سعودی تیل کی پائپ لائن اور ایف 15 لڑاکا طیاروں کے اڈے پر حملوں میں کتنا نقصان ہوا؟

سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ گذشتہ ہفتے ہونے والے ایک حملے کے نتیجے میں سعودی عرب کی تیل کی اہم پائپ لائن کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ ماہرین نے بی بی سی ویریفائی کو بتایا ہے کہ اس کی مرمت میں ایک ماہ سے زیادہ وقت لگ سکتا ہے اور اس سے عالمی تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
A satellite image of a damaged oil refinery
BBC

سیٹیلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ گذشتہ ہفتے ہونے والے ایک حملے کے نتیجے میں سعودی عرب کی تیل کی اہم پائپ لائن کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ ماہرین نے بی بی سی ویریفائی کو بتایا ہے کہ اس کی مرمت میں ایک ماہ سے زیادہ وقت لگ سکتا ہے اور اس سے عالمی تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

تصاویر میں نظر آ رہا ہے کہ سب سے زیادہ نقصان سعودی عرب کی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن یا ’پیٹرو لائن‘ کے ایک پمپنگ سٹیشن پر ہوا ہے۔

سعودی عرب حالیہ برسوں میں آبنائے ہرمز کے بجائے بحیرۂ احمر کے راستے خام تیل برآمد کرنے کے لیے اس پائپ لائن پر انحصار کر رہا تھا کیونکہ ایران اور امریکہ کے درمیان چھ ماہ سے جاری جنگ کے دوران آبنائے ہرمز میں متعدد بحری جہاز حملوں کا نشانہ بن چکے ہیں۔

سعودی حکومت نے اس پائپ لائن پر حملے کا الزام عراق میں ایران کی حمایت یافتہ ملیشیاؤں پر عائد کیا ہے۔ یہ حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی گروپ نے جنوب مغربی سعودی عرب پر میزائلوں اور ڈرون حملوں کا ایک نیا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔

اس کے جواب میں سعودی عرب نے مغربی یمن کے حوثیوں کے زیرِ کنٹرول علاقوں پر فضائی حملے کیے ہیں۔

دوسری جانب نئی سیٹیلائٹ تصاویر سے یہ بھی ظاہر ہوا ہے کہ گذشتہ ہفتے حوثیوں کے حملے کے نتیجے میں سعودی عرب کی شاہ خالد ایئر بیس کو نقصان پہنچا تھا۔

سعودی حکومت نے منگل کے روز کہا کہ وہ حوثیوں کے حملوں کا ’سخت جواب‘ دے گی۔

اگرچہ حوثی طویل عرصے سے سعودی حمایت یافتہ یمنی افواج کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں، تاہم حالیہ ہفتوں میں اس گروپ نے اپنی عسکری مہم میں نمایاں شدت پیدا کی ہے۔

گذشتہ ہفتے حوثیوں نے یمن کے جنوب مغربی ساحلی علاقے میں وسیع نئے علاقوں پر قبضہ کر لیا، جن میں آبنائے باب المندب کے نزدیک واقع اہم مقامات بھی شامل ہیں۔

اس پیش رفت نے سعودی جہاز رانی کے خلاف ان کی اعلان کردہ ناکہ بندی کو نافذ کرنے کی صلاحیت کو مزید مضبوط کر دیا ہے۔

ایک بیرل تیل کی قیمت میں اس وقت نمایاں اضافہ ہوا جب سعودی عرب نے جمعے کے روز احتیاطی اقدام کے طور پر مذکورہ پائپ لائن کو بند کرنے کا اعلان کیا۔

منگل کو برینٹ خام تیل کی قیمت 108 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جو پیر کے روز ریکارڈ کی گئی 109.80 ڈالر کی سطح سے معمولی کم تھی۔

تجارتی انٹیلی جنس کمپنی کپلر کے ماہرین کے مطابق اس پائپ لائن کی بندش سے تیل کی عالمی رسد میں روزانہ تقریباً 36 لاکھ بیرل تک کمی آ سکتی ہے، جو عالمی طلب کا تقریباً 3.6 فیصد بنتی ہے۔

کپلر کے خام تیل کے تجزیاتی شعبے کے سربراہ ہمایوں فلکشاہی نے کہا ’ہمیں موصول ہونے والی نئی معلومات کی بنیاد پر اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پائپ لائن کو پہنچنے والے نقصان کی مرمت میں چار سے چھ ہفتے لگ سکتے ہیں، خاص طور پر سپیئر پارٹس کی دستیابی اور سپلائی چین میں موجود رکاوٹوں کو مدنظر رکھتے ہوئے۔‘

کولمبیا یونیورسٹی کے سینٹر آن گلوبل انرجی پالیسی سے وابستہ این سوفی کوربو کا کہنا ہے کہ تیل کی پائپ لائنیں ’آسان ہدف‘ ہوتی ہیں اور حالیہ حملے ایک ’انتہائی اہم اشارہ‘ ہیں کہ آبنائے ہرمز سے بچنے کے لیے استعمال کیے جانے والے متبادل راستے شاید اتنے مؤثر نہ ہوں کیونکہ انہیں بھی نشانہ بنا کر تباہ کیا جا سکتا ہے۔

انھوں نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ اگر توانائی کی ترسیل کے متبادل راستے بھی حملوں کی زد میں آئیں تو خلیجی تیل کی برآمدات کے لیے محفوظ راستوں کی دستیابی محدود ہو سکتی ہے۔

دوسری جانب حوثی باغی اس سے قبل بھی ڈرونز اور میزائلوں کے ذریعے سعودی عرب کے تیل کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بناتے رہے ہیں، جس کے نتیجے میں بعض تنصیبات پر کام عارضی طور پر معطل کرنا پڑا تھا۔

سعودی عرب میں فوجی اڈوں کو بھی حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ پیر کے روز حاصل کی گئی نئی سیٹیلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ خمیس مشیط کے قریب واقع سعودی عرب کی شاہ خالد ایئربیس کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ حوثیوں کا کہنا ہے کہ گذشتہ ہفتے انھوں نے اس اڈے کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا تھا کیونکہ ان کے بقول یہ یمن کے خلاف فضائی حملوں کے لیے استعمال ہو رہا تھا۔

تصاویر کے مطابق رائل سعودی ایئر فورس کی اس تنصیب میں کم از کم تین طیارہ ہینگرز یا حفاظتی شیلٹرز کو نقصان پہنچا ہے۔ یہ وہ اڈہ ہے جہاں امریکہ میں تیار کردہ ایف-15 لڑاکا طیارے تعینات ہیں۔

An image highlighting damaged hangars at King Khalid Air Base
BBC

دوسری جانب سعودی قیادت میں قائم حوثی مخالف عرب فوجی اتحاد نے منگل کو کہا ہے کہ حوثیوں کے میزائل اور ڈرون حملوں میں 13 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ اتحاد کے مطابق حملوں کا نشانہ بننے والی تنصیبات ’شہری نوعیت کی‘ تھیں۔

دوسری جانب حوثیوں نے دعویٰ کیا کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سعودی عرب نے مغربی یمن میں 50 سے زائد فضائی حملے کیے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے مطابق تنازع میں حالیہ شدت کے نتیجے میں ایک لاکھ سے زیادہ افراد اپنے ہی ملک یمن میں بے گھر ہو چکے ہیں۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US