لاہور کی ایک ایوی ایشن کمپنی کے عہدے دار نے بی بی سی کو بتایا کہ نجی کمپنیاں گلف سٹریم طیارے کے لیے 12 سے 15 ہزار ڈالرز فی گھنٹہ وصول کرتی ہیں۔

وزیرِ اعلیٰ مریم نواز کی انگلینڈ میں اپنی بیٹی کی گریجویشن تقریب کے لیے پنجاب حکومت کے طیارے کے استعمال پر تنقید اور اعظمی بخاری کی وضاحتوں کے باوجود عوامی اور سیاسی حلقوں میں یہ معاملہ زیرِ بحث ہے۔
اپوزیشن رہنما اور ناقدین یہ تنقید کر رہے ہیں کہ ایک نجی دورے کے لیے مبینہ طور پر پنجاب حکومت کے طیارے کا استعمال غریب عوام پر مزید بوجھ ڈالنے کے مترادف ہے۔ تاہم پنجاب کی وزیرِ اطلاعات اعظمی بخاری کہتی ہیں کہ ’وزیر اعلیٰ پنجاب نے اپنے لندن وزٹ کے لیے جہاز کے تمام اخراجات اپنے پاس سے ادا کیے ہیں۔‘
جمعے کی شب ایکس پر اپنے ایک اور بیان میں اعظمی بخاری کا کہنا تھا کہ بطور وزیر اطلاعات بہت ذمہ داری سے کہہ چکی ہوں کہ سارے اخراجات وزیر اعلی خود ادا کریں گی.
دوسری جانب وزیرِ اعلیٰ پنجاب کے ترجمان کوثر کاظمی نے اینکرپرسن منصور علی خان کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیرِ اعظم یا وزیرِ اعلی کا کوئی بھی دورہ نجی نہیں ہوتا۔ اُنھوں نے کہا کہ مریم نواز نے اس دورے کے دوران بزنس کمیونٹی اور برطانیہ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی سے ملاقاتیں بھی کی ہیں۔
یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ جب وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز اور پنجاب حکومت کو طیارے کے معاملے پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ اس سے قبل رواں برس فروری میں بھی پنجاب حکومت کی جانب سے لگ بھگ 11 ارب روپے مالیت کا ’گلف سٹریم جی فائیو ہنڈرڈ‘ طیارہ خریدنے پر تنقید ہوئی تھی۔
اُس وقت اعظمی بخاری نے طیارے کی خریداری سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا تھا کہ یہ طیارہ پنجاب کی ایئر لائن ’ایئر پنجاب‘ کے لیے خریدا گیا ہے جس کے لیے مختلف فلیٹ بنائے جا رہے ہیں اور یہ طیارہ بھی اس کا حصہ ہو گا۔
اعظمیٰ بخاری نے کہا تھا کہ ’ایئر پنجاب‘ کا آغاز اپریل سے ہو جائے گا، لیکن تاحال اس حوالے سے کوئی پیش رفت سامنے نہیں آ سکی۔
بعد ازاں وزیرِ اعظم پاکستان کے مشیر رانا ثنا اللہ نے کہا تھا کہ پنجاب حکومت کا طیارہ کسی کی ذاتی ملکیت نہیں ہے بلکہ پنجاب حکومت کا اثاثہ ہے۔
بی بی سی نے ایوی ایشن ماہرین سے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ اس نوعیت کے دورے پر کتنی لاگت آتی ہے۔ لیکن اس سے پہلے یہ جان لیتے ہیں کہ مریم نواز کب برطانیہ گئی تھیں اور اُن کے اس دورے پر تنقید کیوں ہو رہی ہے۔
خیال رہے کہ مریم نواز اپنی بیٹی کی گریجویشن تقریب میں شرکت کے لیے گذشتہ ہفتے لندن پہنچیں تھیں۔
