ڈھاکہ یونیورسٹی میں محمد علی جناح کی تصاویر لگانے اور پھاڑنے پر تنازع: ’وہ ہمارے نہیں، پاکستان کے بابائے قوم تھے‘

تصاویر پھاڑے جانے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد یہ معاملہ محض یونیورسٹی کے ایک آرکائیو تک محدود نہیں رہا بلکہ بنگلہ دیش میں محمد علی جناح، پاکستان اور 1971 کی تاریخ کے بارے میں جاری بحث کا حصہ بن گیا ہے۔
Moahmmad Ali Jinnah
AFP
ڈھاکہ یونیورسٹی کے مطابق محمد علی جناح کی تصاویر گیلری میں آویزاں کرنے اور بعدازاں انھیں پھاڑنے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں

بنگلہ دیش کی ڈھاکہ یونیورسٹی نے اپنے طلبہ یونین کے تاریخی آرکائیو میں بانیِ پاکستان محمد علی جناح کی تصاویر آویزاں کیے جانے اور پھر ایک سابق طالب علم کی جانب سے انھیں پھاڑے جانے کے واقعے کی تحقیقات کا اعلان کیا ہے۔

تصاویر پھاڑے جانے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد یہ معاملہ محض یونیورسٹی کے ایک آرکائیو تک محدود نہیں رہا بلکہ بنگلہ دیش میں محمد علی جناح، پاکستان اور 1971 کی تاریخ کے بارے میں جاری بحث کا حصہ بن گیا ہے۔

سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک شخص تصویری گیلری سے محمد علی جناح کی تصاویر ہٹانے کے بعد انھیں فریم سے نکال کر پھاڑ رہا ہے۔ بعدازاں مذکورہ شخص کی شناخت ابو طیب کے نام سے ہوئی ہے جو ڈھاکہ یونیورسٹی کا سابق طالب علم ہے۔

بنگلہ دیش کے انگریزی اخبار ’دی ڈیلی سٹار‘ کے مطابق اس گیلری کو 13 ستمبر کو دوبارہ کھولا گیا تھا او یہ واقعہ 14 ستمبر کو پیش آیا۔ اس میں بنگلہ دیش کی تاریخ، قیام اور ہندوستان کی تقسیم کے اہم واقعات اور طلبہ تحریکوں سے متعلق تصاویر آویزاں کی گئی ہیں۔

یونیورسٹی کی طلبہ یونین کا دعویٰ ہے کہ شیخ حسینہ کے دور میں اس گیلری کو عوامی لیگ کے بیانیے کو پروان چڑھانے کا ذریعہ بنا دیا گیا، لہذا اسے تبدیل کر کے تاریخ درست کرنے کی کوشش کی گئی۔

تصویر
AFP

’وہ ہمارے بابائے قوم نہیں تھے‘

خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ سے گفتگو کرتے ہوئے ابو طیب نے اپنے اس اقدام کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ محمد علی جناح ہمارے نہیں بلکہ پاکستان کے بابائے قوم تھے۔

’وہ ہمارے لیے ولن تھے۔ وہ پاکستان کے بابائے قوم تھے، لیکن جب وہ بنگالیوں اور بنگلہ زبان کے خلاف ہوئے تو ہمارے لیے ولن بن گئے۔‘

’دی ڈیلی سٹار‘ کے مطابق اس گیلری میں بانی پاکستان کی تین تصاویر آویزاں کی گئی تھیں جن میں سے ایک مارچ 1948 کی ہے جس میں محمد علی جناح ڈھاکہ یونیورسٹی میں اُردو کو پاکستان کی سرکاری زبان قرار دینے کا اعلان کر رہے ہیں۔

دوسری تصویر سنہ 1940 کو لاہورمیں ہونے والے آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس کی ہے جبکہ تیسری تصویر پاکستانی انگریزی اخبار ڈان کے سنہ 1970 کے الیکشن سے متعلق تراشے پر ہے جس پر بانی پاکستان کی تصویر ہے۔

Dhaka
AFP
ابو طیب سنہ 2001 سے لے کر 2002 تک ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اُردو کے طالبِ علم رہے ہیں

اس واقعے کو کئی روز گزر جانے کے باوجود یہ بحث جاری ہے کہ بنگلہ دیش میں بانی پاکستان محمد علی جناح کے بارے میں لوگ کیا رائے رکھتے ہیں اور بنگلہ دیش میں انڈیا نواز سمجھی جانے والی شیخ حسینہ حکومت کے خاتمے کے باوجود یہ واقعہ کیوں پیش آیا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ تصویری گیلری میں بنگلہ دیش کے بانی شیخ مجیب الرحمن کی کوئی نمایاں تصویر موجود نہیں ہے۔ دی ڈیلی سٹار کے مطابق گیلری میں شیخ مجیب الرحمان کے بیٹوں کی 1974 کی شادیوں کی ایک تصویر اور ان سے متعلق اخبارات کی تین تراشے وہاں موجود ہیں۔

ماہرین کے مطابق یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ قومیت، مذہب اور زبان کی وہ میراث، جنھوں نے بنگلہ دیش کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا، آج بھی سیاسی طور پر کس قدر اہم ہیں اور 2024 کے اُس انقلاب نے جس کے نتیجے میں شیخ حسینہ کی حکومت کا خاتمہ ہوا، ماضی کے کئی بیانیوں کو کس طرح بدل کر رکھ دیا ہے۔

’ہم تاریخ کا دھارا درست کرنا چاہتے تھے‘

ڈھاکہ یونیورسٹی میں طلبہ یونین بنگلہ دیش اسلامی چھاترو کا کہنا ہے کہ محمد علی جناح کی تصویر ڈھاکہ یونیورسٹی کی تاریخ کا حصہ تھی۔

بنگلہ دیش اسلامی چھاترو تنظیم جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش کا طلبہ ونگ ہے۔

بنگلہ دیش اسلامی چھاترو کے رہنما ایس ایم فرہاد نے خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ سے گفتگو میں واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک طرح سے ’بلوائی حملہ‘ تھا جس میں ان تصاویر کو پھاڑ دیا گیا۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’اگر ہم سے کوئی غلطی ہوئی ہے تو اسے بغیر کسی بدمزگی کے سدھارا جا سکتا تھا، حالانکہ میں سمجھتا ہوں کہ ہم نے کچھ غلط نہیں کیا۔‘

ایس ایم فرہاد کا کہنا تھا کہ محمد علی جناح نے ڈھاکہ یونیورسٹی میں ہی اُردو کو سرکاری زبان قرار دینے کا اعلان کیا تھا اور یہ تصویر آویزاں کرنے کا مقصد یہی بتانا تھا، ’اگر ہم اسے تاریخ سے مٹانے کی کوشش کریں گے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم جناح کے موقف کی حمایت کر رہے ہیں۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ شیخ حسینہ کے دور میں ڈھاکہ یونیورسٹی کے آرکائیو میں عوامی لیگ کے بیانیے کو پروان چڑھایا جاتا تھا، لہذا ’ہم نے اس گیلری کی تزئین و آرائش کر کے تاریخ کا دھارا درست کرنے کی کوشش کی ہے۔‘

Mohammad Ali Jinnah
AFP

’محمد علی جناح کے حوالے سے بنگلہ دیش میں رائے منقسم ہے‘

بنگلہ دیش کے سیاسی تجزیہ کار الطاف پرویز نے اے ایف پی کو بتایا کہ بنگلہ دیش میں جناح کو کبھی بھی پذیرائی نہیں ملی۔

اُن کا کہنا تھا کہ اس وقت بنگلہ دیش میں اسلام پسندوں کے ابھرنے کے لیے سازگار ماحول موجود ہے۔ ’انھیں ایک موزوں رہنما کی تلاش ہے اور یہی وجہ ہے کہ جناح کے حوالے سے اتنی ہنگامہ آرائی ہو رہی ہے۔‘

بی بی سی بنگلہ سروس کے ایڈیٹر میر صابر کے مطابق ڈھاکہ یونیورسٹی میں اس وقت جماعتِ اسلامی کے طلبہ ونگ کا اثر و رسوخ ہے اور 2024 کے بعد اس گیلری سے شیخ مجیب کی تصاویر ہٹا دی گئی تھیں۔

میر صابر کہتے ہیں کہ بنگلہ دیش میں محمد علی جناح کے حوالے سے منقسم رائے پائی جاتی ہے۔ ’لیکن اُن کے بارے میں یہاں زیادہ بات نہیں ہوتی۔‘

