سرجانی ٹاؤن میں گھر کے اندر خاتون کی دو بیٹیوں اور بیٹے سمیت قتل کی لرزہ خیز واردات کے بعد پولیس تاحال ملزمان کا کوئی سراغ لگا سکی نہ ہی آلہ قتل برآمد کرسکی ہے۔ مذکورہ واردات کے بعد علاقہ مکین شدید خوف و ہراس کا شکار ہوگئے ہیں۔
تمام مقتولین کے سروں پر وزنی اور تیز دھار آلات کے شدید وار کیے گئے تھے جس سے ان کی کھوپڑیاں ٹوٹ گئیں اور وہ موقع پر ہی دم توڑ گئے۔
مقتولہ مہوش کے شوہر دانش، جو کے الیکٹرک میں ملازم ہیں، کے مطابق وہ صبح حسبِ معمول بچوں کو اسکول چھوڑ کر ڈیوٹی پر چلے گئے تھے۔ اسکول کی چھٹی کے وقت گھر پر رابطہ ہوا تو بچوں کی خیریت سے واپسی کی تصدیق ہوئی۔
محلے داروں کے مطابق بچے اسکول کے بعد مدرسے گئے جہاں سے وہ سہ پہر تین بجے واپس آئے۔ بعد ازاں ساڑھے تین بجے کے قریب بچوں کی ٹیوشن ٹیچر نے پیپرز کی تیاری کے سلسلے میں بچوں کو جلدی بلانے کے لیے کال کی، مگر مقتولہ مہوش نے فون نہیں اٹھایا۔
واردات کا انکشاف اس وقت ہوا جب رات آٹھ بجے شوہر دانش گھر پہنچا اور مسلسل دستک دینے کے باوجود دروازہ نہ کھلا۔ تو چابی سے گھر کا دروازہ کھولا تو اندر کا ہولناک منظر دیکھ کر اس کی چیخیں نکل گئیں۔
گھر میں خاتون اور بچوں کی خون میں لت پت لاشیں موجود تھیں جبکہ سفاک ملزمان گھر سے تمام قیمتی زیورات، نقدی اور موبائل فونز بھی سمیٹ کر فرار ہوچکے تھے۔
اطلاع ملنے پر پولیس نے موقع پر پہنچ کر شواہد اکھٹے کرنے کا دعویٰ کیا، تاہم پولیس نے ابتدائی طور پر مقتولہ کے شوہر دانش ہی کو حراست میں لے لیا۔ پولیس کی اس کارروائی پر دانش کے بڑے بھائی نے شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف ان کے گھر پر قیامت برپا ہے اور دوسری طرف پولیس نے ان کے بھائی کو حراست میں لے لیا، جبکہ کرائم سین سے فنگر پرنٹس تک اکھٹے نہیں کیے گئے۔
مقتولین کے دادا دادی نے بھی پولیس کی روایتی تفتیش پر شدید عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس ناقص کارروائی سے نہیں لگتا کہ پولیس اصل قاتلوں کو پکڑ سکے گی۔
لواحقین کی جانب سے فی الوقت صرف مقتولہ مہوش کے پوسٹ مارٹم کی اجازت دی گئی ہے جبکہ چاروں مقتولین کی نمازِ جنازہ آج بعد نماز عصر ادا کی جائے گی۔ واقعے کے بعد علاقے کی فضا انتہائی سوگوار ہے۔