میر رضا کی پراسرار گمشدگی اور کیس سے متعلق تحقیقاتی کمیشن کی کارروائی کے دوران گواہوں اور وکلا کے اہم بیانات سامنے آئے ہیں۔
ایڈورٹائزنگ کے شعبے سے وابستہ گواہ اسد علی بٹ نے کمیشن کے سامنے بیان دیتے ہوئے واضح کیا کہ انہوں نے کرپٹو یا اسٹاک میں کبھی سرمایہ کاری نہیں کی۔ انہوں نے بتایا کہ میر رضا کے ساتھ وافلکس بزنس کے لیے 25 لاکھ روپے کی سرمایہ کاری کا معاہدہ ہوا تھا، جس پر میر رضا اور احمد کے بھی دستخط موجود تھے، اور معاہدے کے تحت انہیں دسمبر 2026 تک 40 لاکھ روپے واپس ملنے تھے۔ میر رضا کی جانب سے 4 ملین کا چیک اور والدہ کے اکاؤنٹ کے بینکر چیک دیے گئے تھے، جبکہ مجموعی سرمایہ کاری میں سے 14 لاکھ روپے موصول ہو چکے تھے۔
اسد علی بٹ کے مطابق جولائی کے آخری ہفتے میں رقم کی ضرورت پڑنے پر انہوں نے میر رضا کو میسج کیا لیکن کوئی جواب نہ ملا، جس کے بعد اگلے روز پتہ چلا کہ میر رضا کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ڈیلیٹ ہیں، ان کا نمبر بند ہے اور وہ مسنگ ہیں۔ انہوں نے احمد سے رابطہ کر کے معاہدے کی تفصیلات سے آگاہ کیا تھا۔ اسد علی بٹ نے میر رضا پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کمیشن کے سامنے میر رضا کے والدین سے تعزیت بھی کی۔
دوسری جانب، آسٹریلیا سے ویڈیو لنکس کے ذریعے اپنا بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے محمد حسن خان تنولی نے بتایا کہ وہ اور میر رضا او لیولز سے ساتھ تھے۔ انہوں نے کسی قسم کی کرپٹو انویسٹمنٹ کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ میر رضا کو 75 لاکھ روپے وافلکس کی چاکلیٹ کے لیے دیے تھے اور کبھی پیسوں کی واپسی کے لیے دباؤ نہیں ڈالا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ میر رضا کو پیسے بیٹری باکس میں رکھ کر دیے گئے تھے۔ اس موقع پر وکیل جبران ناصر نے سوال اٹھایا کہ اگر 75 لاکھ روپے وافلکس کے لیے لیے گئے تھے تو احمد اس سے لاعلمی کا اظہار کیسے کر سکتا ہے۔
جبران ناصر نے کمیشن کو آگاہ کیا کہ علی شاز مشتاق کا نام عبوری چالان میں شامل ہے اور ان کی ایک آڈیو بھی سامنے آئی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ میر رضا کے والد کو ایک حساس ادارے کے نام سے کال موصول ہوئی جس میں ایس ایچ او عدیل افضال اور ڈی آئی جی عامر فاروقی کا ذکر کرتے ہوئے مختلف افراد پر شک کا اظہار نہ کرنے پر برہمی ظاہر کی گئی۔ ان مکالموں کے ریکارڈنگ اور اسکرین شاٹس رجسٹرار کے پاس جمع کروا دیے گئے ہیں۔
کارروائی کے دوران ایک اور گواہ شیری نے بتایا کہ موبائل فون دیتے وقت ان سے صرف پاسورڈ لیا گیا تھا اور کسی دستاویزی کارروائی کی ضرورت نہیں سمجھی گئی۔ شیری کا کہنا تھا کہ میر رضا کو اسلحے کا شوق نہیں تھا اور ان کا گارڈ کا اسلحہ ساتھ لے جانا عجیب بات تھی، تاہم وہ یہ بات یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ میر رضا نے خودکشی نہیں کی۔
ایک اور گواہ احمد حسن نے بیان دیا کہ انہوں نے 30 لاکھ روپے کی سرمایہ کاری کی تھی اور ان کی ملاقات عثمانی بوزئی کے ریفرنس سے ہوئی تھی، جس پر کمیشن نے انہیں دوبارہ طلب کرنے کا اشارہ دیا۔
کمیشن نے پولیس کی جانب سے مکمل ریکارڈ پیش نہ کرنے اور گواہوں کے بیانات میں ردوبدل کے خدشات پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔ جسٹس عمر سیال نے ہدایت جاری کی کہ اب پولیس سے مزید کوئی دستاویزات نہیں لیے جائیں گے۔ کمیشن کے فوکل پرسن کو تمام خدشات پولیس تک پہنچانے کی ہدایت کی گئی ہے جبکہ اسد علی بٹ اور حسن تنولی کے بیانات مکمل کر لیے گئے ہیں۔