’محمد علی جناح کے بارے میں جو بات یہاں زیادہ یاد رکھی جاتی ہے وہ اُن کا 1948 میں ڈھاکہ کا دورہ ہے جس میں اُنھوں نے کہا تھا کہ اُردو پاکستان کی سرکاری زبان ہو گی۔‘

اُن کے بقول محمد علی جناح کے اس بیان کے بعد زبان کے معاملے پر تنازع میں شدت آئی، حالانکہ یہ معاملہ پہلے سے ہی بنگال میں بہت حساس سمجھا جاتا تھا۔

میر صابر کے مطابق محمد علی جناح کے بیان کے بعد ڈھاکہ یونیورسٹی میں طلبہ تحریک شروع ہو گئی اور پھر 1952 میں یہاں ہلاکتیں بھی ہوئیں۔

لاہور کی پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ تاریخ سے منسلک پروفیسر محبوب حسین کہتے ہیں کہ محمد علی جناح نے جب اُردو کو سرکاری زبان قرار دینے کا اعلان کیا تو مسلم لیگ میں شامل بنگالی رہنماؤں نے بھی اس کی تائید کی تھی۔ ’لیکن مشرقی پاکستان میں ایک طبقہ ایسا تھا جو اس کے خلاف تھا۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ ’یہی وہ غلط فہمیاں ہیں جو محمد علی جناح کے حوالے سے بنگلہ دیش میں پائی جاتی ہیں اور 1971 کے بعد اس میں مزید شدت آئی۔‘

اُن کے بقول ’گو کہ بنگلہ دیش میں شیخ حسینہ حکومت کا خاتمہ ہو چکا ہے، لیکن اب بھی اُن کے حمایتی گروہ موجود ہیں جو اس نوعیت کے اقدامات کے ذریعے اپنے غصے کا اظہار کرتے ہیں۔‘

Mohammad Ali Jinnah
Getty Images

زبان کی تحریک اور محمد علی جناح کا ڈھاکہ یونیورسٹی میں خطاب

محمد علی جناح سنہ 1948 میں ڈھاکہ آئے تھے جہاں اُنھوں نے ڈھاکہ یونیورسٹی میں بھی خطاب کیا تھا۔

بنگلہ دیش کے سابق وزیرِ اعظم جو اس وقت ایک طالب علم رہنما تھے نے اپنی ڈائری میں لکھا ہے کہجناح کی ڈھاکہ آمد نے بنگالیوں میں ایک توقع کو جنم دیا تھا کہ وہ ریاستی زبان کے معاملے پر پارٹی سے بالاتر ہو جائیں گے۔ یعنی جناح سیاسی مفادات سے اوپر اٹھ کر اکثریت کی رائے کو ترجیح دیتے۔

تاہم، اردو کو ریاستی زبان قرار دیے جانے کے اعلان نے بنگالیوں کو مایوس کیا۔ اس کے نتیجے میں جناح کی مقبولیت میں نمایاں کمی آئی۔

محمد علی جناح نے اپنی تقریر کے دوران کہا کہ ’اردو صرف اردو ہی پاکستان کی سرکاری زبان ہو گی۔‘ ان کی تقریر پر مجمعے کی جانب سے فوری شدید احتجاج سامنے آیا۔

26 جنوری 1952 کو پاکستان کی اسمبلی نے اُردو زبان کو سرکاری زبان قرار دینے کی حتمی منظوری دے دی، اس نے مشرقی پاکستان میں شعلے بھڑکا دیے۔ اگلے دن خواجہ ناظم الدین جو اس وقت تک گورنر جنرل بن چکے تھے انھوں نے ڈھاکہ میں ایک بڑی ریلی کے دوران جناح کا موقف دہرایا۔ وہاں کا باشندہ ہونے کی حیثیت سے خواجہ ناظم الدین کے اس بیانیے نے زبان کی تحریک کو یکسر بدل دیا۔ ان کی اس تقریر کے بعد بھی ریلی میں خوفناک مظاہرے ہوئے۔

21 فروری کو ایک اور عام ہڑتال کی کال دی گئی۔ ڈھاکہ یونیورسٹی اور اس کے ارد گرد کے علاقوں میں دفعہ 144 نافد کر دی گئی تاکہ مجمع جمع نہ ہو سکے۔ لیکن احتجاج کو روکنے کے لیے یہ ناکافی تھا۔

ڈھاکہ یونیورسٹی کے طلبا دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے۔ پولیس نے گولی چلا دی جس سے متعدد مظاہرین ہلاک ہو گئے۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US