کیا آرٹیفیشل انٹیلیجنس دجال ہے، جو انسانوں کو شیطان کی پرستش پر آمادہ کر رہی ہے؟ ایک متنازع عقیدے کی کہانی

کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس مسیحیوں کی مقدس کتاب میں بیان کیے گئے ’جھوٹے نبی‘ کی شکل اختیار کر سکتی ہے، جو انسانوں کو دجال کی پرستش پر آمادہ کرے گا، جبکہ کچھ کے نزدیک اے آئی خود دجال بھی ہو سکتی ہے۔
A cinematic depiction of planet Earth half-covered in molten lava and fiery destruction while the other half remains peaceful and blue. The image shows a dramatic contrast between life and catastrophe, symbolising planetary transformation.
Fotograzia via Getty Images

’اے آئی آخری زمانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔‘ یہ الفاظ کسی بڑی ٹیکنالوجی کمپنی کے ماہر کے نہیں بلکہ امریکہ کے شہر اٹلانٹا سے تعلق رکھنے والے بااثر پادری فلپ انتھونی مچل کے ہیں۔ ان کے نزدیک ’آخری زمانہ‘ سے مراد دنیا کا خاتمہ ہے۔

مچل کی اس پیش گوئی کو ایک سال سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے اور اب کئی دیگر معروف مسیحی شخصیات بھی ٹک ٹاک، پوڈکاسٹس اور کتابوں سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر یہ سوال اٹھا رہی ہیں کہ کیا مصنوعی ذہانت دنیا کی تباہی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔

میگا چرچ کے پادری گریگ لوری سوال کرتے ہیں کہ ’کیا اے آئی آخری زمانے (دنیا کے خاتمے) کے منظرنامے کا حصہ ہو سکتی ہے؟‘ اور اپنے اس سوال کا پھر وہ خود ہی جواب دیتے ہیں، کہ ’یہ بالکل ممکن ہے۔‘

دوسری جانب پادری مائیک سائنوریلی ایک پوڈکاسٹ میں کہتے ہیں کہ ’یہ اس بات کا ایک اہم حصہ ہے کہ دجال کیسے ظاہر ہو گا۔‘

یہ پادری اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ اے آئی کو اچھے مقاصد کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے، تاہم وہ خبردار کرتے ہیں کہ دجال، جسے شیطان کا نمائندہ سمجھا جاتا ہے، اسے لوگوں کو خدا کے بجائے اپنی عبادت پر آمادہ کرنے کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔

مسیحیت میں ’آخری زمانہ‘ سے مراد دنیا کے آخری دنوں سے متعلق پیش گوئیاں ہیں۔

مسیحی مذہب اور اسلام میں دجال کو خدا کا دشمن تصور کیا جاتا ہے اور مذہبی تعلیمات کے مطابق دجال آخرکار حضرت عیسیٰ کے ہاتھوں جنگ میں شکست کھائے گا۔ ان تصورات کی بنیاد بڑی حد تک بائبل کی آخری کتاب ’مکاشفہ‘ پر ہے، جس میں خوفناک اور علامتی مناظر بیان کیے گئے ہیں، جن میں ’سمندر سے نکلنے والا درندہ‘ بھی شامل ہے، جس کے سات سر اور دس سینگ ہیں۔ بعض مسیحی اسے دجال کی علامت سمجھتے ہیں۔

بہت سے مسیحی ’مکاشفہ‘ کی ان پیش گوئیوں کو علامتی سمجھتے ہیں۔ بعض کے مطابق اس کا تعلق رومی سلطنت کی جانب سے ابتدائی مسیحی چرچ پر ہونے والے ظلم و ستم سے ہے۔ تاہم کچھ لوگ اسے حقیقی پیش گوئی سمجھتے ہیں۔

ان میں سے بعض کا کہنا ہے کہ اے آئی اس کتاب میں بیان کیے گئے ’دوسرے درندے‘ یا ’جھوٹے نبی‘ کی شکل اختیار کر سکتی ہے، جو انسانوں کو دجال کی پرستش پر آمادہ کرے، جبکہ کچھ کے نزدیک اے آئی خود دجال بھی ہو سکتی ہے۔

