اقوام متحدہ میں تقریباً 80 ممالک نے آبنائے ہرمز کو فوری اور مکمل طور پر دوبارہ کھولنے اور بحری جہازوں کی محفوظ و بلا رکاوٹ آمدورفت بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ مشترکہ بیان بحرین کے وزیر خارجہ عبداللطیف بن راشد الزیانی نے پڑھ کر سنایا۔
بیان میں کہا گیا کہ آبنائے ہرمز میں ایران کے اقدامات عالمی سلامتی اور بحری آمدورفت کے حقوق و آزادیوں کے لیے خطرہ ہیں۔ ممالک نے جہازوں پر ٹولز، شرائط یا غیر قانونی فیس عائد کیے جانے کی بھی مخالفت کی۔
مشترکہ بیان میں حوثیوں کی یمن میں دوبارہ لڑائی، سعودی عرب پر حملوں اور بحیرۂ احمر میں حملوں کی بھی مذمت کی گئی۔ بیان میں خبردار کیا گیا کہ باب المندب کی جانب حوثیوں کی پیش قدمی سے عالمی بحری تجارت اور سمندری سلامتی کو مزید خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔ ایران اور حوثی اپنے اقدامات کو دفاعی قرار دیتے ہیں۔