پاکستان تحریک انصاف کی 27 ستمبر کو اسلام آباد لانگ مارچ کال کے لیے کارکنوں کو متحرک کرنے کی غرض سے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی صوبائی دارالحکومت لاہور میں موجود ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف کی 27 ستمبر کو اسلام آباد لانگ مارچ کال کے لیے کارکنوں کو متحرک کرنے کی غرض سے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی صوبائی دارالحکومت لاہور میں موجود ہیں۔
سہیل آفریدی پیر کی دوپہر قافلے کی صورت میں لاہور پہنچے تو اُن کی آمد کے موقع پر ٹھوکر نیاز بیگ کے مقام پر سڑک کو ایک جانب سے ٹریفک کے لیے بند کیا گیا تھا۔
اس موقع پر سٹرک کو کھلوانے کے لیے سہیل آفریدی اپنی گاڑی سے اُترے اور ہاتھوں کے اشاروں سے لوگوں کو پولیس کی رکاوٹ عبور کر کے سفر جاری رکھنے کا کہتے رہے۔ اس دوران وہاں موجود پنجاب پولیس کے اہلکاروں نے اُن کو آگاہ کیا کہ ٹریفک کو عارضی طور پر اس لیے بند کیا گیا ہے تاکہ وہ بحفاظت اس علاقے سے نکل سکیں۔
اس پر وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا نے پولیس کو جواب دیا کہ ’آپ میریفکر مت کریں۔ میری حفاظت کے لیے عوام کو مت روکیں۔ پہلے لوگ جائیں گے، اس کے بعد میں جاؤں گا۔‘
پولیس اہلکاروں کی جانب جب وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کو سمجھانے کی کوشش کی گئی تو وہ اِسی مقام پر سڑک کنارے بیٹھ گئے اور میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس مقام سے اُس وقت تک نہیں جائیں گے جب تک عام ٹریفک کو آگے جانے کی اجازت نہیں دی جاتی۔
اس مقام سے آگے روانہ ہونے کے بعد وہ گذشتہ دنوں وفات پانے والے پی ٹی آئی کارکن اشتیاق خان کی رہائش گاہ پہنچے اور اُن کے اہلِخانہ سے ملاقات اور تعزیت کی۔
اشتیاق احمد کے گھر وزیر اعلیٰ کی آمد سے قبل تحریک انصاف کے بہت سے مقامی رہنما یہاں پہنچنا شروع ہوئے تھے۔ اس موقع پر پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے پنجاب اسمبلی کچھ کے صوبائی ممبران نے دعوی کیا کہ انھیں اس مقام پر آنے سے روکنے اور گرفتار کرنے کی کوشش گئی ہے۔
پنجاب میں اپوزیشن لیڈر معین ریاض قریشی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’جس کو چاہتے ہیں روک لیتے ہیں ان کی مرضی ہے کیونکہ اندھا قانون ہے۔ مجھے یہ تب گرفتار کریں جب میں نے کوئی قانون توڑا ہو۔ دفعہ 144 نافذ ہے، ہم جانتے ہیں، مگر ہم تین لوگ گاڑی میں موجود تھے۔‘
تاحال پولیس نے ان دعوؤں پر کوئی ردعمل نہیں دیا ہے۔
اپنے دورہ لاہور کے دوران وزیر اعلی خیبر پختونخوا نے شہر کے مختلف مقامات پر رُک کر خطاب بھی کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’پنجاب کی وزیر اعلیٰ، جن کو عوام نے انتخابات میں مسترد کیا، کہتی ہیں کہ انھیں تین صوبوں سے خطرہ ہے۔ میں آج آعلان کرتا ہوں کہ پنجاب کی عوام میری ہے، پنجاب میرا ہے اور میں پنجاب کا ہوں اور مجھے یہاں کوئی خطرہ نہیں ہے۔‘
لاہور کے مال روڈ پر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی پی ٹی آئی کارکنان کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے خود پنجاب پولیس کی گاڑی میں سوار ہو گئے۔ اس موقع پر پولیس اہلکار انھیں گاڑی سے اترنے کی ہدایت کرتے رہے تاہم وزیر اعلی کا کہنا تھا کہ اُن کے ساتھ جو رویہ اختیار کیا گیا ہے اس پر وزیر اعلیٰ پنجاب کو معافی مانگنی ہو گی۔
تاہم کچھ ہی فاصلہ طے کرنے کے بعد وہ لکشمی چوک کے مقام پر پولیس کی گاڑی سے اُتر کر اپنی گاڑی میں سوار ہو گئے۔
اس موقع پر اُن کا کہنا تھا کہ ’یہاں ایک وزیر اعلیٰ کی بے عزتی ہوئی ہے، جس کا جواب میں اِن سے ضرور لوں گا۔ پنجاب کی وزیر اعلیٰ کو اس رویے پر معافی مانگنی پڑے گی۔ میرے ساتھ بُرا رویہ اختیار کیا گیا، ایک صوبے کے ساتھ تعصب بھرا رویہ اختیار کیا جا رہا ہے۔‘
بعدازاں لکشمی چوک پر سہیل آفریدی نے دعویٰ کیا کہ انھیں اغوا کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ ’انھوں نے اغوا کرنے کی کوشش کی پھر یہاں سڑک پر پھینک گئے ہیں، ایک صوبے کے وزیراعلی کو اغوا کرنے کی کوشش کی یہ چھوٹی بات نہیں، اِن پر اب پریشر آئے گا۔‘
