پاکستان، مصر، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب، ترکیہ اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے غزہ میں جاری انسانی بحران پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے جنگ بندی برقرار رکھنے اور اس کی تمام خلاف ورزیاں فوری طور پر ختم کرنے پر زور دیا ہے۔
وزارت خارجہ کے مطابق آٹھوں ممالک کے وزرائے خارجہ نے 21 ستمبر 2026 کو نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر ملاقات کی، جس کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا۔
مشترکہ اعلامیے میں اسرائیل پر زور دیا گیا کہ وہ جامع منصوبے کے پہلے مرحلے کے تحت اپنی باقی ماندہ ذمہ داریاں فوری طور پر پوری کرے، غزہ میں انسانی امداد اور ابتدائی بحالی کا سامان محفوظ، بلا رکاوٹ اور فوری طور پر پہنچانے کو یقینی بنائے جبکہ اہم بنیادی ڈھانچے کی بحالی میں سہولت فراہم کرے۔
وزرائے خارجہ نے کہا کہ روڈ میپ جامع منصوبے کا لازمی حصہ ہے اور دوسرے مرحلے پر عملدرآمد کے لیے فریم ورک فراہم کرتا ہے، جس میں اسرائیلی فوج کا مکمل انخلا، مسلح گروہوں کی غیر مسلحی، انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس کی تعیناتی، غزہ کے انتظام کے لیے نیشنل کمیٹی کی ذمہ داریوں کا سنبھالنا اور غزہ بھر میں ابتدائی بحالی و تعمیر نو کا آغاز شامل ہے۔
اعلامیے میں تمام فریقین پر زور دیا گیا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں نیک نیتی سے اور بلا تاخیر پوری کریں۔
آٹھ ممالک نے فلسطینی عوام کو ان کے وطن سے بے دخل یا جبری طور پر منتقل کرنے کی کسی بھی کوشش کو دوٹوک مسترد کرتے ہوئے مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی جغرافیائی یا آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششوں کی مخالفت کی۔
مشترکہ اعلامیے میں اسرائیلی کنٹرول اور الحاق کو مستحکم کرنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات، آبادکاری میں تیزی، فلسطینی اراضی کی ضبطی، فلسطینی گھروں کی مسماری، آبادکاروں کے تشدد اور جبری بے دخلی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان اقدامات کو فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا۔
وزرائے خارجہ نے یروشلم میں مسلم اور مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت برقرار رکھنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
اعلامیے میں برطانیہ کی جانب سے حالیہ اقدامات سمیت اسرائیلی غیر قانونی آبادکاری کے خلاف قومی اور یورپی سطح پر کیے جانے والے اقدامات کا خیرمقدم کیا گیا اور آبادکاری کے پھیلاؤ کو روکنے اور آبادکاروں کے تشدد پر احتساب یقینی بنانے کے لیے مزید مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا گیا۔
وزرائے خارجہ نے واضح کیا کہ غزہ فلسطینی سرزمین کا لازمی حصہ ہے اور جامع منصوبے پر عملدرآمد کے ذریعے مغربی کنارے، بشمول مشرقی یروشلم، اور غزہ کو دوبارہ متحد کرنے کی کوشش ہونی چاہیے۔
اعلامیے میں فلسطینی عوام کے حق خودارادیت اور ایک خودمختار، قابل عمل اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے ناقابل واپسی اور قابل اعتماد راستے کی ضرورت پر زور دیا گیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو، جبکہ دو ریاستی حل پر عملدرآمد کو اس مقصد کے حصول کا ذریعہ قرار دیا گیا۔
وزرائے خارجہ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت کو سراہتے ہوئے جامع منصوبے پر عملدرآمد میں امریکا کے اہم کردار کو اجاگر کیا۔ انہوں نے امریکا سے مسلسل اور فعال کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا تاکہ تمام فریق، بالخصوص اسرائیل، اپنی ذمہ داریاں پوری کریں اور روڈ میپ پر عملدرآمد میں حائل رکاوٹیں دور کی جا سکیں۔
اعلامیے کے مطابق وزرائے خارجہ نے امریکا، بورڈ آف پیس، فلسطینی اتھارٹی اور دیگر متعلقہ فریقین کے ساتھ مل کر جامع منصوبے اور اس کے روڈ میپ پر مکمل عملدرآمد کے لیے کام جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا، تاکہ فلسطینی عوام کی مشکلات کم کی جا سکیں، ان کے حق خودارادیت اور آزاد ریاست کے حق کو عملی جامہ پہنایا جا سکے اور خطے میں منصفانہ، دیرپا اور جامع امن قائم ہو سکے۔