اُنھوں نے اپنی بیٹی ماہ نور صفدر کی گریجویشن تقریب میں شرکت کی تھی۔ جنھوں نے لندن کی ایس او اے ایس یونیورسٹی سے اپنی تعلیم مکمل کی ہے۔
مریم نواز نے اپنے تین روزہ دورے کو نجی دورہ قرار دیا تھا، تاہم اس دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ اعلی پنجاب نے کہا تھا کہ اُنھیں اپنی چھوٹی بیٹی کی گریجویشن مکمل ہونے پر خوشی ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ والدین کے لیے اس سے بڑھ کر خوشی کا لمحہ کوئی نہیں ہو سکتا کہ جب اُن کے بچے اپنی تعلیم مکمل کرتے ہیں۔ اچھی تعلیم کے مواقع ہر کسی کو ملنے چاہییں۔
رسیدوں کا مطالبہ
مریم نواز کی جانب سے مبینہ طور پر اس دورے کے لیے پنجاب حکومت کا طیارہ استعمال کرنے پر تنقید کرنے والوں میں سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری، مفتاح اسماعیل کے ساتھ ساتھ پاکستان پیپلز پارٹی کے ندیم افضل چن بھی شامل ہیں۔
پاکستان تحریکِ انصاف بھی پنجاب حکومت سے مطالبہ کر رہی ہے کہ وہ اس سفر پر آنے والے اخراجات کی رسیدیں فراہم کرے۔
فواد چوہدری نے ایکس پر لکھا کہ ’مریم نواز کا لندن میں بیٹی کی گریجوایشن کا خرچ جو اس ’امیر‘ قوم نے ادا کیا۔ اس پر ردِعمل دیتے ہوئے پنجاب کی وزیرِ اطلاعات اعظمی بخاری نے لکھا کہ یہ بالکل غلط ہے، مریم نواز نے اپنے دورے کے اخراجات خود برداشت کیے۔
ایسے میں ایک صارف نے سوال اُٹھایا کہ ’اگر تمام اخراجات واقعی اپنی جیب سے ادا کیے گئے ہیں تو اس کا واضح ثبوت بھی عوام کے سامنے آنا چاہیے۔ صرف بیان کافی نہیں، رسیدیں اور ادائیگی کی تفصیلات سامنے رکھیں تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے۔‘
پیپلز پارٹی کے رہنما ندیم افضل چن نے ایکس پر لکھا کہ ’کسی بھی صوبے کے وزیراعلئ کو سرکاری جہاز ملک سے باہر لے کر جانے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔‘
سابق وفاقی وزیر مفتاح اسماعیل نے ایکس پر لکھا کہ جب شاہد خاقان عباسی وزیراعظم تھے، تو انھیں اپنی علیل بہن سے ملاقات کے لیے امریکہ جانا پڑا۔ اس دورے کے دوران امریکی نائب صدر مائیک پینس کے ساتھ بھی ان کی پہلے سے طے شدہ ملاقات تھی۔
مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ شاہد خاقان عباسی اس دورے کو سرکاری دورے کا درجہ دے سکتے تھے لیکن اُنھوں نے ایسا نہیں کیا۔ وہ ایک کمرشل ایئر لائن کے ذریعے امریکہ گئے اور نہ صرف اپنے ٹکٹ کی قیمت ادا کی بلکہ اپنے ساتھ سفر کرنے والے چیف سکیورٹی آفیسر کے ٹکٹ کے اخراجات بھی خود برداشت کیے۔
’دورہ ختم ہونے کے بعد ہی اس کا تخمینہ لگتا ہے‘
جمعے کی شب اعظمیٰ بخاری کا ایکس پر اپنے بیان میں کہنا تھا کہ وزیر اعلٰی مریم نواز شریف نے لندن روانگی سے قبل ہی واضح ہدایت کر دی تھی کہ اپنے اس دورے کے تمام اخراجات وہ خود برداشت کریں گی۔ لیکن لندن سے وطن واپس پہنچنے سے پہلے ہی تنقید کے شوقین طبقے نے بغیر حقائق جانے پروپیگنڈا شروع کر دیا۔
