ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران جنگ جاری رکھنے کا خواہاں نہیں اور امریکا چاہے تو مذاکرات کے ذریعے تنازع ختم کیا جاسکتا ہے۔ فاکس نیوز کو انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ تہران کسی دباؤ کے بجائے بین الاقوامی قوانین کے تحت معاہدے کے لیے تیار ہے اور ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ پہلے ہونے والے معاہدے کو دوبارہ آگے بڑھانے کی خواہش رکھتا ہے۔
پزشکیان نے حوثیوں سے متعلق کہا کہ وہ اپنے فیصلے خود کرتے ہیں اور تہران سے ہدایات نہیں لیتے۔ دوسری جانب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر ایران اور امریکا کے نمائندوں کے درمیان مذاکرات بھی ہوئے تاہم فوری طور پر کسی حتمی پیش رفت کا اعلان نہیں کیا گیا۔
ادھر سعودی عرب نے کہا ہے کہ اس نے حوثیوں کی جانب سے داغے گئے چھ بیلسٹک میزائل روک لیے جبکہ مکہ مکرمہ سمیت متعدد علاقوں میں ممکنہ خطرے کے پیش نظر الرٹ جاری کیا گیا تھا۔ خطے میں بڑھتی کشیدگی کے باعث بحیرہ احمر اور اہم تجارتی راستوں کی صورتحال بھی تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