لاہور سے تقریباً 55 کلومیٹر جنوب میں پاکستان کے سرحدی شہرقصورمیں دورسے دکھائی دیتے خودرَو جنگلی کیکر پتا دیتے ہیں کہ یہ مرکزی قبرستان ہے۔ مصروف سڑک کو چھوڑ کر اس شہرِ خموشاں میں داخل ہوں تو پھولوں کی پتیاں سے مزین ایک قبرکی تختی پر بڑےسرخ حروف میں لکھا نظر آتا ہے: ’بابا نظام دین لوہار۔‘
لاہور سے تقریباً 55 کلومیٹر جنوب میں پاکستان کے سرحدی شہر قصور میں دور سے دکھائی دیتے خود رو جنگلی کیکر پتا دیتے ہیں کہ یہ مرکزی قبرستان ہے۔ مصروف سڑک کو چھوڑ کر اس شہرِ خموشاں میں داخل ہوں تو پھولوں کی پتیوں سے مزین ایک قبر کی تختی پر بڑے سرخ حروف میں لکھا نظر آتا ہے: ’بابا نظام دین لوہار‘۔
ان لفظوں کے اوپر سیاہ رنگ میں قبر میں دفن اسی شخصیت کے لیے ’قومی ہیرو‘ کے الفاظ دکھائی دیتے ہیں۔ مگر یہی شخص برطانوی ہندوستان کی سرکاری دستاویزات میں ’ڈاکو اور مجرم‘ ہے۔
سرکاری دستاویزات اور عوامی حافظے کے درمیان یہ تضاد اس امر کو واضح کرتا ہے، جسے مابعد نوآبادیاتی علوم کے ماہرین دیپیش چکرابرتی اور این لورا سٹولر ’معرفتی تشدد‘ کہتے ہیں۔ یعنی سرکار کی یہ صلاحیت کہ وہ مقامی لوگوں کی زندگی اور تجربات کو مخصوص زمروں میں تقسیم، ان کی شناخت متعین اور انھیں مجرم قرار دے کر حقیقت کی تعریف اپنے ہاتھ میں لے۔
اس بحث کی جانب جانے سے پہلے جانتے ہیں نظام لوہار کی کہانی، جس کے باقاعدہ تاریخ کے بجائے عوامی ادب کا حصہ ہونے کی وجہ سے بعض جگہوں پر اختلاف ملے گا۔
19ویں صدی کے وسط میں برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی نے پنجاب کے مہاراجہ رنجیت سنگھ کے بعد آنے والے سکھ حکمرانوں کو شکست دے کر ہندوستان پر اپنا نوآبادیاتی قبضہ مکمل کیا۔
اپنی کتاب ’رزسٹنس تھیمز اِن پنجابی لٹریچر‘ میں شفقت تنویر مرزا لکھتے ہیں کہ انڈیا کے موجودہ ضلع ترن تارن (تب ضلع امرتسر) کے گاؤں سوہل کے نوجوان لوہار نظام دین چھ روپے ماہانہ پر برطانوی فوج میں لوہے سے متعلق کام کے لیے بھرتی ہوئے۔
فوجی ملازمت کے دوران ایک برطانوی افسر نے ان کی توہین کی، جس پر نظام نے انھیں قتل کر دیا اور دستیاب اسلحہ لے کر فرار ہوگئے۔
’اس قتل کے بعد ان کے لیے نہ اپنے گاؤں واپس جانا ممکن تھا اور نہ ہی معمول کی زندگی گزارنا۔ برطانوی قانون میں اس جرم کی سزا پھانسی یا فائرنگ سکواڈ سے قتل تھا۔ چنانچہ نظام اپنے علاقے کے مفرور باغیوں کے ساتھ جا ملے۔‘
والدہ پر تشدد کا بدلہ
اقبال اسد نے بھی ایک لوک گیت کا حوالہ دیتے ہوئے پنجابی زبان میں اپنی کتاب ’پنجاب دے لج پال پُتر‘ میں نظام کی مزاحمت کی ابتدا کی یہی تفصیل لکھی ہے۔
