وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کی خصوصی تیاریاں کی جا رہی ہیں اور اس کا حتمی منصوبہ مارچ سے ایک ہفتہ قبل سامنے آ جائے گا۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کی خصوصی تیاریاں کی جا رہی ہیں اور اس کا حتمی منصوبہ مارچ سے ایک ہفتہ قبل سامنے آ جائے گا۔
لاہور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ اسلام آباد مارچ کی تیاریاں جاری ہیں اور کارکنوں کی بڑی تعداد اسلام آباد پہنچے گی۔
انھوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ ’گھٹ گھٹ کر مرنے سے، خودکشیاں کرنے سے بہتر ہے کہ لوگ 27 ستمبر کو نکلیں۔ لوگ جس طرح نکلیں گے، یہ کاکروچ نہیں، 35 ہزار نہیں ایک لاکھ پولیس والے اور ایک لاکھ فوج بھی لے کر آئیں تب بھی یہ 40 لاکھ لوگوں کو نہیں روک پائیں گے۔‘
اس سوال پر کہ آیا انھیں مستقبل میں نااہلی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، سہیل آفریدی نے کہا کہ ’کرسیوں کا لالچ انھیں ہوتا ہے جن کا ذاتی مفاد ہو۔۔۔ میری جان بھی چلی جائے تو اپنے موقف سے ایک انچ پیچھے نہیں ہٹوں گا۔ یہ 27 ستمبر کو ان سب کو بتاؤں گا۔‘
صحافیوں سے بات کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے یہ بھی کہا کہ ’انھوں نے ساری عمر حکومت میں نہیں رہنا۔۔۔ بازیاں پلٹتی رہتی ہیں۔ اگلی باری ہماری ہے۔ ایک، ایک پولیس والے کی ویڈیوز بنائی جا رہی ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’جو چور، ڈاکو پنجاب کے عوام پر مسلط ہیں ان کا بھرپور احتساب ہو گا۔‘
خیال رہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی 27 ستمبر کو اسلام آباد لانگ مارچ کال کے لیے کارکنوں کو متحرک کرنے کی غرض سے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی پیر کو لاہور پہنچے تھے۔
دو روز تک لاہور کی سڑکوں پر پولیس کے ساتھ نوک جھونک اور پنجاب حکومت پر اُن کے دورے کے دوران رکاوٹوں کے الزامات کے بعد وہ منگل کی شب واپس روانہ ہو گئے ہیں۔
پاکستان تحریکِ انصاف کے مارچ سے قبل ہی اسلام آباد کے داخلی راستوں پر کنٹینرز لگ گئے ہیں جبکہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ کسی سیاسی جماعت یا رہنما کو اسلام آباد بند کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
پاکستان تحریکِ انصاف کے مطابق سہیل آفریدی کے لاہور کے دورے کا مقصد لانگ مارچ کے لیے کارکنوں کو متحرک کرنا اور جیل میں قید پارٹی رہنماؤں کے اہلخانہ سے اظہارِ یکجہتی تھا۔
سہیل آفریدی کا لاہور میں دوسرا روز
’آج لاہور کی سڑکوں پر دفعہ 804 ہو گی، کل ہم بغیر بتائے نکلے تھے اور آج ہم بتا کر نکل رہے ہیں۔‘
یہ کہنا ہے خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی کا جو پیر کو اُس وقت لاہور پہنچے تھے جب اس سے پہلے ہی لاہور میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی تھی۔
منگل کو اپنے دورہ لاہور کے دوسرے روز سہیل آفریدی نے ایک بار پھر پنجاب حکومت اور پولیس کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اُن کا راستہ روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے، لیکن لاہور کے شہری پھر بھی باہر نکلیں گے۔
منگل کو ایک ویڈیو پیغام میں سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ ’میں آج بھی لاہور میں موجود ہوں، ہم دوبارہ سڑکوں پر تحریک کے لیے نکلیں گے۔پیر کو میں نے لاہور میں کوئی کال نہیں دی تھی، اس کے باوجود لاہور کے لوگ خود بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئے۔‘
سہیل آفریدی نے الزام لگایا کہ پنجاب پولیس نے ’ہمارے راستوں پر رکاوٹیں کھڑی کر دیں اور تمام راستے بند کر دیے، ہم جہاں بھی جا رہے تھے، وہاں کی روشنیاں بند کر دی جاتی تھیں۔‘