ایک اور مقام پر پولیس اہلکاروں کے ساتھ مکالمہ کرتے ہوئے سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ ’پنجاب میرا ہے، پاکستان میرا ہے۔ میں یہاں ایک عام شہری کی حیثیت سے آیا ہوں، میں آپ کی سیکورٹی لینے سے انکار کرتا ہوں ، مجھے آپ کی سکیورٹی نہیں چاہیے۔‘
سہیل آفریدی دورہ لاہور کے دوران شہر کے مختلف مقامات پر سٹرکوں کو جزوی طور پر بند کیا گیا تھا، جس کےباعث ٹریفک کی روانی متاثر رہی۔
دوسری جانب پنجاب حکومت نے صوبہ بھر میں پانچ روز کے لیے دفعہ 144 نافذ کر رکھی ہے۔ترجمان محکمۂ داخلہ پنجاب کے مطابق حکومت نے صوبے بھر میں 13 سے 17 ستمبر تک دفعہ 144 نافذ کی ہے، جس کے تحت عوامی مقامات، شاہراہوں اور کھلی جگہوں پر پانچ یا اس سے زائد افراد کے اجتماع، جلوس یا اکٹھا ہونے پر مکمل پابندی عائد ہے۔
یاد رہے کہ تحرک انصاف کا دعوی ہے کہ گزشتہ روز (13 ستمبر) پاکستان تحریک انصاف کے عہدیدارن اور کارکنوں کی گرفتاروں کے لیے اُن کے گھروں اور ڈیروں پر چھاپے مارے گئے ہیں۔
کسی سیاسی جماعت کو سڑکیں بند کرنے کا اختیار نہیں: پی ٹی آئی کے ممکنہ لانگ مارچ سے قبل اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم
’چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ اس بات کو یقینی بنائیں کہ سرکاری وسائل سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہ ہوں‘ (فائل فوٹو)اس سے قبل اسلام آباد ہائیکورٹ نے پیر کے روز ایک شہری کی جانب پاکستان تحریک انصاف کے 27 ستمبر کے ممکنہ لانگ مارچ کے خلاف دائر درخواست پر مختصر فیصلہ سُناتے ہوئے کہا تھا کہ کسی سیاسی جماعت یا پبلک آفس ہولڈر (عوامی عہدیدار) کو سڑکیں بند کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہے اور چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ اس بات کو یقینی بنائیں کہ سرکاری وسائل سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہ ہوں۔
یاد رہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف نے سابق وزیر اعظم عمران خان کی رہائی اور آئین کی بالادستی کے لیے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کرنے کا اعلان کیا ہوا ہے۔
شہری وقاص احمد، نے اِس ممکنہ احتجاج کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ اس ممکنہ احتجاج سے وفاقی دارالحکومت میں معمولاتِ زندگی، ٹریفک کی روانی اور کاروباری سرگرمیاں متاثر ہو سکتی ہیں اور شہریوں کے آئینی حقوق متاثر ہو سکتے ہیں۔
پیر کے روز اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے اس درخواست پر مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ کسی سیاسی جماعت یا عوامی عہدیدار کو سڑکیں بند کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہے۔
فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ کوئی سرکاری افسر یا اہلکار کسی سیاسی اجتماع میں زبردستی شرکت کرنے کے احکامات کو تسلیم نہ کرے اور اگر ایسا ہو تو اس ضمن میں فوری طور پر صوبوں کے چیف سیکرٹریز کو آگاہ کیا جائے۔
عدالت نے اپنے مختصر فیصلے میں کہا کہ اس ضمن میں چاروں صوبوں کے چیف سکریٹریز اور آئی جیز ہیلپ لائن قائم کریں جبکہ اسلام آباد کے چیف کمشنر اور پولیس کے سربراہ کو حکم دیا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ شہریوں کے روزمرہ کے معاملات متاثر نہ ہوں۔
عدالت نے چاروں صوبوں کے وزرائے اعلی کو ہدایت بھی کی کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ سرکاری مشینری اور فنڈز سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہ ہوں۔
سماعت کا احوال
وفاقی دارالحکومت میں ممکنہ احتجاج کے پیش نظر اسلام آباد کے مختلف مقامات پر سڑکوں کے کنارے کنٹینرز رکھ دیے گئے ہیںاسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے فیصلہ محفوظ کیے جانے سے قبل اس درخواست پر سماعت ہوئی۔