البتہ محمد حنیف رامے نے اپنی کتاب ’پنجاب کا مقدمہ‘ میں لکھا ہے کہ بھاری لگان، بیگار اور سرکاری اہلکاروں کے ہاتھوں کسانوں پر ہونے والا تشدد دیکھ کر نظام اس نتیجے پر پہنچے کہ عام لوگوں کی مصیبتوں کی بنیادی وجہ ’انگریز کی غلامی‘ ہے۔
’جب نظام نے اپنی بھٹی میں پہلے لوہے کی برچھی اور پھر پستول بنائی تو ان کی والدہ نے انھیں سختی سے ڈانٹا۔ انھیں اندیشہ تھا کہ اگر یہ بات سرکار تک پہنچ گئی تو انجام خطرناک ہوگا۔ نظام صرف مسکرا کر خاموش رہے۔ بظاہر یہ ایک معمولی سی مسکراہٹ تھی، مگر شاید اسی وقت ان کے اندر ایک باغی جنم لے رہا تھا۔‘
رامے کے مطابق جلد ہی علاقے میں یہ بات پھیل گئی کہ نظام کے پاس ہتھیار ہیں۔
'وہ اکثر راتیں گھر سے باہر گزارتے۔ ایک رات واپس آئے تو دیکھا کہ والدہ انتقال کرچکی ہیں اور بہن کے کپڑے پھٹے ہوئے ہیں۔ بہن نے بتایا کہ ان کی غیر موجودگی میں ایک انگریز پولیس افسر گھر کی تلاشی لینے آیا تھا۔ اس نے نظام کی برچھی اور پستول برآمد کیے، والدہ کو اتنا تشدد کا نشانہ بنایا کہ وہ جانبر نہ ہوسکیں، جبکہ مزاحمت پر بہن کو بھی بری طرح مارا۔‘
رامے لکھتے ہیں یہ واقعہ نظام کی زندگی میں فیصلہ کن موڑ ثابت ہوا۔
’اسی رات انھوں نے اپنی بہن کو ساتھ لے جا کر اپنے دوست محمد شفیع سے اس کی شادی کروا دی اور خود گھر بار چھوڑ کر ایک ویران حویلی میں پناہ لے لی، جو آج بھی ککراں والی حویلی کے نام سے مشہور ہے۔‘
’اگلی رات نظام تھانے پہنچے اور اس انگریز پولیس افسر کیپٹن کول کو قتل کر دیا، جسے وہ اپنی والدہ کی موت کا ذمہ دار سمجھتے تھے اور وہاں سے فرار ہوگئے۔ اگلی صبح جب انگریز پولیس افسر کے قتل کی خبر علاقے میں پھیلی تو لوگوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔‘
مقامی روایت کے مطابق یہ وہی افسر تھا جو خواتین کی بے حرمتی کرتا اور غریب کسانوں سے بیگار لیتا تھا۔
’لوگ ابھی اس واقعے کی خوشی منا ہی رہے تھے کہ سینیئر سپرنٹنڈنٹ پولیس رونالڈ کی مسخ شدہ لاش دھپ سڑی پتن کے قریب روہی نالے میں ملی۔ پولیس وہاں پہنچی تو نظام لوہار کی برچھی رونالڈ کے سینے میں پیوست تھی۔‘
انگریزوں سے پنجاب سے نکلنے کا مطالبہ
پنجاب میں نظام کے خلاف اشتہار لگ گئے کہ جو نظام کو زندہ یا مردہ گرفتار کرنے میں مدد دے گا اسے 10 ہزار روپے، چار مربع زمین ملے گی اور کچہری میں کرسی ملے گی۔ دوسری جانب عام لوگوں نے یہ دھمکی پھیلا دی کہ نظام سے غداری کرنے والے کو جان سے مار دیا جائے گا۔
