چترال کے قریب افغان سرحدی علاقوں میں طالبان فورسز کی مخالف گروہ کے ساتھ جھڑپوں میں ہلاکتوں کے دعوے، ’اے ایف ایف‘ نامی گروپ کیا ہے؟

افغان کے مشرقی صوبے نورستان سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق سنیچر کی علی الصبح طالبان حکومت کا اپنے ایک مخالف گروہ کے ساتھ صوبے کے ضلع کامدیش کے گوردیش علاقے میں تصادم ہوا، جب جنگجوؤں نے طالبان حکومت کے سرحدی محافظوں کو اس وقت نشانہ بنانے کی کوشش کی جب وہ ایک پہاڑی راستے سے گزر رہے تھے۔
Afghan Taliban
Getty Images
افغان طالبان اور مخالف دھڑے کے درمیان رواں برس جولائی اور اگست میں بھی جھڑپیں ہوتی رہی ہیں

افغانستان میں طالبان مخالف مسلح گروہ افغانستان فریڈم فرنٹ (اے ایف ایف) نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کی سرحد سے ملحقہ صوبوں کنڑ اور نورستان میں طالبان حکومت کی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں پانچ طالبان جنگجو مارے گئے ہیں جبکہ 10 زخمی ہوئے ہیں۔

افغانستان کے مشرقی صوبے نورستان سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق سنیچر کی علی الصبح طالبان حکومت کا اپنے ایک مخالف گروہ کے ساتھ صوبے کے ضلع کامدیش کے گوردیش علاقے میں تصادم ہوا، جب جنگجوؤں نے طالبان حکومت کے سرحدی محافظوں کو اس وقت نشانہ بنانے کی کوشش کی جب وہ ایک پہاڑی راستے سے گزر رہے تھے۔

یہ علاقہ پاکستان اور افغانستان کی سرحد کے قریب واقع ہے اور چترال سے متصل ہے۔ طالبان فورسز اور اے ایف ایف کے درمیان رواں برس مختلف مواقع پر جھڑپوں میں فریقین ایک دوسرے کو بھاری نقصان پہنچانے کے دعوے کرتے رہے ہیں۔

طالبان حکومت کے ایک ذریعے نے بی بی سی کو بتایا کہ ’مخالفین کے اس گروہ کو سختی سے کچل دیا گیا ہے اور متعدد ہلاک ہو گئے ہیں اور کچھ کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔‘

ذریعے نے بی بی سی کو بتایا کہ ’نورستان کے ضلع کامدیش میں ڈیورنڈ لائن کے قریب شرپیٹ اور لنڈی پیٹ علاقوں میں خصوصی فورسز اور پاکستانی ملیشیاؤں، داعش اور ایک فساد پسند گروہ کے درمیان جھڑپ ہوئی۔ ان گروہوں کے 10 سے زائد جنگجو مارے گئے جبکہ چھ دیگر کو زندہ گرفتار کر لیا گیا۔‘

بی بی سی کو موصول ہونے والی ویڈیوز میں کئی افراد کو طالبان حکومت کی فورسز کے ہاتھوں تفتیش کا سامنا کرتے دیکھا جا سکتا ہے، جن میں سے ایک نے اپنے آبائی صوبے کا نام غور جبکہ دوسرے نے پروان بتایا۔

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس گروہ میں افغانستان کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے افراد شامل تھے۔

طالبان اور اس کے مخالف دھڑے کے درمیان جھڑپیں ایسے وقت میں ہوئی ہیں، جب حال ہی میں پاکستانی فورسز اور افغان طالبان کے درمیان بھی جھڑپیں بھی ہوئی ہیں۔

تصویر
AFP via Getty Images

طالبان کے زیرِ اثر علاقوں پر قبضے کا دعویٰ

افغانستان فریڈم فرنٹ (اے ایف ایف) کی جانب سے ’ایکس‘ پر جاری کیے گئے بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کامدیش میں اے ایف ایف کمانڈوز کے مضبوط ٹھکانوں پر طالبان کی جانب سے زمینی فورسز اور ڈرونز کے ذریعے حملہ کیا گیا۔ تاہم بھاری جانی نقصان اٹھانے کے بعد طالبان فورسز کو پسپائی اختیار کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔

اے ایف ایف کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس نےنورستان کے ضلع کامدیش اور صوبہ کنڑ کے ضلع ناری کے بعض علاقے طالبان کے کنٹرول سے آزاد کروا لیے ہیں۔

اے ایف ایف کے مطابق جھڑپوں کے دوران اسلحے، ساز و سامان، ڈرونز اور فوجی مورچوں کی بڑی مقدار بھی اے ایف ایف کمانڈوز کے قبضے میں آ گئی ہے۔

اے ایف ایف کے مطابق اس سے پہلے جمعرات کو سرپل میں پولیس ڈسٹرکٹ آفس کو نشانہ بنایا گیا جس میں تین طالبان جنگجو مارے گئے۔

علاقے کے ایک رہائشی نے بتایا کہ ’یہ آدھی رات کا وقت تھا جب ان لوگوں نے حملہ کیا اور حکومتی فوجی بھی ہلاک ہوئے۔‘

تاہم طالبان حکومت نے اب تک اپنی جانب ہونے والے جانی نقصانات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

’فریڈم فرنٹ‘ نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ اس کے جنگجوؤں نے طالبان فورسز کے خلاف زمینی حملوں کے ساتھ ساتھ ڈرونز بھی استعمال کیے ہیں۔

طالبان حکومت کے سکیورٹی ادارے پہلے بھی یہ الزام عائد کرتے رہے ہیں کہ پاکستان نے ان کے مخالفین کو اپنے زیرِ کنٹرول علاقوں میں پناہ دے رکھی ہے اور چترال میں ان کے تربیتی مراکز موجود ہیں۔

پاکستان کی حکومت اور فوج طالبان حکومت کے ان الزامات کی تردید کرتی رہی ہے اور یہ الزام عائد کرتی ہے کہ افغانستان میں سرگرم مسلح گروپ سرحد عبور کر کے پاکستان میں کارروائیاں کرتے ہیں۔

اسی حوالے سے پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے حال ہی میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کیے جانے کا الزام عائد کیا تھا۔

اُنھوں نے کہا تھا کہ طالبان حکومت کے حکام کو یہ یقینی بنانا چاہیے کہ ان کی سرزمین پاکستان اور باقی دنیا کے خلاف استعمال نہ ہو۔

تاہم طالبان حکومت اس بات کی تردید کرتی ہے کہ پاکستان میں لڑنے والے جنگجوؤں اور دیگر غیر ملکی گروہ افغانستان میں موجود ہیں۔

Afghanistan
Getty Images

اے ایف ایف کیا ہے؟

’افغانستان فریڈم فرنٹ‘، زیادہ تر افغانستان کی سابق حکومت کے فوجی اہلکاروں پر مشتمل ہے اور اس کی قیادت سابق حکومت کی فوج کے جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل یاسین ضیا کر رہے ہیں۔

یہ اس سے پہلے بھی مختلف صوبوں میں طالبان فورسز کی پوزیشنوں پر متعدد حملوں کی ذمہ داری قبول کر چکا ہے۔

طالبان فورسز اور اے ایف ایف کے درمیان رواں برس جولائی اور اگست میں بھی جھڑپیں ہو چکی ہیں۔

اس محاذ نے اس سے قبل بھی دعویٰ کیا تھا کہ اس کے افراد نے جولائی میں بدخشاں کے ضلع زیباک میں طالبان حکومت کی فورسز کی پوزیشنوں پر ’اچانک حملے‘ کیے۔

افغانستان کے شمال مشرق میں واقع بدخشاں ایک اہم صوبہ ہے جس کی سرحدیں تاجکستان، چین اور پاکستان سے ملتی ہیں


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US