پیر کو لاہور پہنچنے پر وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی اور پولیس کے درمیان نوک جھونک جاری رہی اور اُن کی جانب سے کارکنوں کو روکنے کے الزامات عائد کیے جاتے رہے۔
منگل کو وہ قافلے کے ساتھ لاہور کی سڑکوں پر نکلے اور ہال روڈ، سیکریٹریٹ، مسلم ٹاؤن، اچھرہ اور لاہور کے مختلف مقامات سے گزرتے رہے۔
خیال رہے سہیل آفریدی پیر کی دوپہر قافلے کی صورت میں لاہور پہنچے تو اُن کی آمد کے موقع پر ٹھوکر نیاز بیگ کے مقام پر سڑک کو ایک جانب سے ٹریفک کے لیے بند کیا گیا تھا۔
اس موقع پر سٹرک کھلوانے کے لیے سہیل آفریدی اپنی گاڑی سے اُترے اور ہاتھوں کے اشاروں سے لوگوں کو پولیس کی رکاوٹ عبور کر کے سفر جاری رکھنے کا کہتے رہے۔ اس دوران وہاں موجود پنجاب پولیس کے اہلکاروں نے اُن کو آگاہ کیا کہ ٹریفک کو عارضی طور پر اس لیے بند کیا گیا ہے تاکہ وہ بحفاظت اس علاقے سے نکل سکیں۔
’پولیس اور حکومت کا رویہ افسوسناک‘
منگل کو اپنے ویڈیو پیغام میں سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ ’جب سے لاہور آیا ہوں، پنجاب پولیس اور حکومت اُن کا راستہ روکنے کی کوشش کر رہی ہے۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ جگہ جگہ کنٹینرز لگائے گئے، جہاں جہاں ہم جا رہے تھے وہاں کی روشنیاں بند کی گئیں۔ ہماری گاڑیوں کا پیٹرول ختم تھا، پیٹرول پمپ مالکان کو ڈرایا گیا کہ انھیں پیٹرول نہیں دینا۔
سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ جہاں ہم قیام پذیر تھے وہاں سے شامیانے اُکھاڑے گئے، کھانا وہاں سے لے گئے اور کارکنوں کو گرفتار کیا گیا۔
اُن کا کہنا تھا کہ وہ لاہور میں صرف اپنے ہلاک ہونے والے کارکن اشتیاق کے اہلخانہ سے اظہارِ افسوس کے لیے آئے تھے۔ لیکن وہاں بھی راستہ روکا گیا۔
سہیل آفریدی نے دعویٰ کیا کہوہ اپنے کارکنوں کو چھڑانے کے لیے احتجاجاً پولیس کی گاڑی میں بیٹھ گئے تھے، لیکن اُنھیں بغیر سکیورٹی کے ’اغوا‘ کر کے لاہور کی سڑکوں پر گھمایا گیا اور پھر بیچ راستے میں چھوڑ دیا گیا۔

پنجاب حکومت کا ردِعمل
دوسری جانب پنجاب کی وزیرِ اطلاعات اعظمی بخاری نے دعویٰ کیا کہ سہیل آفریدی کے قافلے میں پولیس، سکیورٹی گارڈز اور یوٹیوبرز کے علاوہ کوئی بھی نہیں ہے۔
ایکس پر اپنے بیان میں اعظمی بخاری کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں طبی عملے، ڈاکٹروں، میڈیکل سٹورز اور اساتذہ کے احتجاج اور ہڑتالوں کے باعث سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں اور ان کے تیمارداروں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ ایسے میں سہیل آفریدی اپنے کابینہ ارکان کے ہمراہ لاہور کے دورے پر ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ سہیل آفریدی اور ان کی کابینہ نے لاہور کی ترقی دیکھ لی ہے تو جائیں اپنے صوبے کی خبر لیں۔
اعظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ ’صوبے کے وزیرِ اعلیٰ کو اپنے عوام سے زیادہ اڈیالہ جیل کے قیدی کی فکر ہے۔‘
’عمران خان کو قیدِ تنہائی میں رکھا جا رہا ہے‘
دوسری جانب عمران خان کی بہنوں کی سابق وزیرِ اعظم سے اڈیالہ جیل میں ملاقات نہیں ہو سکی۔
اڈیالہ جیل کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے الزام لگایا کہ عمران خان کو جیل میں قیدِ تنہائی میں رکھنے کے لیے ’ہر حربہ‘ استعمال کیا جا رہا ہے۔
علیمہ خان نے کہا کہ وہ ان ججز کی تعریف کرتی ہیں جنھوں نے ان کے بقول ’غیر آئینی اور غیر قانونی‘ کام کرنے سے انکار کیا۔
عمران خان کو نجی ہسپتال منتقل کرنے کے حکم سے متعلق عدالتی ریکارڈ وفاقی آئینی عدالت طلب
