سعودی ’پیٹرو لائن‘ کی بندش اور نئے حملوں کے خدشات: عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت میں مزید دو فیصد اضافہ

منگل کے روز عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تقریباً دو فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے کیونکہ سعودی عرب کی تیل و گیس کی تنصیبات پر حالیہ حملوں کے بعد عالمی سطح پر سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات برقرار ہیں۔
East West Pipeline Saudi Arabia
Getty Images
سیٹلائیٹ تصویر میں سعودی عرب کی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کو پہنچنے والا نقصان واضح نظر آتا ہے

منگل کے روز عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تقریباً دو فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے کیونکہ سعودی عرب کی تیل و گیس کی تنصیبات پر حالیہ حملوں کے بعد عالمی سطح پر سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات برقرار ہیں۔

یاد رہے کہ سعودی عرب پر ہوئے حالیہ حملوں کے نتیجے میں ایسٹ ویسٹ پائپ لائن سے تیل کی ترسیل مکمل طور پر بند ہو گئی ہے، جبکہ اس کے ساتھ ساتھ خلیجی ممالک میں جہاز رانی کے خطرات کم کرنے کی کوششوں پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

خبررساں ادارے ’روئٹرز‘ کے مطابق منگل کے روز برینٹ خام تیل کی قیمت 1.87 ڈالر (یعنی 1.77 فیصد) اضافے کے ساتھ 107.55 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل 1.88 ڈالر (یعنی 1.85 فیصد) اضافے کے بعد 103.27 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔

یاد رہے کہ پیر کے روز بھی برینٹ خام تیل اور امریکی ویسٹ ٹیکساس خام تیل میں ایک فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ ہوا تھا۔

کے سی ایم ٹریڈ کے چیف مارکیٹ تجزیہ کار ٹِم واٹرر نے روئٹرز کو بتایا کہ تیل کے تاجر ہر نئے حملے یا تیل و گیس کے بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان کو سپلائی کے لیے ایک نئے خطرے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ مارکیٹ اس بات پر بھی گہری نظر رکھے ہوئے ہے کہ آیا سعودی عرب کی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن اور آبنائے ہرمز کے راستے سے تیل کی ترسیل معمول پر آ سکتی ہے یا نہیں۔

تیل و گیس کی عالمی مارکیٹ کی نگرانی کرنے والی کمپنی ’کلیر‘ کے ابتدائی اعدادوشمار کے مطابق پیر کے روز آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تیل و گیس بردار جہازوں کی تعداد کم ہو کر صرف چار رہ گئی، جو ایک روز قبل 10 تھی۔ اس پیش رفت نے اس اہم بحری راستے کے بارے میں خدشات میں اضافہ کر دیا ہے، جہاں ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ شروع ہونے سے قبل دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل سپلائی گزرتی تھی۔

سعودی خریداروں اور تاجروں کا کہنا ہے کہ اگر ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کی سرگرمیاں جلد بحال نہ ہوئیں تو سعودی عرب چند ہی دنوں میں برآمدات کے لیے دستیاب تیل کے ذخائر سے محروم ہو سکتا ہے۔ ایسی صورت میں عالمی منڈی سے تقریباً چار فیصد تیل سپلائی کم ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔

دنیا کا سب سے بڑا تیل برآمد کرنے والا ملک سعودی عرب ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کے ذریعے روزانہ تقریباً 40 لاکھ بیرل تیل، جو عالمی سپلائی کا تقریباً چار فیصد بنتا ہے، بحیرہ احمر کے ساحلی بندرگاہی شہر ینبع تک منتقل کرتا رہا ہے۔

مالیاتی ادارے آئی این جی کے تجزیہ کاروں نے ایک نوٹ میں کہا ہے کہ ابھی تک یہ واضح نہیں کہ سعودی پائپ لائن کو پہنچنے والا نقصان کس حد تک سنگین ہے اور اس لائن کی بندش کتنے عرصے تک جاری رہ سکتی ہے۔

یاد رہے کہ سنیچر کو ہونے والے حملے کے بعد سعودی حکام نے ’ایسٹ ویسٹ پائپ لائن‘ کو بند کر دیا تھا۔

یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا تھا جب یمن کے حوثیوں کے سعودی عرب پر حملوں میں شدت آ رہی ہے جس سے مشرقِ وسطیٰ تنازع مزید پھیل رہا ہے۔

دوسری جانب عراق نے اپنی سرزمین سے اس حملے کی تصدیق کے بعد ایک فوجی کمانڈر کو برطرف کرکے تحقیقات شروع کی تھیں۔ عراقی حکام کے مطابق یہ حملہ ایران سے متصل عراق کے صوبے میسان سے کیا گیا تھا۔

