ٹیرف تنازع عدالت میں: کے الیکٹرک شدید مالی بحران کا شکار، بینکوں کا قرضوں سے انکار

image

نیپرا اور کے الیکٹرک کے درمیان ٹیرف میں تبدیلی کا تنازع شدید قانونی جنگ میں تبدیل ہوگیا ہے، جس کی وجہ سے کے الیکٹرک کو شدید مالی بحران کا سامنا ہے۔

ذرائع کے مطابق نیپرا کی جانب سے ٹیرف میں تبدیلی کے بعد مختلف بینکوں نے کمپنی کو مزید قرضے فراہم کرنے سے روک دیا ہے، جبکہ بینکوں نے کے الیکٹرک سے اپنے 30 ارب روپے نکال لیے ہیں اور 35 ارب روپے کے نئے و پرانے قرضوں کو ری شیڈول کرنے سے بھی صاف انکار کر دیا ہے۔ ٹیرف کا معاملہ التوا کا شکار ہونے سے 35 ارب روپے کے اسلامی بانڈز (سکوک) کا اجرا بھی تعطل کا شکار ہو چکا ہے۔

کمپنی کو سال 2024 سے 2030 کے سات سالہ کنٹرول پیریڈ کے لیے تاحال حتمی ملٹی ایئر ٹیرف جاری نہیں ہو سکا ہے۔ نیپرا نے پہلے 2025 میں کے الیکٹرک کے لیے 39 روپے فی یونٹ کا ٹیرف منظور کر کے جاری کیا تھا، تاہم صرف دو ماہ بعد ہی اپنے ہی منظور شدہ ٹیرف کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے اسے معطل کر دیا اور نیا ٹیرف 32.50 روپے (یا 32 روپے) فی یونٹ مقرر کر دیا۔ کے الیکٹرک نے اس نظرثانی شدہ ٹیرف کے فیصلے کو نیپرا ٹریبونل میں چیلنج کر رکھا ہے، جہاں کمپنی کی درخواست پر فیصلہ تاحال التوا میں ہے۔

ٹیرف میں اس اچانک بڑی کمی کے باعث 4 ارب روپے منافع کمانے والی کے الیکٹرک کو 80 ارب روپے کے بھاری خسارے کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ کیش فلو میں شدید کمی کی وجہ سے کراچی میں کے الیکٹرک کا بجلی کی فراہمی کا نظام بھی متاثر ہو رہا ہے۔

کے الیکٹرک کی جانب سے اسٹاک ایکسچینج کو ارسال کردہ خط میں بتایا گیا ہے کہ ٹیرف کے اسی قانونی تنازع اور تاخیر کی وجہ سے سال 2024، 2025 اور 2026 کے مالی حسابات (آڈٹ شدہ فائننشل اسٹیٹمنٹس) بھی تاحال جاری نہیں کیے جا سکے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US