وفاقی آئینی عدالت نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر عمل درآمد نہ ہونے پر عمران خان کی بہن کی جانب سے توہین عدالت کی درخواست اور حکومت کی طرف سے سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف دائر کی گئی نظرثانی کی اپیل کا ریکارڈ بھی طلب کر لیا ہے۔
وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس امین الدین کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے یہ حکم راولپنڈی کی اڈیالہ جیل کے تین قیدیوں کی درخواستوں پر دیا ہے۔ اس سے قبل یہ درخواستیں اسلام آباد ہائی کورٹ مسترد کر چکی ہے۔ اڈیالہ جیل کے اِن قیدیوں نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو آئینی عدالت میں چیلنج کیا تھا۔
وفاقی آئینی عدالت نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف ان تین قیدیوں کی درخواست کو سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے ان درخواستوں کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی۔
پارلیمانی امور کے وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے بی بی سی کو بتایا کہ کسی بھی قیدی کو ہسپتال منتقل کرنے کا فیصلہ میڈیکل بورڈ کرتا ہے۔ ان کے بقول اس کا اختیار ’نہ کسی جج کے پاس ہے اور نہ ہی کسی وزیر کے پاس۔‘
خیال رہے کہ ان درخواستوں میں اڈیالہ جیل کے قیدیوں نے موقف اختیار کیا تھا کہ انھیں بھی سابق وزیر اعظم عمران خان کی طرح نجی ہسپتالوں میں علاج معالجے کی سہولت فراہم کی جائے۔
منگل کو وفاقی آئینی عدالت نے تمام صوبوں سے اسی نوعیت کے مقدمات کا ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔
18 اگست کو سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے سابق وزیر اعظم کی بہن عظمیٰ خان کی درخواست پر علاج معالجے کی غرض سے سابق وزیر اعظم عمران خان کو اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔
ساتھ یہ بھی حکم دیا گیا تھا کہ وہ اس درخواست کی اگلی سماعت یعنی 16 ستمبر تک ہسپتال میں ہی رہیں گے۔ تاہم حکومت نے سکیورٹی کو وجہ بناتے ہوئے عمران خان کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کی بجائے پمز لے گئی جہاں چار گھنٹے تک ان کا طبی معائنہ کرنے کے بعد انھیں واپس اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا۔

’وفاقی آئینی عدالت جیل رولز کا جائزہ لے سکتی ہے‘
چیف جسٹس امین الدین کی سربراہی میں وفاقی آئینی عدالت کے تین رکنی بینچ نے اڈیالہ جیل کے ان تین قیدیوں کی اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر کی گئی ان درخواستوں کی سماعت کی۔
اٹارنی جنرل منصور اعوان عدالت میں پیش ہوئے اور انھوں نے کہا کہ 27 ویں آئینی ترمیم کے تحت وفاقی آئینی عدالت ملک کی کسی بھی عدالت سے کسی بھی مقدمے کا ریکارڈ طلب کر سکتی ہے۔ اس پر بینچ کے سربراہ نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیا اس میں سپریم کورٹ بھی شامل ہے، جس پر عدالت کو بتایا گیا کہ اس میں سپریم کورٹ بھی شامل ہے۔
اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرٹیکل 175 ای کی ذیلی شق 5 کے تحت وفاقی آئینی عدالت آئینی تشریح کے سوال پر ملک کی کسی بھی عدالت کا ریکارڈ منگوا سکتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ آئین کی تشریح کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کے پاس ہے۔
وفاقی آئینی عدالت نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر عمل درآمد نہ ہونے پر عمران خان کی بہن کی جانب سے توہین عدالت کی درخواست کا ریکارڈ بھی طلب کر لیا ہےبینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ان تین قیدیوں نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ انھیں بھی نجی ہسپتال میں علاج معالجے کی سہولت فراہم کی جائے۔ انھوں نے کہا کہ آئین و قانون کا اطلاق امیر اور غریب پر برابر ہونا چاہیے۔
بینچ میں موجود جسٹس علی باقر نجفی نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیا جب سپریم کورٹ نے عمران خان کو نجی ہسپتال منتقل کرنے کے بارے میں فیصلہ دیا تھا تو کیا اس پر انھوں نے اعتراض کیا تھا؟ جس پر اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ سپریم کورٹ نے ہمیں نوٹس جاری کیے بغیر حکم دیا، جبکہ اس وقت کمرہ عدالت میں موجود ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے سپریم کورٹ میں اعتراض اٹھایا تھا۔
جسٹس علی باقر نجفی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا سپریم کورٹ کو درخواست کے قابل سماعت ہونے کا معاملہ طے نہیں کرنا چاہیے تھا۔
اٹارنی جنرل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عدالتی دائرہ اختیار کے سوال کو طے کرنے کے لیے سپریم کورٹ سے کیس لا ریکارڈ منگوایا جائے اور آئینی عدالت کے پاس کیس کا ریکارڈ طلب کرنے کا اختیار ہے۔
انھوں نے کہا کہ آئینی عدالت ریکارڈ منگوا کر پہلے عدالتی دائرہ اختیار طے کرے۔ انھوں نے کہا کہ کوئی قیدی تحویل میں ہے تو اس کی جان کی حفاظت کی ذمہ داری ریاست کی ہے۔
اس تین رکنی بینچ میں شامل جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کیا قیدیوں سے متعلق رولز تمام معاملات کا احاطہ کرتے ہیں؟ جس پر اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ وفاقی آئینی عدالت دائرہ اختیار کے ساتھ بنیادی حقوق اور جیل رولز کا جائزہ لے سکتی ہے۔
جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پرائیویٹ ہسپتال میں علاج جیل مینیوئل کے خلاف ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’نجی ہسپتال کیوں؟ پمز یا پولی کلینک میں علاج کیوں نہیں ہو سکتا؟‘ انھوں نے کہا کہ ’جیل مینیوئل میں بالکل واضح ہے کہ تمام قیدیوں کے ساتھ مساوی سلوک ہونا چاہیے۔
جسٹس علی باقر نجفی نے ریمارکس دیے کہ قیدی کا علاج معالجہ بنیادی حقوق میں آتا ہے اور زندگی کا حق بھی بنیادی حق ہے۔
انھوں نے کہا کہ تمام قیدیوں کے ساتھ مساوی سلوک ہونا چاہیے۔
کیا عمران خان کا کیس اب وفاقی آئینی عدالت کو منتقل ہو جائے گا؟
بعض قانونی ماہرین کا خیال ہے کہ آئینی عدالت کی طرف سے عمران خان کا میڈیکل ریکارڈ طلب کرنے کے بعد سپریم کورٹ سابق وزیر اعظم کی شفا انٹرنیشنل میں منتقلی کا کیس نہیں سن سکے گی۔
پارلیمانی امور کے وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے بی بی سی کو بتایا کہ کسی بھی قیدی کو ہسپتال منتقل کرنے کا فیصلہ میڈیکل بورڈ کرتا ہے اور اس کا اختیار نہ کسی جج کے پاس ہے اور نہ ہی کسی وزیر کے پاس۔
انھوں نے کہا کہ عمران خان کا معائنہ کرنے والی ٹیم نے سابق وزیر اعظم کو ’فِٹ‘ قرار دیا جس کے بعد انھیں دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا تھا۔
قانونی ماہر معیز جعفری نے بی بی سی کو بتایا کہ 27ویں آئینی ترمیم کے تحت اب سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ نہیں بلکہ وفاقی آئینی عدالت ہے۔ انھوں نے کہا کہ جب ملک کی سب سے بڑی عدالت کسی بھی ماتحت عدالت سے ریکارڈ طلب کر لے تو اس کا مطلب ہے کہ آئندہ سماعت ماتحت عدالت میں نہیں ہو سکتی۔
انھوں نے کہ ان تین قیدیوں کی درخواستوں میں معاملہ جیل مینیوئل کا ہے کہ آیا انھیں علاج معالجے کے لیے نجی ہسپتال منتقل کیا جاسکتا ہے یا نہیں۔
انھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے وہ ججز جنھوں نے عمران خان کو علاج معالجے کے لیے نجی ہسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا تھا، وہ اگر چاہیں تو توہین عدالت سے متعلق عمران خان کی بہن کی جانب سے دائر کی گئی درخواست کی سماعت کر سکتے ہیں۔