’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے عمر‘ کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟

اکتوبر 2001 میں افغانستان کی جنگ کے ابتدائی مرحلے کے دوران امریکہ نے بھی سب سے پہلے اسی جگہ کو نشانہ بنایا تھا۔ ملا عمر کے قندھار میں واقع گھر کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟
سرائے ملا عمر
Getty Images
نائن الیون کے بعد امریکی فورسز نے اپنے ابتدائی حملوں میں ملا عمر کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا تھا، لیکن وہ اس سے پہلے ہی یہاں سے نکل گئے تھے۔ (فائل فوٹو دسمبر 2001)

پاکستان اور افغانستان کے درمیان جمعرات اور جمعے کو ہونے والی جھڑپوں کی سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ قندھار میں طالبان کے بانی ملا عمر کی رہائش گاہ’سرائے ملا عمر‘پر بھی حملہ کیا گیا۔

سرائے ملا عمر، جو کبھی طالبان کے سابق رہنما ملا محمد عمر کی رہائش گاہ تھی، جمہوری دورِ حکومت میں افغانستان میں امریکی مرکزی انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) کے مراکز میں شامل رہی تھی۔ قندھار میں یہ جگہ سرائے عمر کے نام سے مشہور ہے کیوں کہ یہ جگہ ایک زمانے میں ملا عمر کی رہائش گاہ تھی اور کہا جاتا ہے کہ اس کی تعمیر کا خرچ اسامہ بن لادن نے اٹھایا تھا۔

قندھار سے آنے والی تصاویر میں یہ بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ حملوں کے بعد علاقے میں آگ اور دھواں واضح طور پر موجود تھا جو اب ایک فوجی علاقہ ہے جہاں عام لوگوں کا داخلہ ممکن نہیں۔

افغانستان میں طالبان حکومت نےقندھار میں مبینہ پاکستانی حملے میں ملا عمر کی رہائش گاہ پر حملے کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔ پاکستان کی جانب سے بھی ان مقامات کے بارے میں نہیں بتایا گیا جنھیں نشانہ بنایا گیا۔

یاد رہے کہ پاکستان کے وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے دعویٰ کیا تھا کہ فضائیہ اور ڈرونز کے ذریعے افغانستان میں 10 ’ایسے مقامات پر انتہائی درست حملے کیے گئے ہیں جو ڈرونز داغنے اور انھیں ذخیرہ کرنے کے لیے استعمال کیے جا رہے تھے۔‘

تاہم بی بی سی افغانستان کے فیکٹ چیکنگ یونٹ کی جانب سے سیٹلائٹ تصاویر کے جائزے سے معلوم ہوا ہے کہ اس مقام پر موجود متعدد ہینگر مکمل طور پر تباہ ہو گئے ہیں۔

Pakistan Afghanistan
Getty Images
قندھار کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ اُنھیں زوردار دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں

’میں جاگ رہا تھا جب زوردار دھماکوں کی آوازیں آئیں‘

قندھار میں ’سرائے عمر‘ کے قریب مقیم ایک افغان صحافی نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ وہ جاگ رہے تھے، جب اُنھیں زوردار دھماکوں کی آوازیں آئیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ جب اُنھوں نے سرائے عمر کی جانب دیکھا تو اُس مقام سے آگ کے شعلے بلند ہو رہے تھے اور کچھ واضح نہیں ہو رہا تھا۔

’یہ ایک فوجی علاقہ ہے اور یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے اور اس وجہ سے بھی مشہور ہے کہ یہاں ملا عمر کی رہائش تھی۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ ’سرائے عمر‘ قندھار کے مضافات میں شمال میں ہے، اس کے ایک طرف ٹیلے ہیں جبکہ دوسری طرف قندھار شہر کی جانب راستہ جاتا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ امریکی حملے کے بعد یہ رہائش گاہ امریکی اور نیٹو فورسز کے زیرِ استعمال تھیں اور امریکہ کے افغانستان سے انخلا کے بعد یہ دوبارہ افغان طالبان کے کنٹرول میں آ گئی تھی۔

نائن الیون کے بعد امریکہ کے افغانستان پر حملے کے بعد ملا عمر روپوش ہو گئے تھے، اس دوران متعدد مواقع پر یہ اطلاعات آتی رہیں کہ شاید وہ مارے گئے ہیں، لیکن طالبان کی جانب سے اس کی تردید کی جاتی رہی۔

آخرکار اگست 2015 میں افغان طالبان نے ملا عمر کی موت کی تصدیق کی تھی۔ اس سے پہلے جولائی 2015 میں افغان صدر کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق ’انھیں مستند اطلاعات کی بنیاد پر یقین ہے کہ ملا عمر کی موت اپریل 2013 میں ہو گئی تھی۔‘

Kandhar
Getty Images
اکتوبر 2001 میں امریکہ نے اپنے ابتدائی حملوں میں اس رہائش گاہ پر ریڈ کی تھی، بعدازاں طالبان مخالف دھڑے کے جنگجو اس کمپاؤنڈ میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ (فوٹو دسمبر 2001)

’یہ طالبان کے لیے غیر معمولی علامتی اہمیت رکھتا ہے‘

افغان اُمور کے تجزیہ کار سمیع یوسفزئی کہتے ہیں کہ ملا عمر کا قندھار میں واقع گھر طالبان اور طالبان حکومت کے لیے غیر معمولی علامتی اور تاریخی اہمیت رکھتا ہے۔

بی بی سی نیوز اُردو سے گفتگو کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ اکتوبر 2001 میں افغانستان کی جنگ کے ابتدائی مرحلے کے دوران امریکہ نے سب سے پہلے اسی گھر کو نشانہ بنایا تھا۔

اُن کے بقول 1999 میں قندھار کے وسط میں واقع اپنی رہائش گاہ پر ٹرک بم حملے کے بعد ملا عمر اس گھر میں منتقل ہو گئے تھے اور بظاہر اس گھر کی لاگت اسامہ بن لادن نے ادا کی تھی۔

’2001 میں طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد اس کمپاؤنڈ کو امریکی سپیشل فورسز نے بھی مقامی کارروائیوں کے لیے استعمال کیا۔ چونکہ یہ طالبان کے بانی کا گھر تھا، اس لیے یہ مقام تحریک کے لیے اضافی علامتی اہمیت کا حامل ہے۔‘

سمیع یوسفزئی کہتے ہیں کہ اُن کی بھی کچھ مقامی رہائشیوں سے بات ہوئی ہے، جن کا کہنا ہے کہ وہ دہائیوں سے قندھار میں رہتے ہیں، لیکن ’اُنھوں نے اتنی شدت کے دھماکے پہلے نہیں سنے۔‘

’قندھار کو وسیع پیمانے پر نشانہ بنانا بھی اہم ہے‘

سمیع یوسفزئی کہتے ہیں کہ اس کمپاؤنڈ کو مبینہ طور پر نشانہ بنانے کی اہمیت دو الگ وجوہات کی بنا پر بڑھ جاتی ہے: ایک، اس کا ملا عمر اور طالبان کی تاریخ کے ساتھ علامتی تعلق اور دوسری، اس کی موجودہ عسکری اہمیت۔

’قندھار کو نشانہ بنایا جانا بھی اہم ہے کیونکہ یہ طالبان کا سیاسی اور نظریاتی مرکز ہے اور یہی وہ جگہ ہے جہاں سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ موجود ہیں۔‘

اُن کے بقول ’اگر حملے کی شدت اور مقام کے بارے میں اطلاعات درست ہیں تو میری توقع ہے کہ طالبان کو جانی نقصان اٹھانا پڑا ہوگا۔ تاہم، طالبان اب تک کسی بڑے نقصان کا اعتراف کرنے سے گریز کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ جانی نقصان کو چھپانا یا کم ظاہر کرنا حملے کے عسکری اور سیاسی اثرات کے تاثر کو بھی کم کر سکتا ہے۔‘