Antichrist
Getty Images
شیطان کو اپنے مہرے دجال کو استعمال کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے، جو لوگوں کو دھوکا دے کر انجانے میں انھیں حضرت عیسیٰ کے بجائے دجال کی پرستش پر آمادہ کرتا ہے

مصنوعی ذہانت بلاشبہ دنیا کو تیزی سے بدل رہی ہے اور اس کی طاقت اور صلاحیت کے بارے میں خدشات بھی بڑھ رہے ہیں۔

سابق اینتھروپک محقق جیکب کوکسون نے یہاں تک کہا ہے کہ ’ممکن ہے ہم سب مستقبل قریب میں مر جائیں‘، جبکہ ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنیوں کے سربراہ بھی خبردار کر رہے ہیں کہ اگر اے آئی کی ترقی کی رفتار کم نہ کی گئی تو اس کے سنگین خطرات سامنے آ سکتے ہیں۔

سینٹ جانز سکول آف تھیالوجی اینڈ سیمینری سے وابستہ پروفیسر نورین ہرزفیلڈ، جو اے آئی اور ٹیکنالوجی کی اخلاقیات پر تحقیق کرتی ہیں کہتی ہیں کہ ’بڑی تبدیلی کے ادوار میں دنیا کے خاتمے سے متعلق بحث بھی زور پکڑتی ہے۔‘

ان کے مطابق ’اس طرح کے تصورات لوگوں کو معاشرے میں پیدا ہونے والے دباؤ کو سمجھنے کا ایک طریقہ فراہم کرتے ہیں اور انھیں یہ احساس دلاتے ہیں کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ محض اتفاق نہیں بلکہ خدا کے منصوبے کا حصہ ہے۔‘

ہرزفیلڈ کا کہنا ہے کہ ’ملازمتوں پر اے آئی کے ممکنہ اثرات کا موازنہ صنعتی انقلاب سے کیا جا سکتا ہے، جس نے بھی لوگوں میں غیر یقینی اور بے چینی کی کیفیت پیدا کی تھی۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’ہم تیز رفتار تبدیلی کے دور میں رہ رہے ہیں۔ کمپیوٹر ٹیکنالوجی جس رفتار سے ترقی کر رہی ہے، اس سے پہلے کبھی اس رفتار سے نہیں ہوئی۔‘

’ہمیں بتایا جا رہا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی لوگوں کی ملازمتیں لے لے گی، سب کچھ بدل دے گی اور ہر چیز میں انقلاب برپا کر دے گی۔ لوگوں کے لیے اتنی تیز رفتار تبدیلی کو قبول کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔‘

اس کے ساتھ یہ احساس بھی بڑھ رہا ہے کہ شاید انسان اپنے فیصلوں اور حالات پر پہلے جیسا اختیار نہیں رکھتا۔ اے آئی، چاہیں یا نہ چاہیں، ہماری زندگی کے بیشتر حصوں کا حصہ بن چکی ہے۔ دوسری جانب سلیکان ویلی سے آنے والی وہ وارننگز بھی موجود ہیں جن میں کہا جاتا ہے کہ اے آئی کے انسانیت کو مکمل طور پر ختم کر دینے کا امکان 10 یا 15 فیصد تک ہو سکتا ہے۔

ہرزفیلڈ کے مطابق اگر لوگوں کو یہ یقین ہو کہ ’اب بھی خدا ہی سب کچھ کنٹرول کر رہا ہے اور اس سب کے پیچھے کوئی مقصد ہے، یہ سب کسی منصوبے کے تحت ہو رہا ہے‘ تو وہ اس صورتحال کو ایک مختلف انداز میں دیکھ سکتے ہیں۔

