگرچہ شام کی موجودہ قیادت اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تصادم سے گریز کرتی دکھائی دیتی ہے، تاہم جبل الشیخ پر اسرائیلی کنٹرول شامی قومی سلامتی کے تصور کو کمزور کر سکتا ہے۔ ان کے خیال میں یہ صورتحال نہ صرف شام کی علاقائی سالمیت کے لیے چیلنج بن سکتی ہے بلکہ اسرائیل کے اس تصور کو بھی تقویت دے سکتی ہے جسے وزیرِ اعظم بنیامن نتن یاہو ’نیا مشرقِ وسطیٰ‘ قرار دیتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق جبل الشیخ کی سب سے بڑی اہمیت اس کی جغرافیائی برتری ہے۔ یہاں سے شام کے بڑے حصے، جنوبی اور مغربی لبنان، وادی بقاع، ساحلی شہر بانیاس، بحیرہ طبریہ، وادی الحولہ اور اردن کے شمالی علاقوں تک نظر رکھی جا سکتی ہے۔ اسی لیے اسے شامی، لبنانی اور اسرائیلی سرحدوں کی ’کنجی‘ بھی کہا جاتا ہے۔

جبل الشیخ شامی دارالحکومت دمشق سے تقریباً 39 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس مقام پر اسرائیلی کنٹرول دمشق کو سکیورٹی اعتبار سے زیادہ حساس بنا سکتا ہے، کیونکہ اس سے شامی دارالحکومت اور اس کے گردونواح کی نگرانی اور فوجی نقل و حرکت پر نظر رکھنا نسبتاً آسان ہو جاتا ہے۔

قدرتی وسائل

جبل الشیخ کی چوٹی
Getty Images
جبل الشیخ کی چوٹی

جبل الشیخ یا جبل حرمون خطے کے اہم ترین جغرافیائی اور قدرتی وسائل سے مالا مال مقامات میں شمار ہوتا ہے۔ اپنی غیر معمولی بلندی کی وجہ سے یہ نہ صرف بارش اور برف باری کا ایک بڑا مرکز ہے بلکہ شام، لبنان اور اردن کے آبی ذخائر کے لیے بھی بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

آبی علوم کے ماہر پروفیسر الیاس سلامہ کے مطابق جبل الشیخ قدرتی شام کے بلند ترین علاقوں میں شامل ہے، جہاں سالانہ بڑی مقدار میں بارش اور برف باری ہوتی ہے۔ یہی پانی زیرِ زمین آبی ذخائر کو تقویت دینے کے ساتھ ساتھ الحاصبانی اور بانیاس جیسے اہم چشموں اور دریاؤں کو بھی پانی فراہم کرتا ہے۔

ان کے مطابق اس پہاڑ پر کنٹرول رکھنے والا فریق خطے کے سطحی اور زیرِ زمین آبی وسائل پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت حاصل کر سکتا ہے۔ تاہم سلامہ کا کہنا ہے کہ سرکاری مؤقف کے مطابق اسرائیل کی موجودگی عارضی اور عسکری نوعیت کی ہے، اضافی آبی ذخائر پر قبضے کے مقصد سے نہیں۔

جبل الشیخ کی برف پوش چوٹیوں سے پگھلنے والا پانی چٹانی دراڑوں اور قدرتی آبی گزرگاہوں کے ذریعے پہاڑ کے دامن میں موجود متعدد چشموں تک پہنچتا ہے۔ یہی چشمے بعد ازاں ایسے دریاؤں کی شکل اختیار کرتے ہیں جو دریائے اردن کے نظام کا حصہ بنتے ہیں۔ ان میں جنوبی لبنان سے آنے والا دریائے حاصبانی، شامی گولان میں واقع دریائے بانیاس اور تاریخی فلسطین کے شمال میں بہنے والا دریائے دان شامل ہیں۔

یہ پہاڑ سردیوں اور موسمِ بہار میں شدید برف باری کے لیے مشہور ہے، جبکہ اس کی بلند چوٹیاں سال کے بیشتر حصے میں برف سے ڈھکی رہتی ہیں۔ برف کی حد سے نیچے واقع علاقے نباتاتی تنوع سے بھرپور ہیں، جہاں انگور کے باغات، صنوبر، بلوط اور حور کے درخت بکثرت پائے جاتے ہیں۔ یہی خصوصیات جبل الشیخ کو نہ صرف ایک اہم آبی ذخیرے بلکہ ایک منفرد قدرتی ماحولیاتی نظام کی حیثیت بھی عطا کرتی ہیں۔

