حوثیوں نے باب المندب میں واقع اسٹریٹجک اہمیت کے حامل جزیرے میون پر قبضہ کرلیا، جس کے بعد اہم عالمی سمندری تجارتی راستے پر ان کی گرفت مزید مضبوط ہوگئی۔ یمنی حکومتی ذرائع کے مطابق سرکاری فورسز جزیرے سے نکل گئی تھیں جبکہ حوثیوں نے ساحلی علاقے کے شہر ذباب پر بھی کنٹرول حاصل کرلیا۔
دوسری جانب یمنی سرکاری فوج نے شہریوں کو تعز-المخا اور المخا-ذباب روٹس استعمال نہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔ حوثیوں کے مطابق 3 ستمبر سے سعودی قیادت میں ہونے والے حملوں میں 82 افراد ہلاک یا زخمی ہوچکے ہیں۔
ادھر امریکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے دو بار رابطہ کرکے حوثیوں کے خلاف کارروائی پر زور دیا، تاہم ٹرمپ نے نئے محاذ میں براہ راست مداخلت سے گریز کرتے ہوئے درخواست مسترد کردی۔
باب المندب بحیرہ احمر اور خلیج عدن کو ملانے والا انتہائی اہم بحری راستہ ہے، جس پر حوثیوں کی پیش قدمی سے عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل متاثر ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں