’بہنیں اس کی شادی کے گیت تیار کر رہی تھیں‘: سعودی عرب میں سزائے موت پانے والوں کی میتیں ورثا کو کیوں نہیں دی جاتیں؟

سعودی عرب اُن تین ممالک میں شمار ہوتا ہے جہاں سزائے موت کی شرح دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق سزائے موت پانے والوں میں 40 فیصد سے زیادہ غیر ملکی شہری ہوتے ہیں، تاہم اُن کی میتیں عموماً اُن کے خاندانوں کو واپس نہیں کی جاتیں۔
Two young clean-shaven Ethiopian men in a treated image
Handout/BBC
کبروم کنفے اریگاوی اور سگابو گیبریماریئم (دائیں) ان پانچ ایتھوپیائی شہریوں میں شامل تھے جنھیں 23 جون کو سزائے موت دی گئی۔ اُن کی میتیں تاحال اُن کے خاندانوں کے حوالے نہیں کی گئی ہیں۔

’ہم نے یہ تمام رسومات اس لیے ادا کیں تاکہ خاندان کو کچھ تسلی ملے اور وہ اس حقیقت کو قبول کر سکیں کہ وہ اب زندہ نہیں رہا۔ لیکن مجھے کبھی سکون نہیں ملے گا۔‘

یہ کہنا تھا اپنے بیٹے کبروم کی موت پر غم زدہ والد کنفے اریگاوی کا۔

’یہ پچھتاوا اور غم ساری زندگی میرے ساتھ رہے گا۔‘

کبروم کنفے اریگاوی ان پانچ ایتھوپیائی شہریوں میں شامل تھے جنھیں رواں سال جون میں سعودی عرب میں بھنگ سمگل کرنے کے جرم میں سزائے موت دی گئی تھی۔ سعودی عرب کا شمار دنیا میں سب سے زیادہ سزائے اموات دینے والے ممالک میں ہوتا ہے۔ صرف چین اور ایران ایسے ممالک ہیں جہاں اس سے زیادہ سزائے موت دی جاتی ہیں۔

بہت سے ایتھوپیائی آرتھوڈوکس مسیحیوں کے عقیدے میں مذہبی طریقے سے تدفین کی انتہائی اہمیت ہے۔ اس رسم کے تحت میت کو مخصوص کفن میں لپیٹ کر لکڑی کے تابوت میں رکھا جاتا ہے۔

تاہم 25 سالہ کبروم کی یاد میں ہونے والی مذہبی رسومات میں ایسا کچھ بھی نہ ہو سکا کیونکہ سعودی حکام نے اُن کی باقیات وطن واپس نہیں بھیجیں۔

Illustration depicting an Orthodox Christian funeral. A group of people are standing behind an empty coffin. An image of a man is in front of the coffin.
BBC
ایتھوپیا کے آرتھوڈوکس مسیحی خاندان عموماً اپنے عزیز کی میت کو تابوت میں رکھ کر دفن کرتے ہیں۔

ہیومن رائٹس واچ (ایچ آر ڈبلیو) کے مطابق 27 جولائی تک کے ایک سال کے دوران سعودی عرب میں 116 افراد کو سزائے موت دی گئی۔

دعا دھینی یورپین سعودی آرگنائزیشن فار ہیومن رائٹس (ای ایس او ایچ آر) کی سینیئر محقق اور ریپریو مِینا (مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ) کی کیس ورک کنسلٹنٹ ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’لاش واپس نہ کرنا محض ایک انتظامی معاملہ نہیں۔ اس سے سزائے موت پانے والے شخص کے خاندان کو بھی سزا ملتی ہے۔‘

ریپریو مِینا ایک فلاحی ادارہ ہے جو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا سامنا کرنے والے افراد کے دفاع کے لیے کام کرتا ہے۔

اقوام متحدہ کی مذہبی آزادی اور عقیدے کی آزادی سے متعلق خصوصی نمائندہ نازیلا غنیہ سعودی عرب کی جانب سے مبینہ طور پر لاشیں ورثا کے حوالے نہ کرنے کے عمل کو ’تشدد اور بدسلوکی‘ قرار دے چکی ہیں۔

لواحقین کا کہنا ہے کہ 23 جون کو جنوبی سعودی عرب کے صوبہ عسیر میں واقع خمیس مشیط کی جیل میں جن پانچ ایتھوپیائی شہریوں کو سزائے موت دی گئی تھی انھیں پھانسی سے قبل اس متعلق کوئی پیشگی اطلاع نہیں دی گئی تھی۔ لواحقین کا مزید کہنا ہے کہ خاندانوں کو نہ تو سزائے موت پانے والوں کا ذاتی سامان واپس کیا گیا اور نہ ہی موت کا سرکاری سرٹیفکیٹ فراہم کیا گیا۔

A woman is sitting, her back leaning against a stone wall. She is wearing a white shawl and a purple head scarf.
Mebrahtom
سگابو گیبریماریئم کی والدہ لیٹیکرسٹوس گیبریٹسادق کہتی ہیں کہ ’اپنے بیٹے کی میت نہ دیکھ پانے کا میرے دل پر بہت بوجھ ہے۔‘

کبروم کنفے اریگاوی پہلی بار 2020 میں اپنے والد کنفے کے ساتھ سعودی عرب گئے تھے۔ ان کے پاس درست ویزا نہیں تھا۔ دونوں کو گرفتار کر لیا گیا، انھوں نے 15 ماہ قید کاٹی جس کے بعد انھیں ملک بدر کر دیا گیا۔

تاہم ایتھوپیا میں جاری خانہ جنگی کے باعث کبروم نے دوبارہ سعودی عرب جانے کا فیصلہ کیا۔ وہ بحیرہ احمر عبور کرکے یمن کے راستے سعودی عرب جانے والی ایک کشتی میں سوار ہو گئے جس میں گنجائش سے زیادہ افراد سوار تھے۔

کنفے کے مطابق 2023 میں سرحد عبور کرتے ہوئے سعودی حکام نے کبروم کو ایک بار پھر گرفتار کر لیا اور اُن پر منشیات کی سمگلنگ کا الزام عائد کیا۔ کبروم کے والد کا کہنا ہے کہ جیل میں تین ماہ گزارنے کے بعد اُن کے بیٹے کو مجرم قرار دے کر سزائے موت سنائی گئی۔ تین برس قید میں رہنے کے بعد جون میں اچانک کبروم کی سزائے موت پر عمل درآمد کر دیا گیا۔

کنفے روتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ’اسے ہم سے ایک آخری بار بات کرنے کا موقع بھی نہیں دیا گیا۔‘

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں اپنے بیٹے کی موت کے بارے میں سوشل میڈیا کے ذریعے معلوم ہوا۔

کنفے کو یقین ہے کہ اُن کا بیٹا بے قصور تھا اور سعودی عرب میں اُسے غلط طور پر مجرم قرار دیا گیا۔

وہ کہتے ہیں کہ ’ایسا کوئی ثبوت موجود نہیں جس سے یہ ثابت ہو کہ میرا بیٹا حشیش کی سمگلنگ میں ملوث تھا۔‘

’کسی نے مجھے اس کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ نہیں دیا، نہ اس کا ذاتی سامان واپس کیا اور نہ ہی اس کی میت حوالے کی گئی۔ میں بس خاموشی میں بیٹھ کر روتا ہوں اور اپنا غم مناتا ہوں۔ آخر میں اور کیا کر سکتا ہوں؟‘

An illustration showing a cemetery with graves and crosses.
BBC
علامتی تدفین کی تقریبات منعقد کرنے کے باوجود خاندانوں کا کہنا ہے کہ مسیحی روایات کے مطابق تدفین نہ ہونے کے باعث اُن کی زندگی میں ایک خلا ہمیشہ باقی رہے گا۔

جس روز کبروم کو سزائے موت دی گئی اسی دن اور اسی جیل میں، سگابو گیبریماریئم کو بھی اسی جرم میں سزائے موت دے دی گئی۔

26سالہ سگابو ایتھوپیا کے وسطی تگرائے کے ایک دیہی علاقے سے تعلق رکھتے تھے اور آٹھ بہن بھائیوں میں سب سے بڑے تھے۔

ان کے والد ہیگوس گیبریمیسکل کے مطابق سگابو 18 برس کے تھے جب انھوں نے غربت اور خانہ جنگی سے تنگ آ کر گھر چھوڑ دیا۔

ہیگوس بتاتے ہیں کہ ’ہمارے علاقے میں نوجوانوں کے لیے روزگار کے زیادہ مواقع نہیں ہیں۔ وہ میری مدد کرنے کے لیے سعودی عرب گیا تھا۔‘

سگابو کو منشیات کی سمگلنگ کے جرم میں سزا سنائی گئی تھی اور انھوں نے ساڑھے تین سال جیل میں گزارے۔ ان کی اپنے خاندان سے آخری بار فروری میں بات ہوئی تھی۔

ہیگوس نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’اُس نے کہا تھا کہ وہ جلد (گھر) واپس آ جائے گا اور شادی کرے گا۔‘

اُن کی والدہ لیٹیکرسٹوس گیبریٹسادق اپنے بیٹے کے لیے مناسب رشتہ تلاش کر رہی تھیں۔ مگر اب انھیں شادی کی تیاریوں کے بجائے تدفین کے انتظامات کرنا پڑے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’میری دیگر تمام بیٹیاں ہیں، وہ میرا واحد بیٹا تھا۔ اُن سب کو امید تھی کہ اُن کا بھائی جلد گھر واپس آ جائے گا۔ وہ اس کی شادی کے گیت تیار کر رہی تھیں۔ ان کے دل ٹوٹنے کا غم میرے دکھ سے کہیں زیادہ ہے۔‘

A man sits with his hands folded in a cramped prison cell. He stares at the camera, wearing a dark blue uniform with short sleeves.
Family supplied
سگابو گیبریماریئم کو سزائے موت دیے جانے سے قبل ساڑھے تین سال جیل میں رکھا گیا تھا۔

سعودی عرب میں مقیم رشتہ داروں سے سگابو کی موت کی خبر ملنے کے بعد، اُن کے آرتھوڈوکس مسیحی خاندان نے اپنے مقامی چرچ میں ان کی علامتی تدفین اور دعائیہ تقریب کا اہتمام کیا۔

سگابو کی والدہ لیٹیکرسٹوس نے اپنے بیتے کی وفات پر 40 روزہ سوگ منایا۔ وہ کہتی ہیں کہ ’میں جاننا چاہتی ہوں کہ اس کی میت گھر کیوں نہیں لائی گئی۔‘

’اس سے ہمارا غم اور بھی بڑھ جاتا ہے اور ہمارے دل ٹوٹ جاتے ہیں۔‘

سگابو کے والدین چاہتے ہیں کہ سعودی حکام اُن کے بیٹے کے جرم سے متعلق ثبوت فراہم کریں۔ اُن کے ذہنوں میں یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ کہیں کسی نے اُن کے بیٹے کا فائدہ تو نہیں اٹھایا۔

انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کی گذشتہ سال جاری ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق، منشیات سے متعلق جرائم میں سزائے موت پانے والوں میں 75 فیصد غیر ملکی شہری تھے۔

دھینی کا کہنا ہے کہ مجرم گروہ اکثر لوگوں کی مجبوری کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔

انھوں نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ ایتھوپیا سے تعلق رکھنے والے بعض زیرِ حراست افراد نے بتایا کہ انھیں سرحد پار کروانے میں مدد کے بدلے کچھ سامان اپنے ساتھ لے جانے پر آمادہ کیا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اسی طرح بعض پاکستانی شہری جنھیں ممنوعہ اشیا نگلنے پر مجبور کیا گیا تھا، ان کے مقدمات میں ہم نے دیکھا کہ بعض اوقات ان پر دباؤ ڈال کر یا ملازمت دلوانے کے وعدوں کے عوض یہ کام کرنے پر مجبور کیا گیا تھا۔

A man sitting in a chair, in front of a stone wall and a separator made from corrugated iron sheets. He is wearing a blue shirt.
Mebrahtom
ہیگوس گیبریمیسکل کا کہنا ہے کہ انھیں یقین نہیں کہ اُن کے بیٹے کی روح کبھی سکون پا سکے گی۔

یورپین سعودی آرگنائزیشن فار ہیومن رائٹس (ای ایس او ایچ آر) کے اندازوں کے مطابق، 2015 میں شاہ سلمان بن عبدالعزیز السعود کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے سعودی عرب میں سزائے موت پر عمل درآمد کے مجموعی واقعات کی تعداد 2,000 سے تجاوز کر چکی ہے۔ ان میں 42 فیصد غیر ملکی شہری تھے۔

ای ایس او ایچ آر کے مطابق 2025 میں سعودی عرب میں 356 افراد کو سزائے موت دی گئی، جو ایک سال کے دوران ریکارڈ کی جانے والی سب سے زیادہ تعداد ہے۔

سعودی قانون کے تحت حکام سفارت خانے کے خرچ پر میت کو آبائی ملک بھجوا سکتے ہیں، تاہم دھینی کا کہنا ہے کہ عملاً ایسا کبھی نہیں ہوتا۔

ان کا کہنا ہے کہ ’اب تک ایسا کوئی معاملہ ہماری نظر میں نہیں آیا جس میں سزائے موت پانے والے کسی غیر ملکی کی میت اُس کے خاندان کو واپس بھیجی گئی ہو۔ جتنے سعودی شہریوں کے معاملے ہم نے دیکھے ہیں اس میں بھی صورتِ حال ایسی ہی دکھائی دیتی ہے۔‘

دھینی کے مطابق ماضی میں بعض خاندانوں نے، جن میں ترک اور اردنی شہریوں کے اہلِ خانہ بھی شامل تھے، سزائے موت پانے والے قیدیوں کی میتیں وطن واپس بھجوانے کے لیے مہم چلائی۔ تاہم انھیں کامیابی نہیں ملی۔

وہ کہتی ہیں کہ ’اردنی خاندان کو جو ڈیتھ سرٹیفکیٹ فراہم کیا گیا تھا وہ غیر معمولی طور پر مختصر تھا۔ اس میں نہ یہ بتایا گیا تھا کہ میت کہاں دفن کی گئی اور نہ ہی موت کے حالات کے بارے میں کوئی تفصیل دی گئی تھی۔‘