سعودی عرب دُنیا کا سب سے بڑا خام تیل برآمد کرنے والا ملک ہے اور 1200 کلومیٹر طویل ’ایسٹ ویسٹ پائپ لائن‘سعودیہ کو آبنائے ہرمز سے گزرے بغیر یعنی متبادل گزرگاہ تیل کی سپلائی کا راستہ فراہم کرتی ہے۔

یہ واقعہ یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کی بڑی پیش قدمی کے دوران پیش آیا تھا جس سے عالمی تیل کی ترسیل کے راستوں پر مزید دباؤ بڑھ گیا۔

اس مقام کے قریب جلی ہوئی زمین اور دھوئیں کی سیٹلائٹ تصاویر بھی سامنے آئی تھیں۔

سعودی وزارتِ خارجہ نے کہا تھا کہ حملے کے نتیجے میں کچھ افراد زخمی ہوئے اور نقصان بھی ہوا، جس کا تخمینہ ابھی لگایا جا رہا ہے۔

یہ پائپ لائن کتنی اہم ہے؟

East West Pipeline, Saudi Arabia
Getty Images
ایسٹ ویسٹ پائپ لائن آبنائے ہرمز سے گزرے بغیر تیل کی ترسیل ممکن بناتی ہے

سعودی عرب کی یہ پائپ لائن جسے عراق سے آنے والے ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا گیا تھا، کی اہمیت اُس وقت سے مزید بڑھ گئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ جاری ہے۔

یہ پائپ لائن جو ’پیٹرولائن‘ کے نام سے بھی جانی جاتی ہے، سعودی عرب کے مشرقی صوبے میں واقع ابقیق کے میدانوں سے مغرب میں واقع بندرگاہ ینبع تک جاتی ہے۔

اس کی لمبائی تقریباً 1200 کلومیٹر ہے اور یہ سعودی تیل کو عالمی منڈیوں تک پہنچانے کے لیے متبادل راستہ ہے جو آبنائے ہرمز کو بائی پاس کرتا ہے۔

گذشتہ چند ماہ میں یہ روزانہ 40 لاکھ سے 50 لاکھ بیرل تیل ترسیل کر رہی تھی، جو جہاز رانی کی نگرانی کرنے والی کمپنیوں اور تجزیہ کاروں کے مطابق عالمی سپلائی کا چار سے پانچ فیصد بنتا ہے۔

سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق اس لائن کی گنجائش تقریباً 70 لاکھ بیرل یومیہ ہے۔

سعودی عرب گذشتہ کئی مہینوں کے دوران بارہا اعلان کر چکا ہے کہ اس کی سرزمین، خصوصاً توانائی کی تنصیبات، ایسے حملوں کا نشانہ بنی ہیں جن کے بارے میں اس کا کہنا تھا کہ وہ عراق میں تہران سے منسلک گروہوں کی جانب سے کیے گئے۔

’اپنے شہریوں کے تحفظ کا حق محفوظ رکھتے ہیں‘

Saudi Arabia
Getty Images
فائل فوٹو

خبر رساں ادارے ’روئٹرز‘ نے جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والی کمپنیوں اور تجزیہ کاروں کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا تھا کہ یہ پائپ لائن عالمی تیل سپلائی کی چار سے پانچ فیصد حصے کی ترسیل کر رہی تھی۔

سعودی وزارتِِ خارجہ کے مطابق اس حملے فوراً بعد سعودی حکام کو عراق کے وزیرِ اعظم کی ایک کال موصول ہوئی تھی جس کے بعد سعودی عرب نے فوری جوابی کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

وزارت نے کہا تھا کہ مملکت پڑوسی ممالک کے خلاف اپنی سرزمین سے ہونے والے حملوں کو روکنے کے لیے ’عراقی حکومت کی کوششوں کی حمایت‘ کرے گی۔

سعودی وزارتِ خارجہ کے مطابق ’سعودی حکومت اس بات کی توثیق کرتی ہے کہ وہ اپنی خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ، اپنی تنصیبات کے دفاع اور اپنے شہریوں اور رہائشیوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتی ہے۔‘

عراقی وزیرِ اعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ میسان کے آپریشنز کمانڈر کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔

دوسری جانب عراقی مسلح افواج نے اعلان کیا تھا کہ وزیرِ اعظم علی الزیدی نے سعودی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن پر حملے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

عراق کی فوج نے کہا تھا کہ وزیرِ اعظم نے ’ان حملوں کی تفصیلات اور ان کے پسِ پردہ عوامل کی فوری تحقیقات‘ کا حکم دیا ہے اور عراق کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق ’اس واقعے میں ملوث پائے جانے والے ہر شخص کے خلاف‘ قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

اس سے پہلے بھی عراقی سرزمین سے سعودی عرب کی تنصیبات پر حملے کیے گئے تھے جن کے بعد سعودی عرب اور امریکہ کی جانب سے جوابی حملے ہوئے تھے جن میں سے ایک میں پاسدارانِ انقلاب کے کئی ارکان بھی مارے گئے تھے۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US