رامے کے مطابق ایک رات انگریز پولیس نے تحصیل پٹی کے ٹبے والے قبرستان پر چھاپہ مارا، لیکن نظام اس اڈے کو چھوڑ کر موضع سوہلی کی طرف روانہ ہوگئے۔ راستے میں ان کی ملاقات علاقے کے ایک مشہور باغی سوجھا سنگھ کی والدہ سے ہوئی، جو بین کرتی جا رہی تھیں۔ نظام نے وجہ پوچھی تو انھوں نے بتایا کہ پولیس سوجھا سنگھ کو گرفتار کر کے لے گئی ہے۔
’نظام نے انھیں تسلی دی اور سوجھا سنگھ کو چھڑانے کے لیے خود ٹبا کمال چشتی کی طرف چل پڑے۔ پولیس کے ساتھ مقابلے کے بعد انھوں نے سوجھا سنگھ کو چھڑا لیا۔ اس واقعے کے بعد سوجھا سنگھ کی والدہ نے نظام لوہار کو اپنا بیٹا بنا لیا اور نظام بھی کچھ عرصہ ان کے پاس رہنے لگے۔
’اس کے بعد نظام لوہار اور سوجھا سنگھ نے مل کر انگریز حکومت کے چار اعلیٰ افسروں کو قتل کردیا۔ دونوں نے انگریز حکومت کے خلاف باقاعدہ منصوبہ بندی کی اور علاقے کو باہم تقسیم کرکے کسانوں کو اپنے ساتھ ملانے کے لیے راتوں کو گاؤں گاؤں جانے لگے۔ آخرکار یہ طے کیا گیا کہ میلوں اور عرسوں میں جاکر انگریز پولیس افسروں کو یہ پیغام دیتے ہوئے قتل کیا جائے گا کہ ’پنجاب چھڈو‘ یعنی پنجاب سے نکل جاؤ۔‘
’اسی سلسلے میں ایک مرتبہ نظام لوہار ستلج پار بسنت کے میلے میں جا رہے تھے کہ راستے میں انھیں پیاس لگی۔ انھوں نے میلے میں جانے والی ایک لڑکی سے لسی کا کٹورا مانگا۔ لڑکی نے انھیں لسی دے دی۔ اس پر نظام نے اپنا تعارف ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب کی ہر لڑکی ان کی بہن ہے، وہ صرف انگریزوں کے خلاف ہیں اور انھیں پنجاب سے نکالنا چاہتے ہیں۔‘
’یہ سن کر اس لڑکی نے نظام کی کلائی پر راکھی باندھ دی اور انھیں اپنا بھائی بنا لیا۔ وہاں سے روانہ ہوتے ہوئے نظام نے ایک اور انگریز پولیس افسر، لویئس، کو قتل کردیا۔‘
فائل فوٹو: فوجی ملازمت کے دوران توہین کرنے پر نظام لوہار نے ایک برطانوی افسر کو قتل کر دیا تھارامے کے مطابق ’اس واقعے کے بعد میلے میں بھگدڑ مچ گئی۔ نظام نے چند ساہوکاروں کی حویلیوں پر ڈاکے ڈالے اور بڑی مقدار میں مال جمع کیا۔ پھر اپنی منھ بولی بہن کی شادی کے موقع پر وہ مال اسے دے آئے۔ اگرچہ نظام کے لیے اس گاؤں سے بحفاظت نکلنا آسان نہ تھا، تاہم سوجھا سنگھ، جبرو اور دوسرے ساتھیوں کی مدد سے وہ وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہوگئے۔
’اب نظام لوہار انگریز پولیس کے لیے خوف کی علامت بن چکے تھے۔ تاہم سوجھا سنگھ کی والدہ کی بیماری کی خبر سن کر وہ دوبارہ حویلی واپس آگئے۔ وہاں پہنچ کر انھیں معلوم ہوا کہ سوجھا سنگھ ساتھ والے گاؤں جٹاں دا کھوہ کی ایک لڑکی، چھیما ماچھن، سے محبت کرنے لگے ہیں۔‘
