پاکستان میں غیرملکیوں سمیت سوشل میڈیا انفلوئنسرز پر ٹیکس: اشیا، سفری سہولتیں اور خدمات بھی آمدن شمار ہوں گی، ایف بی آر

ایف بی آر کے ترجمان کے مطابق سوشل میڈیا انفلوئنسرز کی آمدن کا حساب لگانے کا طریقہ کار صرف یوٹیوب تک محدود نہیں بلکہ تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے حاصل ہونے والی آمدن کا احاطہ کرتا ہے۔ قواعد میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم کی وسیع تعریف کی گئی ہے اور کسی بھی شکل میں حاصل ہونے والے معاوضے کو اس میں شامل کیا گیا ہے۔
سوشل میڈیا انفلوئنسر ڈیبرا لیا
Reuters

پاکستان میں ٹیکس پالیسیاں نافذ کرنے اور ٹیکس وصولی کے ذمہ دار ادارے فیڈرل بورڈ آف ریوینیو (ایف بی آر) نے غیر ملکیوں سمیت سوشل میڈیا انفلوئنسرز کی آمدنی اور اس پر ٹیکس کا حساب لگانے کے متعلق نئے قواعد جاری کر دیے ہیں۔

ایف بی آر کی جانب سے 23 ستمبر کو جاری کردہ نوٹیفکیشنز کے مطابق انکم ٹیکس آرڈیننس کے سیکشن 99 ’سپیشل پراسیجر‘ کے تحت سوشل میڈیا کے ذریعے آمدن کمانے والے افراد کو ٹیکس نیٹ میں شامل کیا گیا ہے۔

نئے قواعد کے تحت کسی بھی مالی سال کے لیے سوشل میڈیا مواد سے آمدن کا تعین کرنے کے لیے مجموعی معاوضے میں سے آمدن کے زیادہ سے زیادہ 30 فیصد اخراجات منہا کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔

مجموعی آمدنی کا حساب کیسے لگایا جائے گا؟

ایف بی آر کا کہنا ہے کہ مجموعی آمدن کا حساب لگانے کے لیے دو طریقے وضع کیے گئے ہیں۔

صحافی تنویر ملک سے بات کرتے ہوئے ایف بی آر کے ترجمان نے بتایا کہ نئے قواعد کے تحت ’آمدن کا تعین دو اعداد میں سے زیادہ رقم کی بنیاد پر کیا جائے گا: یا تو ویوز کی تعداد کو حکومت کی جانب سے مقرر کردہ 195 روپے فی ہزار ویوز یا ریوینیو پر مائل (آر پی ایم) کی شرح سے ضرب دے کر حاصل ہونے والی رقم، یا حقیقت میں نقد یا اشیا و خدمات کی صورت میں حاصل ہونے والی رقم۔‘

آر پی ایم سے مراد یوٹیوب پر شیئر کی گئی ویڈیو کے ہر ایک ہزار ویوز پر ہونے والی کل آمدن ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ویوز کی تعداد عوامی طور پر دستیاب ہوتی ہے اور اس کی آزادانہ طور پر تصدیق کی جا سکتی ہے۔ ’اس لیے تخلیق کار کی جانب سے ظاہر کی جانے والی آمدن اس مقررہ حد سے کم نہیں ہو سکتی، تاوقتیکہ وہ کم آمدن کا ثبوت کمشنر کے سامنے پیش نہ کرے۔‘

تاہم خیال رہے کہ بیشتر کانٹینٹ کریئیٹرز کی جانب سے روزانہ کی بنیاد پر ویڈیوز جاری کی جاتی ہیں ایک، ایک کر کے جن کے ویوز کی گنتی کرنا کافی مشکل کام ہے۔

ایف بی آر کے مطابق اس شرح میں وقتاً فوقتاً تبدیلی کی جا سکتی ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ سپانسرز کی جانب سے اشیا، سفری سہولیات یا خدمات کی صورت میں ملنے والی ادائیگیوں کو بھی ان کی منصفانہ مارکیٹ ویلیو کے مطابق آمدن تصور کیا جائے گا۔ یہ انکم ٹیکس آرڈیننس کی دفعہ 18 (1)(d) کے تحت آمدن میں شامل ہے۔

نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ اگر کوئی انفلوئنسر مؤقف اختیار کرتا ہے کہ اسے حقیقت میں موصول ہونے والا معاوضہ آر پی ایم کے تحت متعین رقم سے کم ہے تو اسے اپنے دعوے کے حق میں ثبوت ٹیکس کمشنر کو فراہم کرنے ہوں گے۔

نئے قواعد کے تحت اس طریقۂ کار کے دائرہ کار میں آنے والے ہر شخص کے لیے سہ ماہی بنیادوں پر پیشگی انکم ٹیکس کی ادائیگی بھی لازم ہو گی۔

ایف بی آر کا کہنا ہے کہ اگر ظاہر کی گئی آمدن خصوصی طریقۂ کار کے تحت متعین ہونے والی رقم سے کم ہو تو متعلقہ کمشنر ٹیکس گوشوارے میں موجود کمی یا غلطی کی درستی کر سکتا ہے اور واجب الادا رقم وصول کر سکتا ہے۔

influencers
Getty Images

’نئے قوائد غیر مقیم افراد بشمول غیر ملکیوں پر بھی لاگو ہوں گے‘

ٹیکس وصولی کے ادارے نے غیر مقیم افراد کے لیے بھی ایک نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے انکم ٹیکس رولز میں ایک علیحدہ بابفائیو اے (VA) شامل کیا گیا ہے۔

ایف بی آر کے ترجمان نے اس سلسلے میں بتایا کہ غیر مقیم افراد میں غیر ملکی شہریوں کے ساتھ ساتھ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی بھی شامل ہیں۔

یہ نوٹیفکیشن اُن غیر مقیم افراد پر لاگو ہوگا جو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے پاکستان میں موجود صارفین کے ساتھ باہمی تعامل سے آمدن حاصل کرتے ہیں، بشرطیکہ یہ آمدن انکم ٹیکس آرڈیننس کی دفعہ 101 کے متعلقہ ضوابط کے تحت پاکستان سے حاصل شدہ آمدن شمار ہو اور مقررہ حد پر پورا اترتی ہو۔

ایف بی آر نے ’ڈیجیٹل ذرائع کے ذریعے کاروباری سرگرمیوں کی منظم اور مسلسل ترغیب یا صارفین کے ساتھ تعامل‘ کے لیے حد مقرر کی ہے۔ اس کے مطابق ہر وہ شخص اس طریقۂ کار کے دائرے میں آئے گا جس کے ایک ٹیکس سال کے دوران 50 ہزار سے زیادہ یوزرز ہوں یا کسی ایک سہ ماہی میں 12 ہزار 250 سے زیادہ صارفین ہوں۔

اہل قرار پانے والے غیر مقیم افراد پر بھی آمدن کے تعین کا بنیادی طریقہ وہی لاگو ہو گا جو دیگر افراد کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔ انکم ٹیکس آرڈیننس کے سیکشن 101 (3B) کی ذیلی شق (b) کے تحت ’ڈیجیٹل ذرائع کے ذریعے کاروباری سرگرمیوں کی منظم اور مسلسل ترغیب یا صارفین کے ساتھ تعامل‘ سے مراد:

ایسی لین دین یا سرگرمیوں سے متعلق معاہدہ پاکستان میں طے یا دستخط کیا گیا ہو؛

غیر مقیم شخص کی رہائش یا کاروباری مقام پاکستان میں ہو؛ یا

غیر مقیم شخص پاکستان میں خدمات فراہم کرتا ہو۔

ایف بی آر کی جانب سے یوٹیوب کے علاوہ دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے ہونے والی آمدنی اور اس پر ٹیکس کا حساب کیسے لگایا جائے گا، نوٹیفکیشن میں اس حوالے سے کوئی معلومات دستیاب نہیں ہیں۔