جبل الشیخ: خطے کی نگرانی اور عسکری برتری کا اہم مرکز

بین الاقوامی اور سٹرٹیجک امور کے ماہر انس القصاص کے مطابق جبل الشیخ کی غیر معمولی بلندی اسے عسکری اعتبار سے انتہائی اہم مقام بناتی ہے۔ ان کے بقول اس چوٹی پر موجود فریق نگرانی، مشاہدے، مواصلاتی رابطوں کی نگرانی اور الیکٹرانک خلل اندازی جیسی صلاحیتیں حاصل کر لیتا ہے، جن کا دائرۂ اثر چاروں سمتوں میں 300 کلومیٹر سے زائد علاقے تک پھیل سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ پہاڑ شام، لبنان، اسرائیل اور اردن سمیت پورے خطے کے لیے ایک حساس سکیورٹی مقام تصور کیا جاتا ہے۔

القصاص کے مطابق اسرائیلی افواج نے جون 1967 کی عرب اسرائیل جنگ کے دوران جبل الشیخ کی چوٹی پر قبضہ کر لیا تھا اور وہاں ایک ابتدائی انتباہی یونٹ قائم کیا تھا۔ اس یونٹ کا مقصد دمشق اور اس کے اطراف کے علاقوں سے آنے والے مواصلاتی اور الیکٹرانک سگنلز کی نگرانی اور ان میں مداخلت کرنا تھا۔

تاہم اکتوبر 1973 کی جنگ کے دوران شامی افواج نے دوبارہ اس چوٹی کا کنٹرول حاصل کر لیا۔ القصاص کے مطابق اس وقت سوویت ماہرین نے وہاں نصب اسرائیلی ابتدائی انتباہی نظام کو ہٹا کر ماسکو منتقل کر دیا تھا۔ بعد ازاں اسرائیلی افواج نے جسے ’جبل الشیخ کی دوسری جنگ‘ کہا جاتا ہے، کے دوران دوبارہ اس مقام پر قبضہ کر لیا۔

مئی 1974 میں شام اور اسرائیل کے درمیان ہونے والے معاہدۂ فضِ اشتباک کے تحت علاقے میں نئی عسکری حدود طے کی گئیں۔ اس معاہدے کے مطابق علاقہ ’اے‘ شامی کنٹرول میں رکھا گیا، جو شمال میں جبل الشیخ کی چوٹی سے شروع ہو کر جنوب میں اردن کی سرحد کے قریب الرقاد کے علاقے تک پھیلا ہوا ہے۔ اسی معاہدے کے تحت علاقوں ’بی‘ اور ’سی‘ کی بھی نشاندہی کی گئی، جہاں اقوامِ متحدہ کے امن نگرانی دستے (یو این ڈی او ایف)، اسرائیلی افواج کی تعیناتی اور شبعا فارمز سے متعلق خصوصی انتظامات کی وضاحت کی گئی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ یہ معاہدہ کئی دہائیوں تک دونوں فریقوں کے درمیان نسبتاً استحکام کا ذریعہ رہا، تاہم اس دوران متعدد مرتبہ اس کی خلاف ورزیوں کی اطلاعات بھی سامنے آتی رہیں، جن میں اضافی فوجی تعیناتی، اسلحے میں اضافہ اور متعین حدود سے آگے پیش قدمی شامل تھی۔

انس القصاص کا کہنا ہے کہ حالیہ صورتحال ماضی سے مختلف ہے۔ ان کے مطابق بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد اسرائیلی افواج نے نہ صرف معاہدۂ فضِ اشتباک (1974 میں شام اور اسرائیل کے درمیان معاہدۂ فضِ اشتباک طے پایا، جس کے تحت دونوں ممالک کی افواج کے درمیان ایک بفر زون قائم کیا گیا) کے تحت متعین علاقے ’اے‘ میں پیش قدمی کی بلکہ جنوبی دمشق کے مضافات تک اپنی موجودگی کو وسعت دی۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اس دوران شامی فوجی تنصیبات اور سازوسامان کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں دہائیوں سے قائم بفر زون عملی طور پر غیر مؤثر ہو گیا۔

القصاص کے نزدیک موجودہ زمینی صورتحال 21 اکتوبر 1973 کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی سے مشابہت رکھتی ہے، بلکہ ان کے بقول بعض پہلوؤں سے اس سے بھی زیادہ پیچیدہ ہے، کیونکہ اس وقت میدان میں دونوں جانب منظم افواج موجود تھیں، جبکہ آج طاقت کا توازن اور زمینی حقائق نمایاں طور پر تبدیل ہو چکے ہیں۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US