پھر وہ خود سے یہ سوال کر سکتے ہیں کہ ’میں اس لمحے کا سامنا کیسے کرنا چاہتا ہوں؟ مجھے کیا کرنا چاہیے؟ اور میں برائی کے بجائے بھلائی کا ساتھ دینے کے لیے خود کو کس طرح تیار کروں؟‘

Standing on stage, with eyes closed and hands outstretched, a bearded and balding pastor Mike Signorelli, wearing beige cargo pants and a blue, yellow and orange short-sleeved
Daniel Boczarski/Getty Images
پادری مائیک سائنوریلی بھی ان 47 فیصد بالغ امریکی مسیحیوں میں شامل ہیں جو، ایک سروے کے مطابق، سمجھتے ہیں کہ ہم دنیا کے خاتمے سے قبل کے ’آخری زمانے‘ میں رہ رہے ہیں

سنہ 2022 میں پیو ریسرچ سینٹر کے ایک سروے کے مطابق تقریباً 40 فیصد بالغ امریکیوں کا خیال ہے کہ ہم دنیا کے ’آخری زمانے‘ میں رہ رہے ہیں۔ مسیحیوں میں یہ شرح بڑھ کر 47 فیصد ہو جاتی ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ تصور ہر چند دہائیوں بعد دوبارہ سامنے آتا رہا ہے، جب لوگ اپنے دور کے خوف اور بے چینی کو دجال کے تصور سے جوڑنے لگتے ہیں۔

نارتھ کیرولائنا کی ایلون یونیورسٹی کے پروفیسر جیفری سی پگ کہتے ہیں کہ ’میری دادی سمجھتی تھیں کہ فرینکلن ڈیلانو روزویلٹ دجال ہیں۔‘

امریکی صدر روزویلٹ نے شدید معاشی بحران اور غربت کے دور میں اقتدار سنبھالا تھا۔ ان کے ’نیو ڈیل‘ نامی معاشی منصوبے کو اس وقت ایک انقلابی قدم قرار دیا گیا تھا۔

پگ کے مطابق ان کی دادی کا خیال اس بات کی مثال ہے کہ موجودہ واقعات کو بائبل کی کسی مخصوص پیش گوئی سے جوڑنے کی کوشش بعض اوقات کس قدر غیر منطقی ہو سکتی ہے۔

اگرچہ امریکہ میں دنیا کے خاتمے سے متعلق باتیں وقتاً فوقتاً سامنے آتی رہی ہیں، لیکن 1960 کی دہائی میں اس تصور کو خاص طور پر تقویت ملی۔

پگ کہتے ہیں کہ ’وہ سماجی ہلچل کا ایک غیر معمولی دور تھا۔ ہمارے دو سیاسی رہنماؤں کو قتل کر دیا گیا اور اگر مارٹن لوتھر کنگ جونیئر کو بھی شامل کریں تو یہ تعداد تین بنتی ہے۔‘

’سیاہ فام امریکیوں میں سفید فاموں کے ظلم و جبر کے خلاف غصے کے باعث کئی شہر جل رہے تھے۔ بچے اور نوجوان بھی ایسے انداز میں اپنی آواز اٹھانے لگے تھے جو اس سے پہلے نہیں دیکھا گیا تھا، چاہے وہ جنگ مخالف مظاہرے ہوں یا نوجوانوں کی متبادل ثقافت۔‘

’خوفناک ٹیکنالوجیز‘

1970 کی دہائی میں ’دی لیٹ گریٹ پلینٹ ارتھ‘ نامی کتاب خاصی مقبول ہوئی، جس میں دنیا کے خاتمے سے متعلق بائبل کی پیش گوئیوں کو اُس وقت کے حالات اور عالمی سیاست سے براہِ راست جوڑا گیا تھا۔

پروفیسر پگ کہتے ہیں کہ ’اس کے بعد سے ہر بڑی سماجی ہلچل کو دنیا کے خاتمے کے اسی تصور سے جوڑا جانے لگا۔‘