’نیا طریقہ کار صرف یوٹیوب تک محدود نہیں‘

ایف بی آر کے ترجمان کے مطابق سوشل میڈیا انفلوئنسرز کی آمدن کا حساب لگانے کا طریقہ کار صرف یوٹیوب تک محدود نہیں بلکہ تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے حاصل ہونے والی آمدن کا احاطہ کرتا ہے۔ قواعد میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم کی وسیع تعریف کی گئی ہے اور کسی بھی شکل میں حاصل ہونے والے معاوضے کو اس میں شامل کیا گیا ہے۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ تمام پلیٹ فارمز سے نقد یا اشیا و خدمات کی صورت میں حاصل ہونے والی حقیقی آمدن ظاہر کرنا ضروری ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ یوٹیوب کو ویوز کی بنیاد پر آمدن کا تخمینہ لگانے کے لیے بطور معیار استعمال کیا گیا ہے کیونکہ وہاں تخلیق کاروں کو فی ویو ادائیگی کی جاتی ہے جس کی پیمائش ممکن ہے۔ تاہم، مقرر کردہ شرح میں مستقبل میں تبدیلی کی جا سکتی ہے۔

Social influencer
Getty Images
علامتی تصویر۔

سوشل میڈیا سے آمدن کیسے حاصل ہوتی ہے؟

پاکستان میں موبائل فون اور انٹرنیٹ تک رسائی نے نوجوانوں کے لیے نہ صرف تعلیم، آگاہی اور تفریح کے نئے مواقع پیدا کیے ہیں بلکہ ایک ایسے ملک میں جہاں روزگار کے مواقع کم ہیں وہاں ڈییجٹل پلیٹ فارمز نے انھیں آمدنی کے نئے ذریعے بھی مہیا کیے ہیں۔

ویڈیوز شیئرنگ پلیٹ فارم یوٹیوب ملک میں کانٹینٹ کریئیٹرز کے لیے آمدن کا بڑا ذریعہ ہے۔

یوٹیوب کی مانیٹائیزیشن کے لیے ضروری ہے کہ ایک سال میں چینل پر سبسکرائبرز کی تعداد کم از کم ایک ہزار ہو اور کم سے کم چار ہزار گھنٹے ویڈیوز واچ ٹائم (دیکھنے کا دورانیہ) پورا ہو چکا ہو۔ اگر کوئی چینل ان شرائط پر پورا اترتا ہے تو وہ مانیٹائیزیشن کے لیے درخواست دے سکتا ہے۔

گوگل پاکستان کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ایک ہزار چینلز ایسے ہیں جن کے سبسکرائبرز کی تعداد دس لاکھ ہے جبکہ ایک لاکھ سے زائد سبسکرائبرز والے 13 ہزار یوٹیوب چینلز موجود ہیں۔ اس کے علاوہ 95 ہزار چینلز ایسے ہیں جن کے سبسکرائبرز کی تعداد 10 ہزار سے زیادہ ہے۔

بی بی سی کی رواں برس جون میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق گوگل کے کنٹری ڈائریکٹر فرحان قریشی نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ پاکستانی کانٹینٹ بنانے والوں کی ویڈیوز بڑی تعداد میں پاکستان سے باہر بھی دیکھی جاتی ہیں۔ اُن کے مطابق یہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستانی تخلیق کار دنیا سے مخاطب ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

دنیا کے مختلف ممالک میں یوٹیوب کا ادائیگی کا ریٹ مختلف ہے۔

Social media
Getty Images

’ایف بی آر کی جانب سے عائد آر پی ایم کی شرح غیر حقیقت پسندانہ ہے‘

محمد طلال سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہینڈل کرتے ہیں اور پاکستان کے ایک نجی چینل کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ان کا مونیٹائزشن کا کام دیکھتے ہیں۔

ان کے مطابق ایف بی آر کے لیے کسی بھی کانٹینٹ کریئیٹر کے ویوز معلوم کرنا تقریباً ناممکن ہے کیونکہ ڈیش بورڈ کا ڈیٹا پرائیوٹ ہوتا ہے اور اسے وہی دیکھ سکتا ہے جس کا اکاؤنٹ ہو یا جسے اکاؤنٹ ہولڈر اس تک رسائی دے۔

ان کا کہنا ہے کہ ایف بی آر کی طرف سے عائد کردہ 195 روپے کا آر پی ایم امریکی ڈالر میں تقریباً 70 سینٹ بنتا ہے جو کہ بہت زیادہ ہے۔ ’شاذ و نادر ہی ایسا ہوتا ہے کہ یوٹیوب پر کسی ویڈیو پر ہزار ویوز پر ایک ڈالر ملے کیونکہ پاکستانی خطے یا آڈیئنس پر سی پی ایم بہت کم ہے۔‘