سمیع یوسفزئی کہتے ہیں کہ ’پاکستان نے ابھی تک طالبان کی اعلیٰ ترین قیادت کو براہِ راست نشانہ نہیں بنایا، لیکن اگر صورتِحال مزید خراب ہوتی ہے تو کہیں زیادہ خطرناک منظرنامہ سامنے آ سکتا ہے۔‘

’ممکن ہے طالبان خود بمباری سے زیادہ پریشان نہ ہوں۔ ان کی بڑی تشویش یہ ہو سکتی ہے کہ پاکستانی فضائی حملوں کا تسلسل، اور اس کے ساتھ عوامی بے چینی میں اضافہ، پہلے ہی طالبان کی حکمرانی کے تحت مشکلات کا شکار عام افغانوں کو ان کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے پر آمادہ کر سکتا ہے۔‘

اُن کے بقول دوسرے الفاظ میں، ’طالبان کا خوف شاید صرف پاکستان کی جانب سے مزید بمباری نہیں ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ طویل بمباری افغانستان کے اندر کیا ردِعمل پیدا کر سکتی ہے۔‘

ملا عمر کون تھے؟

Taliban
Getty Images

ملا عمر نے سنہ 1994 میں قندھار میں ہی طالبان کی بنیاد رکھی تھی اور اس لحاظ سے قندھار کو طالبان کا روحانی مرکز بھی سمجھا جاتا ہے۔

ملا عمر نے اسامہ بن لادن کو افغانستان میں پناہ دی تھی، وہ بھی ایک ایسے وقت میں جب ان کے پاس دنیا بھر میں چھپنے کی کوئی جگہ نہیں بچی تھی۔

افغانستان میں ہی اسامہ نے ورلڈ ٹریڈ سینٹر کو تباہ کرنے کا منصوبہ بنایا۔ اس حملے میں قریب تین ہزار لوگ مارے گئے۔

ملا عمر پر لکھی گئی کتاب کی مصنفہ اور ڈچ صحافی بیٹی ڈیم کے مطابق ’ہر طرف ملا عمر کی صرف ایک تصویر دیکھی گئی۔'‘

’اس تصویر کے مصدقہ ہونے پر بھی اتفاق رائے نہیں۔ کوئی اعتماد سے نہیں کہہ سکتا کہ یہ تصویر ملا عمر کی ہی ہے۔‘

افغانستان میں طالبان حکومت کے قیام کے بعد سنہ 1996 میں ملا عمر کو ’امیر المومنین‘ کا خطاب دیا گیا تھا اور امریکی حکام نے ملا عمر کے سر کی قیمت ایک کروڑ ڈالر مقرر کی ہوئی تھی۔

جب طالبان اقتدار میں تھے تو ملا عمر شاذ و نادر ہی جنوبی شہر قندھار میں واقع اپنی اس رہائش گاہ سے نکلتے تھے۔

کسی بھی مغربی صحافی کی ملا عمر سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی۔ اُنھوں نے بیرونی دنیا سے رابطے کا تقریباً تمام تر کام اپنے وزیرِ خارجہ وکیل احمد متوکل کے سپرد کر رکھا تھا۔

بی بی سی سے وابستہ رہنے والے صحافی رحیم اللہ یوسفزئی دنیا کے ان چند لوگوں میں سے ہیں جنھوں نے سنہ 1995 میں قریب سے ملا عمر کو دیکھا۔

بیٹی ڈیم لکھتی ہیں کہ ’ملا عمر نے یوسفزئی کا استقبال کیا۔ وہ اکثر بی بی سی پشتو سروس پر انھیں سنتے تھے۔ لیکن انٹرویو دینے میں ہچکچاہٹ ظاہر کرتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ وہ مائیک پر نہیں بول سکتے۔ انھوں نے زندگی بھر ایک بھی انٹرویو نہیں دیا تھا۔‘


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US