ایک موقع پر چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس سردار سرفراز ڈوگر نے آئی جی خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید کو مخاطب کرتے ہوئے ریمارکس دیے ہیں کہ اگر کوئی غیر قانونی اور غیر آئینی اجتماع ہوتا ہے تو اسے روکیں۔
کیس کی سماعت چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں قائم لارجر بینچ نے کی، جس میں جسٹس اعظم خان اور جسٹس آصف بھی شامل تھے۔
سماعت کے دوران خیبر پختونخوا کے آئی جی ذوالفقار حمید اور چیف سیکریٹری شہاب علی شاہ عدالت میں پیش ہوئے اور عدالت کی ہدایت کے مطابق اپنے بیاناتِ حلفی جمع کرائے۔
اس سے قبل خیبر پختونخوا کے ایڈووکیٹ جنرل شاہ فیصل اپنے دلائل میں کہہ چکے ہیں کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کا دائرۂ اختیار صرف وفاقی دارالحکومت تک محدود ہے اور عدالت دیگر صوبوں کے حکام کو ہدایات جاری نہیں کر سکتی۔
اسلام آباد کے ایڈووکیٹ جنرل نوید حیات ملک نے عدالت کو بتایا کہ انھوں نے 2022 اور 2024 میں ہونے والے پی ٹی آئی احتجاج کی ویڈیوز عدالت میں پیش کرنے کے لیے درخواست دائر کی ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ویڈیوز چلانا عدالت کی روایت نہیں، تاہم بعدازاں عدالت نے ایک مرتبہ ویڈیوز چلانے کی اجازت دے دی۔
اجازت ملنے پر پی ٹی آئی کے 2022 اور 2024 کے احتجاج کی ویڈیوز چلائی گئیں اور ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے مؤقف اپنایا کہ 2022 کے احتجاج میں سرکاری مشینری استعمال کی گئی، انتظامیہ کی جانب سے کھڑی کی گئی رکاوٹیں کرینوں کے ذریعے ہٹائی گئیں، اسلام آباد کے ڈی چوک میں آگ لگائی گئی، سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا گیا اور ایک پولیس اہلکار کمال کو ہلاک کیا گیا۔
نوید حیات ملک نے مزید کہا کہ 2024 کے احتجاج میں بھی اسلام آباد میں توڑ پھوڑ، سکیورٹی اہلکاروں پر حملے، گاڑیوں کو نذرِ آتش کرنے اور رینجرز اہلکاروں کو گاڑی تلے کچلنے کی کوشش جیسے واقعات پیش آئے، اس لیے ان مظاہروں کو پُرامن قرار نہیں دیا جا سکتا۔
ایڈووکیٹ جنرل کے مطابق اسلام آباد میں جلسے یا ریلی کے لیے ضلعی مجسٹریٹ سے پیشگی اجازت لینا ضروری ہے اور مجسٹریٹ صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد اجازت دینے یا مسترد کرنے کے مجاز ہیں۔
انھوں نے کہا کہ سکیورٹی وجوہات کی بنا پر کنٹینرز لگانا حکومت کا اختیار ہے۔
ایڈووکیٹ جنرل نوید حیات ملک نے کہا کہ پی ٹی آئی پورے وسائل کے ساتھ اسلام آباد آنا چاہتی ہے اور ’ہمارے پاس انھیں روکنے کی صلاحیت نہیں، ہم صرف پیشگی انتظامات کر سکتے ہیں، اس ضمن میں دفعہ 144 نافذ کرسکتے ہیں اور کنٹینرز لگا سکتے ہیں۔‘
نوید حیات کا کہنا تھا کہ بطور ریاست ہم اپنے شہریوں پر گولیاں نہیں چلا سکتے، ان کی جانیں نہیں لے سکتے، اس لیے ’پانی سر سے گزرنے سے پہلے اقدامات کرنا ہوں گے۔‘
سماعت کے دوران چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا حکومتی نمائندوں یا وزرائے اعلیٰ کو اشتعال انگیز تقاریر کا حق حاصل ہے؟ اس پر ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے جواب دیا کہ آئین کسی شخص کو اشتعال انگیز تقریر کی اجازت نہیں دیتا۔
درخواست گزار کے وکیل اختر چھینہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا نے درخواست کو قبل از وقت قرار دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ آئین کے تحت ان کی زندگی اور بچوں کی تعلیم بنیادی حقوق ہیں، اگر زندگی کو خطرہ ہو تو نقصان پہنچنے کے بعد عدالت سے رجوع نہیں کیا جا سکتا۔
درخواست گزار کے وکیل نے مزید کہا کہ غیر آئینی مطالبے کے لیے احتجاج نہیں کیا جا سکتا جبکہ ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے واضح طور پر تسلیم کیا ہے کہ حکومت کے پاس لاکھوں لوگوں کو روکنے کی صلاحیت نہیں۔
عدالت نے خیبر پختونخوا کے چیف سیکریٹری اور آئی جی پولیس کو بیان حلفی جمع کرانے کا حکم دیا تھا کہ پی ٹی آئی کے احتجاج کے دوران سرکاری مشینری استعمال نہیں ہو گی۔