اعظمی بخاری کا کہنا تھا کہ ’وزٹ ختم ہوتا تو تخمینہ لگتا اور ادائیگی کی جاتی، سرکاری نظام میں ہر چیز ایک قانونی ضوابط اور طریقہ کار کے تحت چلتی ہے، تخمینہ لگایا جاتا ہے اور چالان کے ذریعے ادائیگی ہوتی ہے یہ کوئی ایزی پیسہ یا جاز کیش نہیں کہ سفر ختم ہونے سے پہلے ہی بٹن دبا کر حساب سامنے رکھ دیا جائے۔‘
پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے بھی اس معاملے پر ردِعمل دیتے ہوئے ایکس پر لکھا کہ ’آج کل تکلیف جہاز اور مریم نواز کے بیان کی نہیں ہے تکلیف مریم نواز کی کارکردگی اور بڑھتی ہوئی مقبولیت سے ہے۔ واضح طور پہ بتا دیا گیا ہے کہ لندندورے کا خرچہ مریم نوازنے خود ادا کرنا ہے.‘

وی لاگر پرویز سندھیلہ نے اعظمی بخاری کے بیان کا دفاع کرتے ہوئے ایکس پر لکھا کہ ’مریم نواز کے لندن سفر، جہاز کے ایندھن اور پارکنگ کی رسیدیں مانگی جا رہی ہیں۔ حالانکہ عظمیٰ بخاری اس کا واضح جواب دے چکی ہیں، جو کافی سمجھا جانا چاہیے۔ مریم نواز اپنے سفری اخراجات ادا کرنے کی استطاعت رکھتی ہیں۔‘
اگر آپ لگژری طیارے پر لندن کا سفر کریں تو کتنا خرچہ آئے گا؟
بی بی سی کی جانب سے پوچھے گئے سوالات کے باوجود پنجاب حکومت نے تاحال یہ نہیں بتایا کہ مریم نواز کے دورے پر کتنا خرچہ آیا۔
لیکن بی بی سی نے اس نوعیت کے طیارے کرائے پر دینے والی کمپنی کے ایک عہدے دار اور ایوی ایشن ماہر سے گفتگو کر کے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ تین روز کے دورے پر ممکنہ طور پر کتنا خرچہ آ سکتا ہے۔
لاہور کی ایک ایوی ایشن کمپنی کے عہدے دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ نجی کمپنیاں گلف سٹریم طیارے کے لیے 12 سے 15 ہزار ڈالرز فی گھنٹہ وصول کرتی ہیں۔
اُن کے بقول پاکستان میں بڑے ادارے اور کچھ پراپرٹی ٹائیکون بھی یہ جہاز کرائے پر دیتے ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ اس طیارے پر لندن تک کا سفر سات گھنٹے پر محیط ہوتا ہے اور اگر 12 ہزار ڈالرز فی گھنٹہ بھی ہو تو یکطرفہ سفر پر 84 ہزار ڈالر لاگت آ سکتی ہے۔ یعنی مجموعی طور پر آنے اور جانے کا کرایہ ایک لاکھ 60ہزار ڈالرز سے زیادہ ہو سکتا ہے۔
اُن کے بقول پائلٹ سمیت کریو کے دو سے تین ارکان کی رہائش اور کھانے کے اخراجات اس کے علاوہ ہوتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ لندن کے دو ہوائی اڈے ہیتھرو اور لیوٹن میں اس نوعیت کا طیارہ پارک کرنے اور ہینڈلنگ کی یومیہ فیس بھی ہزاروں ڈالرز میں ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ چاہے طیارہ خالی جائے یا اس میں مسافر ہوں، اس کا فی گھنٹہ کرایہ یہی ہے اور اس میں فیول کی لاگت شامل ہوتی ہے۔