’نظام کو یہ بات پسند نہ آئی۔ انھوں نے چھیما ماچھن کو بلا کر سمجھایا کہ وہ سوجھا سنگھ سے محبت کرنا چھوڑ دیں، کیونکہ ان کے خیال میں محبت انسان کو بزدل بنا دیتی ہے۔ اس پر چھیما نے سوجھا سنگھ کو نظام کے خلاف بھڑکا دیا اور وہ اپنے محسن اور ساتھی کے خلاف ہوگئے۔‘
’سوجھا سنگھ نے دس ہزار روپے اور چار مربع زمین کے لالچ میں تھانہ بھیڑیالا میں اطلاع کردی کہ نظام لوہار اس رات ان کے گھر میں ہوں گے اور اگلے روز واپس کالا کھوہ چلے جائیں گے۔‘
نظام لوہار کی موت
’پولیس نے نظام کو جس کمرے میں وہ سوئے ہوئے تھے، چاروں طرف سے گھیر لیا۔ چند سپاہی چھت پر چڑھ گئے اور کمرے کی چھت توڑنے لگے۔ نظام کو صورتِ حال کا اندازہ ہوگیا۔ ان کی گھوڑی بھی اسی کمرے میں بندھی ہوئی تھی۔ انھوں نے سر پر لوہے کی کڑاہی رکھی اور گھوڑی کو بھگانے کے لیے سیٹی بجائی۔‘
’جب نظام گھر کی دہلیز پار کررہے تھے تو ان کا سر دہلیز سے جا ٹکرایا اور وہ بے ہوش ہوکر گر پڑے۔ پولیس نے ان پر مسلسل گولیاں برسائیں اور بالآخر وہ مارے گئے۔‘
رامے نے لکھا ہے کہ تیسرے دن نظام کی لاش پوسٹ مارٹم کے لیے قصور کے سول ہسپتال لائی گئی۔ ان کی لاش دیکھنے کے لیے ہزاروں لوگ جمع ہوگئے۔ حکومت نے اعلان کیا کہ جو مسلمان نظام کے جنازے میں شریک ہوگا، اسے دو روپے ادا کرنا ہوں گے۔ اس طرح 35 ہزار روپے جمع ہوگئے۔
’نظام کی قبر پر لوگوں نے اتنے پھول نچھاور کیے کہ قبر پھولوں کا پہاڑ دکھائی دینے لگی۔ نظام لوہار قصور شہر کے بڑے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔‘
’جب سوجھا سنگھ کی والدہ کو معلوم ہوا کہ ان کے بیٹے نے مخبری کرکے نظام لوہار کو مروایا ہے تو انھوں نے سوجھا سنگھ کو جبرو کے سامنے خود گولیوں سے چھلنی کردیا۔ پھر اپنے بیٹے کی لاش کے پاس کھڑے ہوکر کہا: میں تمھیں کبھی اپنا دودھ نہیں بخشوں گی۔ تم نے نظام کی مخبری کرکے پنجاب کے ساتھ غداری کی ہے۔‘
البتہ اقبال اسد نے سوجھا سنگھ کو اس خاتون کا دیور قرار دیا ہے اور لکھا ہے کہ سوجھا سنگھ کو نظام کی مخبری کرنے پر خاتون نے اپنے بیٹے بوٹا سنگھ کے ہاتھوں مروایا۔ انھوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ بوٹا سنگھ مسلمان ہوگئے تھے اور قصور کے نزدیک ایک گاؤں آسل میں ان کی اولاد آباد ہے۔
فائل فوٹو: نظام پیشے کے اعتبار سے ایک لوہار تھےاقبال اسد اور شفقت تنویر مرزا نے نظام کے ببر اکالی تحریک کے لوگوں کے ساتھ مل کر جدوجہد کرنے کا اور کئی ساتھیوں کے طاعون میں مرنے کا بھی ذکر کیا ہے۔
