بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے شہر اجین میں تاریخی شاہی مسجد کو مبینہ طور پر مسمار کیے جانے کی کارروائی کے خلاف سیکڑوں مسلمان مسجد کے اندر جمع ہوگئے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ وہ مسجد کو بچانے کے لیے گزشتہ دو ہفتوں سے احتجاج کر رہے ہیں اور اب بڑی تعداد میں لوگ باری باری مسجد کے اندر موجود رہنے کا فیصلہ کر چکے ہیں۔
گزشتہ رات مسجد کے اطراف پولیس کی بھاری نفری بڑھا دی گئی، ریپڈ ایکشن فورس بھی تعینات کی گئی جبکہ بلڈوزر بھی وہاں پہنچائے گئے۔ تاہم مسجد کے اندر اور باہر بڑی تعداد میں لوگوں کی موجودگی کے باعث انتظامیہ کو کارروائی روکنا پڑی۔
احتجاج میں شریک مسلمانوں کا کہنا ہے کہ وہ مسجد کے تحفظ کے لیے پرامن طور پر وہاں موجود رہیں گے۔ ان کے مطابق لوگوں نے فیصلہ کیا ہے کہ مختلف شفٹوں میں بڑی تعداد مسجد کے اندر موجود رہے گی تاکہ تاریخی مسجد کو مسمار ہونے سے بچایا جا سکے۔
شاہی مسجد کا کچھ حصہ 2028 میں ہونے والے ہندوؤں کے مذہبی میلے ’سمہاستھا کمبھ‘ سے قبل سڑک کو چوڑا کرنے کے منصوبے کی زد میں آیا ہے۔ اسی منصوبے کے تحت مسجد کے متاثرہ حصے کو مسمار کرنے کے لیے نشان زد کیا گیا ہے۔
مقامی افراد کے مطابق جب انتظامیہ نے کارروائی کے لیے مشینری اور اضافی پولیس اہلکار تعینات کیے تو مسجد کے اندر اور باہر لوگوں کی بڑی تعداد جمع ہوگئی۔ شدید مزاحمت کے بعد انتظامیہ کو رات گئے کارروائی روکنا پڑی، جبکہ مسلمان مسجد کے اندر موجود رہ کر اپنا احتجاج جاری رکھے ہوئے ہیں۔