سرد جنگ کے دور میں سوویت یونین اور کمیونزم کو دجال سے تعبیر کیا گیا، جبکہ 11 ستمبر کے حملوں کے بعد بعض مسیحیوں کے نزدیک اسلام کو دجال سے جوڑا جانے لگا۔

ڈاکٹر پگ کہتے ہیں کہ ’ہر دور کے خوف بالآخر خود کو دنیا کے خاتمے سے متعلق انہی تصورات میں ظاہر کرنے لگتے ہیں۔‘

آسٹریلیا کے پادری سٹیفن ڈرِسکول، جو ’میڈ اِن آور امیج: گاڈ، آرٹیفیشل انٹیلیجنس اینڈ یو‘ نامی کتاب کے مصنف ہیں، کہتے ہیں کہ انھیں یقین سے معلوم نہیں کہ دجال کون ہے یا کیا ہے۔

ان کے مطابق اے آئی، جو ’انسان کی بنائی ہوئی سب سے خوفناک ٹیکنالوجیز میں سے ایک‘ ہے، دجال کے لیے ایک ’قابلِ فہم امیدوار‘ ضرور ہو سکتی ہے، لیکن بائبل کی مدد سے مستقبل کی پیش گوئی کرنے کی کوشش زیادہ کارآمد نہیں۔

ڈرِسکول کہتے ہیں کہ ’بائبل ہمیں صرف یہ اندازے لگانے کے لیے نہیں کہ دجال کون ہے، بلکہ اس سے کہیں زیادہ رہنمائی فراہم کرتی ہے۔‘

ان کے مطابق یہ ہمیں تبدیلی کے لیے تیار کرتی ہے، کام کے بارے میں مذہبی نقطۂ نظر دیتی ہے اور اے آئی کو انسانوں کے لیے محفوظ اور فائدہ مند بنانے کے طریقوں کو حقیقت پسندانہ انداز میں سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔

’خدا کی اطاعت کریں‘

پرانے عہدنامے میں زرعی ٹیکنالوجی میں ہونے والی جدتوں، مثلاً اناج کی گہائی کے لیے استعمال ہونے والی گاڑیوں اور دیگر آلات کا ذکر ملتا ہے اور کہا گیا ہے کہ یہ سب کچھ خدا کی طرف سے ہے۔

سٹیفن ڈرِسکول کے مطابق ’خدا ٹیکنالوجی کی حکمت رکھنے والا خدا ہے‘ اور پتھر، کانسی، لوہے اور فولاد کے ادوار سے لے کر ایٹمی ٹیکنالوجی اور اے آئی تک، ہر دور کی ٹیکنالوجی پر بالآخر اسی کا اختیار ہے۔

ڈرِسکول کہتے ہیں کہ ’پرانے عہدنامے میں جلاوطن دانیال مختلف سلطنتوں کے دور میں زندگی گزارتے ہیں، جہاں مختلف ٹیکنالوجیز استعمال ہوتی ہیں۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’دانیال وقت کے حالات کو اپنے قابو میں نہیں رکھ سکتے تھے اور نہ آنے والی سلطنتوں کو روک سکتے تھے، چاہے وہ اپنے ساتھ تباہی ہی کیوں نہ لائیں۔‘

’لیکن وہ جہاں بھی ہوں، وفادار اور پُرامید رہ سکتے ہیں، اچھی زندگی گزار سکتے ہیں، لوگوں سے محبت کر سکتے ہیں اور خدا کی اطاعت کر سکتے ہیں۔‘

’وہ وقت کو اپنے قابو میں نہیں رکھ سکتے، لیکن اچھی زندگی ضرور گزار سکتے ہیں۔‘

لہٰذا چاہے ہم واقعی دنیا کے خاتمے کی جانب بڑھ رہے ہوں یا نہیں، بالآخر حالات بہتر سمت میں جا سکتے ہیں۔

ڈرِسکول کہتے ہیں کہ ’جو کچھ ہوتا ہے وہ سب اچھا نہیں ہوتا،‘ لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ ’خدا اچھا ہے اور سب کچھ اسی کے اختیار میں ہے۔‘


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US