البتہ آصف نذیر اور اختر حسین سندھو کی تحقیق ہے کہ نظام لوہار کو ببر اکالی تحریک سے جوڑنے کے دعوے تاریخی طور پر درست نہیں۔
’ببر اکالی تحریک 1920 کی دہائی کے اوائل میں وجود میں آئی، جب کہ نظام 1877 میں مارے گئے تھے، یعنی دونوں کے درمیان کئی دہائیوں کا فرق ہے۔‘
’یہ تاریخی مغالطہ اشارہ کرتا ہے کہ بعد کی انقلابی قوتوں نے نظام جیسے کرداروں کو ماضی کی مزاحمتی روایت میں شامل کرکے انھیں نوآبادیاتی اقتدار کے خلاف جدوجہد کی ایک وسیع تر کڑی کے طور پر پیش کیا۔ اس سے نظام کی اہمیت کم نہیں ہوتی، بلکہ یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی یاد بعد کی منظم سامراج مخالف تحریکوں کے لیے ایک علامتی پیش رو بن گئی تھی۔‘
’سوشل بینڈیٹری اینڈ کلونیل پاور: ری اِنٹرپریٹنگ ملنگی اینڈ نظام لوہار اِن کلونیل پنجاب‘ کے عنوان سے اس مطالعے میں نظام لوہار کو پنجاب میں برطانوی اقتدار کے خلاف مزاحمت کی علامت کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
تحقیق کے مطابق اگرچہ برطانوی دستاویزات میں نظام اور دیگر مزاحمت کاروں کو ’مجرم‘ قرار دیا گیا، لیکن یہ درجہ بندی محض غیر جانب دار قانونی فیصلے نہیں بلکہ سیاسی عمل کا حصہ بھی تھی۔
برطانوی حکومت نے جرم کی اصطلاحات استعمال کرکے مقامی مزاحمت کو دبایا اور پنجاب پر اپنے اقتدار کو جائز ثابت کیا۔
تحقیق کے مطابق معاشی ناہمواری میں عام لوگوں نے بھی روزمرہ زندگی میں مختلف طریقوں سے نوآبادیاتی اقتدار کی مزاحمت کی۔
تحقیق کے مطابق سرکاری ریکارڈ کے ساتھ لوک گیتوں، زبانی روایات اور عوامی حافظے کو سامنے رکھنے سے ایک مختلف تصویر ابھرتی ہے۔ پنجابی معاشرے نے نظام لوہار کو قانون شکن کے بجائے ’انصاف کے لیے لڑنے والے شخص‘ کے طور پر یاد رکھا۔ یوں عوامی حافظے نے برطانوی تاریخ نویسی کے مقابل ایک متبادل تصورِ انصاف، عزت اور مزاحمت کو زندہ رکھا۔
فائل فوٹو: نظام لوہار انگریز پولیس کے لیے خوف کی علامت بن چکے تھے’تاریخ صرف اقتدار کے مراکز میں نہیں بنتی‘
محقق اختر حسین سندھو کے مطابق پنجاب کی تاریخ نویسی میں ایک اہم خلا یہ ہے کہ مؤرخین نے تاریخ کے سیاسی، انتظامی اور حکومتی پہلوؤں پر تو توجہ دی، مگر ثقافت، لوک دانش، لوک داستانوں، سماجی رجحانات اور مقامی سورماؤں کی روایات کو نظرانداز کیا۔ ان کے خیال میں ثقافت کو نظرانداز کرکے پنجاب کی علاقائی تاریخ لکھنے سے تاریخ کا ایک اہم حصہ تشنہ رہ جاتا ہے۔