A middle-aged, spectacled man with a red cap is sitting on a sofa
Kinfe Aregawi
کنفے اریگاوی کا کہنا ہے کہ تدفین کی دعائیں کرانے کے باوجود وہ اب تک اپنے بیٹے کی موت کے غم سے نہیں نکل سکے ہیں۔

بی بی سی نے سعودی وزارتِ داخلہ، وزارتِ خارجہ اور لندن میں سعودی سفارت خانے کے ذریعے حکومت کا مؤقف جاننے کی کوشش کی، تاہم کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

سعودی حکام کا منشیات سے متعلق جرائم کے بارے میں انتہائی سخت مؤقف ہے۔

جون میں بھنگ سے متعلق جرائم میں سزا یافتہ ایک سعودی شہری کو سزائے موت دیے جانے کے موقع پر وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری بیان میں قرآن کی اُن آیات کا حوالہ دیا گیا جن میں ’زمین میں فساد پھیلانے‘ والوں کے لیے سخت سزا کا ذکر ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ حکومت ’منشیات کی لعنت سے شہریوں اور مقیم افراد کے تحفظ‘ اور ’منشیات کی سمگلنگ اور تجارت میں ملوث افراد کے خلاف قانون کے تحت مقررہ سخت ترین سزائیں نافذ کرنے‘ کے لیے پُرعزم ہے، کیونکہ منشیات بے گناہ جانوں کے ضیاع اور سنگین سماجی بگاڑ کا سبب بنتی ہیں۔

اس معاملے پر مؤقف جاننے کے لیے سعودی عرب میں ایتھوپیا کے سفارت خانے سے بھی رابطہ کیا گیا ہے۔

سعودی عرب میں سزائے موت کے منتظر قیدیوں کے اعداد و شمار جاری نہیں کیے جاتے، تاہم انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ ایسے افراد کی تعداد سینکڑوں میں ہو سکتی ہے۔

ہیومن رائٹس واچ کے مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ ڈویژن کے محقق جوئی شیا کا کہنا ہے کہ ’سعودی عرب میں دی جانے والی ایسی سزائے موت جن پر خفیہ طور پر یا بہت کم پیشگی اطلاع کے ساتھ عمل درآمد کیا جاتا ہے، قیدی اور اس کے اہلِ خانہ کے اس حق کی خلاف ورزی ہیں کہ انھیں موت کی سزا کے لیے خود کو تیار کرنے کے لیے مناسب وقت دیا جائے۔‘

An illustration of a prison cell crowded with inmates, depicting the harsh reality of overcrowded living conditions
BBC
ایک قیدی نے بتایا کہ جیل میں بہت زیادہ بھیڑ ہے اور بہت سے قیدی سونے کے لیے پلاسٹک کی شیٹس استعمال کرتے ہیں۔

سزائے موت کے قیدی جو کسی معجزے کے منتظر ہیں

سزائے موت پر عملدرآمد کے حوالے سے رکھے جانے والی رازداری کی یہ فضا سزائے موت کے منتظر قیدیوں کی زندگی بھی اذیت ناک بنا دیتی ہے۔

ایک قیدی، جس کی شناخت اور مقام حفاظتی وجوہات کی بنا پر ظاہر نہیں کیے جا سکتے، نے بی بی سی کو اپنی قید کے حالات کے بارے میں بتایا۔

اُنھیں 2023 میں گرفتار کیا گیا تھا اور انھوں نے منشیات کی سمگلنگ کے الزام کا اعتراف کیا تھا۔ اُن کا کہنا ہے کہ انھیں مجرم قرار دے کر سزا سنائی جا چکی ہے، تاہم انھیں امید ہے کہ انھیں معافی مل جائے گی۔

اُن کے بقول، اس سال انھوں نے اپنے 15 ساتھی قیدیوں کو سزائے موت دیے جاتے دیکھا ہے اور اب ہر وقت وہ اسی خوف میں زندگی گزار رہے ہیں کہ کہیں اگلی باری اُن کی نہ ہو۔

وہ کہتے ہیں کہ ’جب بھی محافظ دروازے کھولتے ہیں تو ہم سوچنے لگتے ہیں کہ اب کس کی باری آئے گی۔‘

وہ کسی معجزے، یعنی سزا میں رعایت یا معافی، کے منتظر ہیں۔ لیکن اگر ان کی سزا پر عملدرآمد ہو جاتا ہے تو اُن کی خواہش ہے کہ اُن کی میت اُن کے آبائی ملک بھیج دی جائے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’مجھے یہ فکر لاحق رہتی ہے کہ شاید میرے والدین میری میت بھی نہ دیکھ سکیں۔‘


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US