طلال کہتے ہیں کہ ان کے تجربے کے مطابق فیس بک سے ہونے والی آمدنی اس سے کہیں کم ہے۔

’ایف بی آر کی جانب سے عائد کردہ آر پی ایم کی شرح غیر حقیقت پسندانہ ہے۔‘

انھوں نے سوال کیا کہ کیا ایف بی آر یہ چاہتی ہے کہ کانٹینٹ کریئیٹرز یوٹیوب سے جو کما رہے ہیں وہ سب کا سب انھیں دے دیں؟

وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ جولائی میں نئے مالی سال کے آغاز کے بعد سے حکومت بینکنگ ذرائع سے آنے والی ادائیگیوں پر وڈہولڈنگ ٹیکس کاٹ رہی ہے۔ ان کے مطابق فائلرز سے پانچ فیصد جبکہ نان فائلرز پر اس کٹوتی کی شرح 10 فیصد ہے۔

یاد رہے کہ حکومت نے فنانس بِل 2025-26 میں ڈیجیٹل مواد تخلیق کرنے والوں (کنٹینٹ کری ایٹرز) اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز کو یوٹیوب، فیس بک، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک جیسے پلیٹ فارمز سے موصول ہونے والی آمدنی پر ودہولڈنگ ٹیکس کا نظام متعارف کروایا تھا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ سمجھنا بھی تھوڑا مشکل ہے کہ ایف بی آر ایسے اکاؤنٹس جن کے پیسے پاکستان میں آتے ہی نہیں، ان پر کیسے ٹیکس عائد کریں گے۔

’مختلف طرح کے مواد کا آر پی ایم الگ ہوتا ہے‘

عمران احمد ایک ڈیجٹیل میڈیا ایجنسی سے وابستہ سٹرٹیجیسٹ ہیں۔

رواں سال جون میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا تھا کہ پاکستان میں یوٹیوب کا آر پی ایم (ریوینیو پر مائل) ایک ہزار ویوز پر چھ امریکی سینٹ ہے یعنی اگر کسی ویڈیو پر دس لاکھ ویوز آئے تو اس پر 600 ڈالر آمدن ہو گی۔

عمران احمد بتاتے ہیں کہ مختلف طرح کے مواد کا آر پی ایم الگ الگ ہوتا ہے جیسے ٹیکنالوجی اور تعلیم پر بننے والی ویڈیوز کا ریٹ زیادہ ہے۔

خیال رہے سی پی ایم سے مراد کاسٹ پر مائل ہے اور یہ وہ رقم ہے جو ایڈورٹائزر ہر ایک ہزار ویوز پر ادا کرتے ہیں جبکہ اس میں سے پلیٹ فارم فیس ادا کرنے کے بعد جو رقم کانٹینٹ کریئیٹرز کو ملتی ہے وہ آر پی ایم کہلاتی ہے۔

عمران احمد کے مطابق یوٹیوبرز کی نئی ویڈیوز کے ساتھ پرانی ویڈیوز بھی سرکولیشن میں رہتی ہیں، اُن پر نئے ویوز آتے رہتے ہیں اور آمدن ہوتی رہتی ہے۔

عمران کا کہنا ہے کہ ایک ماہ کی آمدنی میں نئی اور پرانی ویڈیو سے ہونے والی کمائی کا تناسب 40 اور 60 فیصد ہوتا ہے۔

پاکستان میں یوٹیوب کے علاوہ فیس بک بھی کانٹینٹ کریئیٹرز میں کافی مشہور ہے۔ فیس بک نے کچھ سال قبل ہی پاکستان میں مانٹیائزیشن پالیسی شروع کی لیکن پاکستان میں فیس بک کا ریٹ بہت کم ہے۔

ٹاک ٹاک کی تاحال پاکستان کے لیے مانیٹائیزیشن پالیسی نہیں اور پاکستانی کانٹینٹ بنانے والے بیرونِ ملک اس کی رجسٹریشن کے ذریعے ہی مانیٹائیزیشن کر سکتے ہیں۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US