ملتان کی بہا الدین زکریا یونیورسٹی کے شعبۂ تاریخ و تہذیبی مطالعات کے سربراہ ڈاکٹر تراب الحسن سرگانا کہتے ہیں کہ انگریزوں سے آزادی میں پنجاب کے کردار پر تاریخ نویسی میں ایک نمایاں خاموشی پائی جاتی ہے۔
ان کے مطابق اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ مؤرخین نے عموماً تاریخ کو اشرافیہ یا ’اوپر سے نیچے‘ کے زاویے سے دیکھا ہے۔
ڈاکٹر سرگانا نے بی بی سی کو بتایا ’جب ہم آزادی کی تاریخ لکھتے ہیں تو ہماری توجہ زیادہ تر راجاؤں، جاگیرداروں اور نوابوں جیسے بااثر طبقات پر مرکوز رہتی ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ چونکہ پنجاب کی اشرافیہ کے ایک بڑے حصے نے برطانوی حکومت کا ساتھ دیا، اس لیے ان کے کردار کو پورے صوبے کے عوام کے عمومی رویے کے طور پر پیش کر دیا گیا۔ نتیجتاً عام لوگوں، کسانوں اور نچلے طبقات کی مزاحمت تاریخ کے صفحات سے تقریباً غائب ہوگئی۔
’سوشل بینڈیٹری اینڈ کلونیل پاور‘ کے عنوان سے مطالعے کا حاصل یہ ہے کہ نظام لوہار کی یاد اس لیے باقی رہی کہ انھوں نے ایک ایسے سوال کو اپنی زندگی اور مزاحمت کا حصہ بنایا جس سے عام لوگ براہِ راست جڑے ہوئے تھے: جب قانون طاقتور کے مفاد میں ہو تو انصاف کہاں تلاش کیا جائے؟‘
فائل فوٹو: ایک اس تحقیق کے مطابق نظام لوہار کی کارروائیوں کو محض بے مقصد تشدد یا ذاتی مجرمانہ مفاد کے تناظر میں دیکھنا کافی نہیںاس تحقیق کے مطابق ان کی کارروائیوں کو محض بے مقصد تشدد یا ذاتی مجرمانہ مفاد کے تناظر میں دیکھنا کافی نہیں۔ یہ اس نوآبادیاتی نظام کا ردعمل بھی تھیں، جس نے زمین، روزگار، عزت اور دیہی معاشرت کو متاثر کیا۔ قرض، زمین سے محرومی اور سرکاری جبر جیسے تجربات نے عام لوگوں میں بے چینی پیدا کی، جبکہ مزاحمت نے مقامی حالات کے مطابق مختلف شکلیں اختیار کیں۔
’برطانوی ریکارڈ نے جن لوگوں پر جرم کا فیصلہ سنایا، پنجابی لوک روایت نے ان کے کردار کو اپنے اخلاقی پیمانوں پر پرکھا۔ اس کا مطلب تشدد یا قانون شکنی کی رومانوی تعریف نہیں، بلکہ یہ سمجھنا ہے کہ کسی معاشرے میں ریاستی قانون اور عوامی انصاف کے تصورات ایک دوسرے سے کیوں مختلف ہوجاتے ہیں۔
’نظام لوہار کی کہانی یاد دلاتی ہے کہ تاریخ صرف اقتدار کے مراکز میں نہیں بنتی۔ اسے گاؤں، کھیت، بھٹی، جنگل اور لوک گیت بھی تشکیل دیتے ہیں۔‘
شفقت تنویر مرزا نے ایک شعر کا حوالہ یوں دیا ہے:
منصب ویکھ لوہار دا
رُکھ جنگلاں دے کھڑے سیس نِوائی
(لوہار کا جاہ و جلال دیکھو،
جنگلوں کے درخت بھی سر جھکائے کھڑے تھے)