سماعت کے دوران بینچ کے سربراہ نے آئی جی خیبر پختونخوا کو روسٹرم پر طلب کیا اور انھیں عدالت میں جمع کرایا گیا بیان حلفی پڑھنے کی ہدایت کی۔
آئی جی خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید نے اپنا بیان حلفی عدالت میں پڑھ کر سنایا۔
درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ آئی جی کو صرف سرکاری مشینری کے استعمال سے روکنے کے بجائے غیرقانونی لانگ مارچ کو بھی روکنا چاہیے۔
فائل فوٹوچیف جسٹس نے آئی جی سے استفسار کیا کہ اگر کوئی غیر قانونی اور غیر آئینی اقدام ہوتا ہے تو کیا وہ اسے نہیں روکیں گے؟
آئی جی خیبر پختونخوا نے جواب دیا کہ عدالت کی جانب سے دی گئی ہدایات کے مطابق بیان حلفی جمع کرایا گیا ہے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آپ کو بیان حلفی میں یہ بھی لکھنا چاہیے تھا کہ آپ غیر قانونی اور غیر آئینی اقدام کو روکیں گے۔
آئی جی نے جواب دیا کہ اگر کوئی غیر قانونی کام ہوا تو اسے روکیں گے۔
چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر نے آئی جی خیبر پختونخوا کو مخاطب کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ اگر کوئی غیر قانونی اور غیر آئینی اجتماع ہوتا ہے تو اسے روکیں اور مظاہرین کو منتشر بھی کریں۔ عدالت نے درخواست پر فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا۔
وفاقی آئینی عدالت میں سہیل آفریدی کی نااہلی کے لیے درخواست
پاکستان کی وفاقی آئینی عدالت نے صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی بطور وزیر اعلیٰ نااہلی کے لیے دائر درخواست کو باضابطہ سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے، صوبائی حکومت اور سہیل آفریدی کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔
خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ کی نااہلی سے متعلق درخواست رکنِ قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے دائر کی تھی۔
اس درخواست کی سماعت چیف جسٹس امین الدین کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی اور سماعت کے دوران بینچ کے رکن جسٹس عامر فاروق نے درخواست گزار سے استفسار کیا کہ اس درخواست میں آئینی نکتہ کیا ہے؟ جس پر شیر افضل مروت نے عدالت کو بتایا کہ صوبہ خیبر پختون خوا کے سابق وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے استعفیٰ رضاکارانہ طور پر نہیں دیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ آئین کی منشا ہے کہ عوامی عہدیدار رضاکارانہ طور پر ہی مستعفی ہو سکتا ہے۔
شیر افضل مروت نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ علی امین گنڈاپور نے لکھا کہ وہ پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہدایت پر مستعفی ہو رہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ خیبر پختون خوا کے گورنر نے علی امین گنڈاپور کا استعفیٰ منظور نہیں کیا تھا۔
بینچ میں شامل جسٹس علی باقر نجفی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ دو دن بعد ایک اور استعفیٰ دیا گیا تھا اور دوسرا استعفیٰ بھی شاید منظور نہیں کیا گیا تھا۔ درخواست گزار کا کہنا تھا کہ گورنر کا استعفیٰ منظور کرنا ضروری ہے تاکہ وزیر اعلیٰ ڈی نوٹیفائی ہو سکے۔
شیر افضل مروت نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی پارٹی صدارت کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے قرار دیا تھا کہ نااہل شخص پراکسی کے ذریعے ریاست نہیں چلا سکتا اور جب عمران خان نے علی امین گنڈاپور کو مستعفی ہونے کی ہدایت کی تھی تو اس وقت وہ نااہل تھے۔
انھوں نے کہا کہ پراکسی کے ذریعے ریاست چلانا آئین کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہے۔ عدالت نے شیر افضل مروت کی درخواست کو سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ خیبر پختون خوا سہیل آفریدی کو نوٹس جاری کر دیا ہے۔